ایران کو تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کھولنا ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 28-03-2026
ایران کو تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کھولنا ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
ایران کو تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کھولنا ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

 



 واشنگٹن: گزرنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کو امن معاہدے کی جانب پیش رفت کے لیے آبنائے ہرمز کو تیل کی ترسیل کے لیے کھولنا ہوگا۔ تہران کی تردید کے باوجود انہوں نے جمعے کے روز ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے اور کئی ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران پسپائی اختیار کر رہا ہے اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ تہران کی قیادت بحریہ فضائیہ اور ایٹمی پروگرام کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

میامی میں سعودی عرب کے تعاون سے منعقدہ ایف آئی آئی پرائرٹی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور اگر کوئی پیش رفت ہو جائے تو یہ ایک مثبت قدم ہوگا لیکن اس کے لیے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا ہوگی۔

انہوں نے خطے میں استحکام کے لیے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات قطر اور بحرین کے رہنماؤں کی کوششوں کو سراہا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو انہوں نے ایک عظیم شخصیت اور قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے ولی عہد پر فخر ہونا چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے بھی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے لیے اس اتحاد میں رہنا ضروری نہیں ہے۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر باہمی دفاعی معاہدوں کے حوالے سے امریکی عزم پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انہوں نے یورپی نیٹو ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے چوتھے ہفتے میں انہوں نے امریکہ کو مادی مدد فراہم نہیں کی جس پر انہیں مایوسی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے لیکن اگر وہ ساتھ نہ دیں تو پھر امریکہ کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

اس سے قبل کابینہ اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا ایک ممکنہ آپشن ہو سکتا ہے جیسا کہ امریکہ نے وینزویلا کے معاملے میں کیا تھا حالانکہ جنگ ابھی جاری ہے۔

یاد رہے کہ تنازع سے پہلے آبنائے ہرمز عالمی جہاز رانی کے لیے کھلی تھی لیکن اب اس اہم آبی گزرگاہ پر آمد و رفت مکمل طور پر رک چکی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران آبنائے ہرمز میں گزرنے والے بحری جہازوں پر مستقل ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔