تہران: ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے بحیرۂ عمان میں ایرانی تجارتی جہاز پر امریکی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز توسکا کو قبضے میں لے لیا گیا ہے، یہ بیان ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ جارح امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور سمندری قزاقی کا ارتکاب کرتے ہوئے بحیرۂ عمان میں ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، اس پر فائرنگ کی اور اپنے فوجیوں کو جہاز پر اتار کر اس کے نیویگیشن نظام کو ناکارہ بنا دیا۔
ایرانی حکام نے خبردار کیا کہ تہران اس اقدام کا جواب دے گا اور جلد امریکی فوج کی اس مسلح قزاقی کا بھرپور بدلہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے بحیرۂ عرب میں ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز توسکا کو اس وقت روکا جب وہ امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بندر عباس کی جانب جا رہا تھا۔
امریکی بیان کے مطابق گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس سپروانس نے جہاز کو روکا اور متعدد انتباہات جاری کیے لیکن عملے نے چھ گھنٹے تک ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
بعد ازاں جہاز کے انجن روم کو خالی کرایا گیا اور سپروانس نے اپنے پانچ انچ کے ایم کے پینتالیس گن سے فائرنگ کر کے جہاز کی نقل و حرکت کو ناکارہ بنا دیا۔
امریکی حکام کے مطابق بعد میں امریکی میرینز نے جہاز پر چڑھ کر اسے اپنی تحویل میں لے لیا جہاں وہ اب بھی موجود ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی جہاز توسکا کو مکمل طور پر امریکی تحویل میں لے لیا گیا ہے جب اس نے خلیج عمان میں ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے جہاں امریکہ نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور سمندری آمد و رفت میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔
ادھر ایران نے امریکہ کے ساتھ دوسرے دور کے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ممکنہ بات چیت کی رپورٹس محض میڈیا کا کھیل ہیں۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں پر مشتمل جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔