تہران : ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منگل کے روز اپنے سربراہ علی لاریجانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی جب اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خدا کے نیک بندے ڈاکٹر علی لاریجانی نے شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے اور محافظ بھی جاں بحق ہوئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بسیج نیم فوجی فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی اسی حملے میں مارے گئے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ایران اور اسلامی انقلاب کی خدمت میں پوری زندگی گزاری اور بالآخر شہادت کی آرزو پوری کی۔
فارس اور تسنیم نیوز ایجنسیوں کے مطابق علی لاریجانی اور غلام رضا سلیمانی کی تدفین بدھ کی صبح تہران میں کی جائے گی۔ ایران کی انقلابی گارڈز نے بھی ایک علیحدہ بیان میں غلام رضا سلیمانی کی موت کی تصدیق کی۔
دوسری جانب اسرائیل میں بھی کشیدگی برقرار رہی۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق تل ابیب کے قریب ایک ایرانی میزائل حملے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔ امدادی ٹیموں نے بتایا کہ ایک عمارت سے دھواں اٹھ رہا تھا اور موقع پر موجود افراد شدید زخمی حالت میں پائے گئے جنہیں بعد میں مردہ قرار دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق علی لاریجانی ایران کی حکومتی پالیسیوں خصوصاً علاقائی حکمت عملی اور دفاعی معاملات میں ایک اہم کردار ادا کرتے تھے۔ ان کی ہلاکت کو ایران کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے مناظر میں دیکھا گیا کہ تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔ یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب عام طور پر نوروز سے قبل جشن کی تقریبات جاری ہوتی ہیں تاہم اس بار فضا قدرے سوگوار رہی۔
ادھر اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایک اور کارروائی میں فلسطینی اسلامی جہاد کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے ان حملوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اسرائیلی فوجی قیادت کی جانب سے مزید کارروائیوں کے اشارے بھی دیے گئے ہیں جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
علی لاریجانی کی ہلاکت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔