علی خامنہ ای کی سرکاری نماز جنازہ اور آخری رسومات ایران میں مؤخر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-03-2026
علی خامنہ ای کی سرکاری نماز جنازہ اور آخری رسومات ایران میں مؤخر
علی خامنہ ای کی سرکاری نماز جنازہ اور آخری رسومات ایران میں مؤخر

 



 تہران: ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وفات کے بعد عوام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تہران میں تین روزہ عوامی تقریب منعقد کی جائے گی۔

ایران کی اسلامی تبلیغاتی کونسل کے سربراہ حجت الاسلام محمودی کے مطابق الوداعی تقریبات تین دن تک جاری رہیں گی جبکہ جنازے کے جلوس کے بارے میں اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تقریب بدھ کی رات تہران کے امام خمینی مصلیٰ میں منعقد ہونا تھی تاہم اسے مؤخر کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ممبئی میں ایران کے قونصل خانے نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران کی مجلس خبرگان نے نئی قیادت کے لیے کسی امیدوار کا انتخاب کر لیا ہے۔ قونصل خانے کے مطابق اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور ان کا کوئی سرکاری ذریعہ نہیں۔

ادھر وزارت خارجہ روس کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خطے میں مسلح تصادم کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس شروع سے ہی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور روسی صدر ولادیمیر پوتن متعدد عرب رہنماؤں سے رابطے کر چکے ہیں۔ زاخارووا نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران پر حملوں کے بعد ممکنہ تابکاری خطرات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت امریکہ کے “امریکہ فرسٹ” بیانیے کے برعکس ہے۔

ادھر اسلامی تعاون تنظیم نے ایران کے ایک بیلسٹک میزائل کے ذریعے ترکی کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی مذمت کی ہے۔

توانائی کے حوالے سے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ یورپی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ یورپی گیس رابطہ گروپ نے برسلز میں اجلاس کے بعد کہا کہ فوری طور پر سپلائی کو خطرہ نہیں تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔

دوسری جانب بھارت کی وزارت خارجہ نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ امریکی بحریہ ایران پر حملوں کے لیے بھارتی بندرگاہوں کو استعمال کر رہی ہے۔ وزارت نے ان دعوؤں کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا۔

الجزیرہ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر پانچ روزہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔