تہران:ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے منگل کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ قطر کے آئل ٹینکر "الرقیات" کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے مبینہ طور پر امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمان کے راستے سے گزرنے کی کوشش کی اور ایران کی جانب سے دی گئی متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔
آئی آر آئی بی نے ایران کے دیرینہ مؤقف کو بھی دہرایا کہ "آبنائے ہرمز کی صورتحال امریکی حملے سے پہلے جیسی نہیں ہو سکتی۔"
رپورٹ میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایران کی جانب سے مقرر کردہ راستوں پر ہی چلنا ہوگا۔ بصورت دیگر ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز تنظیم یو کے ایم ٹی او نے بتایا کہ اسے عمان کے قریب آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے سے جنوب کی جانب سفر کرنے والے ایک آئل ٹینکر سے اطلاع ملی کہ اسے کسی نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی۔
ادھر امریکی حکام کے حوالے سے ایکسیوس نے رپورٹ کیا کہ ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کم از کم 2 میزائل داغے۔
رپورٹ کے مطابق ایک جہاز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنا جبکہ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایک دوسرے تجارتی جہاز کو بھی ایرانی میزائل نے نشانہ بنایا۔
دونوں جہازوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایکسیوس کے مطابق یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کے لیے طے پانے والے ایک ہفتے کے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد کیے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایرانی اہداف پر جوابی حملوں کا امکان ہے۔
اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملے پر کسی اہم پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔
تازہ واقعہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر پہلے ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کئی روز سے جاری جوابی کارروائیوں کے سلسلے کی نئی کڑی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام کی مکمل ذمہ داری ایران کو حاصل ہے۔ ایران نے عمان کے سمندری علاقے میں امریکہ کی حمایت سے مجوزہ بحری راہداری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔