اصفہان :اصفہان کے گورنر علی احمدی نے تصدیق کی ہے کہ صوبے میں غیر ملکی حمایت یافتہ بدامنی کے دوران 30 سکیورٹی اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق انہوں نے اتوار کو کہا کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ پیر کے روز ادا کی جائے گی۔
گورنر علی احمدی نے بتایا کہ تشدد کے واقعات میں شہری بھی متاثر ہوئے جن میں ایک دو ماہ کا شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان ہنگاموں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اصفہان میں 10 مساجد کو نذر آتش کر دیا گیا۔
ملحقہ صوبے فارس میں بھی کم از کم 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ پریس ٹی وی نے صوبائی شہداء فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل ابراہیم بیانی کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
علاوہ ازیں پولیس اسپیشل یونٹس کے کمانڈر جنرل مسعود مودق نے اتوار کو بتایا کہ ان کے یونٹ کے 8 اہلکار بھی بدامنی کے دوران مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان اہلکاروں کی آخری رسومات پیر کو ہوں گی جو مسلح حملوں اور دہشت گردی کے خلاف ملک گیر احتجاجی ریلی کے ساتھ ہم آہنگ ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی جانی نقصان جن میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری شامل ہیں کا حتمی اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں طبی اور امدادی مراکز کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
پریس ٹی وی نے بتایا کہ شمالی صوبے گیلان میں ہلال احمر کا ایک رضاکار ان حملوں میں ہلاک ہوا جبکہ دیگر علاقوں میں الگ الگ واقعات میں ہلال احمر کے 5 کارکن زخمی ہوئے۔
ایرانی حکام نے ایک بار پھر کہا کہ معاشی مشکلات کے خلاف پرامن احتجاج جائز ہے اور اس کا حل نکالا جائے گا تاہم تشدد اور تخریب کاری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے مہنگائی اور ریال کی قدر میں شدید کمی کے باعث عوامی غصے کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے مرکزی بینک اور تیل کی برآمدات پر عائد یکطرفہ امریکی پابندیوں کو قرار دیا۔
سکیورٹی اور عدالتی حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ کئی مسلح دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کر کے ختم کیا گیا ہے اور غیر ملکی روابط رکھنے والے عناصر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ امریکی اور اسرائیلی شخصیات نے تشدد کو ہوا دی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پرامن مظاہرین کو نقصان پہنچا تو واشنگٹن ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے بیانات کی بھی نشاندہی کی گئی جن میں اسرائیلی خفیہ اداروں اور علیحدگی پسند منصوبوں کا ذکر تھا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ تخریب کاروں کے سامنے ہرگز پسپا نہیں ہوگی اور غیر ملکی آلہ کاروں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔