برسلز: ہندوستان نے اپنی روایتی خارجہ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطین کی اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر مبنی کوششوں سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی سکریٹری سری پریہ رنگناتھن نے پیر کے روز برسلز میں منعقدہ فلسطین ڈونر گروپ کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کا یہ مؤقف پیش کیا۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں یورپی یونین، اس کے رکن ممالک، فلسطین، بین الاقوامی شراکت داروں اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلسطینی اتھارٹی کے لیے مالی تعاون اور فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی فراہمی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سری پریہ رنگناتھن نے کہا کہ ہندوستان طویل عرصے سے فلسطینی عوام کا ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے۔
انہوں نے فلسطین کے لیے دو ریاستی حل اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے ہندوستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ہندوستان ایک ایسے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین بین الاقوامی قانون کے مطابق تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر امن اور سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں۔
سری پریہ رنگناتھن نے فلسطین میں ہندوستان کی ترقیاتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک وہاں صلاحیت سازی، انسانی امداد اور مختلف ترقیاتی منصوبوں میں مسلسل تعاون فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کے منصوبے مقامی ضروریات کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور ان کی توجہ بنیادی طور پر صحت، تعلیم، صلاحیت سازی اور پیشہ ورانہ تربیت پر مرکوز ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ہندوستان اس وقت فلسطین میں صحت، خواتین کو بااختیار بنانے اور ادارہ جاتی ترقی سے متعلق کئی اہم منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ برسلز اجلاس کے دوران سری پریہ رنگناتھن نے فلسطینی عوام کی مزید مدد کے لیے بحالی، صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق کئی نئے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔