ڈھاکہ۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے ہائی کمشنر دنیش ترویدی نے پیر کو بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان سے ملاقات کی۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے 5 اگست کو نئی دہلی سے کیے گئے ورچوئل خطاب کے بعد سفارتی کشیدگی کے درمیان یہ ایک اہم سفارتی رابطہ ہے۔یہ ملاقات ایک دن بعد ہوئی جب ترویدی نے اتوار کو بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمن سے بھی الگ ملاقات کی تھی۔ خلیل الرحمن آج کی ملاقات میں بھی موجود تھے۔
ہائی کمشنر کی وزیر خارجہ سے ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے بھارت سے دیے گئے بیانات کے باعث ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ دنوں میں سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔یہ سفارتی رابطہ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی 5 اگست کو نئی دہلی میں ہونے والی ورچوئل پریس بات چیت کے بعد ہوا ہے۔ یہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں ان کی حکومت سے بے دخلی کی دوسری برسی کا موقع تھا۔ حسینہ کے اس خطاب پر ڈھاکہ نے سخت اعتراض بھی کیا تھا۔
اپنے خطاب میں حسینہ نے کہا کہ وہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جانے کے عزم پر قائم ہیں تاکہ جمہوریت بحال کرکے ملک کو درست سمت پر لایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ واپسی پر انہیں قید یا سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سخت احتجاج درج کرایا اور ان بیانات کی مذمت کی۔ وزارت نے کہا کہ اس واقعے سے عوامی جذبات متاثر ہوئے ہیں اور دو طرفہ تعاون کو بہتر بنانے کی کوششیں پیچیدہ ہوئی ہیں۔
اتوار کو ڈھاکہ میں بھارتی ویزا درخواست مرکز میں بچوں کے گوشے کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترویدی نے طارق رحمان کے ساتھ اپنی ملاقات سے قبل امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔بھارتی ہائی کمشنر نے کہا کہ جب 2 رہنما آپس میں ملاقات کرتے ہیں تو بہت سے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ بات چیت کے ذریعے مسائل سلجھائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مکمل اعتماد ہے کہ عوام دونوں ممالک کے ساتھ ہیں اور مسئلے کا حل ضرور نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کچھ بھی منفی نہیں ہے بلکہ سب کچھ مثبت ہے۔
طارق رحمان کے بارے میں ترویدی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے وزیر اعظم کا سب بہت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے طارق رحمان کی کئی تقریریں سنی ہیں اور وہ دل سے بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق طارق رحمان عوام سے جڑے ہوئے رہنما ہیں اور بھارت کے وزیر اعظم بھی عوام سے جڑے ہوئے ہیں۔5 اگست کو بھارت سے حسینہ کے بیانات کے بعد ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات پر ایک بار پھر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ یہ بیان ساؤتھ ایشیا کے غیر ملکی نامہ نگاروں کے کلب کی جانب سے نئی دہلی میں منعقدہ ایک نجی پروگرام کے دوران دیا گیا تھا۔
حسینہ 5 اگست 2024 کو سیاسی بحران کے بعد بنگلہ دیش سے فرار ہوکر بھارت آگئی تھیں۔ اس سیاسی ہلچل کے نتیجے میں ان کا طویل عرصے سے جاری وزیر اعظم کا دور ختم ہوگیا تھا۔بھارت نے حسینہ کی اس سرگرمی سے خود کو الگ رکھا ہے۔ نئی دہلی نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا اس پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ مذکورہ پروگرام ایک نجی میڈیا ادارے کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس فورم پر ظاہر کیے جانے والے کسی بھی موقف کی تائید کرتی ہے۔یہ ملاقات ایسے وقت میں بھی ہوئی ہے جب بھارت نے بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کو ستمبر میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ وہ اس وقت بیمسٹیک کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے یہ دعوت حاصل کر رہے ہیں۔