اسلام آباد : ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی منگل کے روز اسلام آباد پہنچ گئے جہاں وہ امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے سلسلے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ان کا پاکستان کا تیسرا دورہ ہے جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
عراقچی اس سے قبل روس اور عمان سمیت کئی ممالک کا دورہ کر چکے ہیں اور حالیہ دورہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان موجودہ صورتحال میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو ممکن بنانے میں۔
اس سے پہلے عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی جہاں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ عراقچی کے مطابق یہ ملاقات ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری رہی جس میں امریکہ اور اسرائیل سے متعلق جنگ اور کشیدگی کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ انہوں نے ایران اور روس کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ تنازع میں روس کی حمایت ایران کے لیے اہم رہی ہے۔
روسی قیادت نے بھی خطے میں امن کی بحالی کی کوششوں کی حمایت کا عندیہ دیا اور امید ظاہر کی کہ جلد استحکام بحال ہو جائے گا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نئی تجویز زیر غور ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی کے خاتمے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے میں شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتی سطح پر سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور مختلف ممالک اس تنازع کو کم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔