نئی دہلی: ہندوستان نے سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور اقتصادی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ سعودی عرب میں مبینہ حملوں سے متعلق میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ہندوستان نے سعودی عرب کی خودمختار سرزمین پر ہونے والے حملوں، خاص طور پر شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔‘‘
جیسوال نے مزید کہا کہ اس طرح کی جارحانہ کارروائیاں ’’علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں، جو ناقابل قبول ہے۔‘‘ نئی دہلی کا یہ موقف سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی مذمت کے بعد سامنے آیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے ابہا، جازان، خمیس مشیط اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی مذمت کی تھی۔
ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 شہری زخمی ہوئے۔ ریاض نے ایکس پر جاری بیان میں بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو مسلسل نشانہ بنانے اور بین الاقوامی بحری راستوں کو لاحق خطرات کی بھی مذمت کی۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا، ’’مملکت نے برادر ملک یمن اور اس کے عرب و اسلامی اطراف کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے اور تمام امن کی کوششوں کو مسلسل مسترد کرنے والی اس ملیشیا کی دشمنانہ روش اور مجرمانہ طرز عمل کو واضح طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے۔‘‘
سعودی وزارت خارجہ نے اپنی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسے اپنی سرزمین کے تحفظ، اہم تنصیبات کی حفاظت اور شہریوں و رہائشیوں کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔
وزارت نے علاقائی جارحیت کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر بھی زور دیا۔ بیان میں مزید کہا گیا، ’’مملکت نے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے بے گناہ شہریوں اور شہری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنانے کے نتائج سے خبردار کیا ہے اور ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی ہر قسم کی کشیدگی اور بحری آمدورفت کی سلامتی کو لاحق مسلسل خطرات کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘‘ سعودی عرب نے عالمی برادری سے فیصلہ کن کارروائی کی اپیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بالخصوص قرارداد 2216 اور 2722، پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔