برازیلیا: وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق کامرس سیکریٹری راجیش اگروال نے برازیلیا میں ہندوستان-برازیل آٹھویں ٹریڈ مانیٹرنگ میکانزم (TMM) اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، جہاں دونوں ملکوں نے اہم تجارتی شرائط کو جلد حتمی شکل دینے اور ہندوستانی ادویات کے لیے برازیل کی مارکیٹ تک زیادہ رسائی فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت برازیل کی سیکریٹری خارجہ تجارت تاتیانا لارڈیسا پرازیریس کے ساتھ کی گئی۔
اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ 2025-26 میں دو طرفہ تجارت 15.07 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ دونوں ممالک نے 2030 تک باہمی تجارت کو 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کا اعادہ کیا اور تجارت میں تنوع کے لیے ادویات، کیمیکلز، انجینئرنگ مصنوعات اور مشینری کو اہم شعبوں کے طور پر نشان زد کیا۔
راجیش اگروال نے برازیل کے وزیر برائے ترقی، صنعت، تجارت و خدمات مارسیو ایلیاس روزا سے بھی ملاقات کی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں وفود نے ہندوستان-مرکوسور (MERCOSUR) کے درمیان موجود ترجیحی تجارتی معاہدے کو وسعت دینے اور جدید بنانے کے لیے شرائطِ کار پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ 2025 میں ہندوستان اور مرکوسور بلاک کے درمیان دو طرفہ تجارت 20.84 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ دونوں فریقوں نے ان شرائط کو جلد حتمی شکل دینے کا عزم کیا۔ ادویات کی تجارت کو آسان بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
India and Brazil convened the 8th Trade Monitoring Mechanism (TMM) meeting in Brasilia, co-chaired by Commerce Secretary Shri @RajeshAgrawal94, Ministry of Commerce & Industry, Government of India and Ms. Tatiana Prazeres, Secretary of Foreign Trade, MIDC, Government of Brazil,… pic.twitter.com/50fLbDPw3w
— Dept of Commerce, GoI (@DoC_GoI) August 29, 2026
اس سلسلے میں فروری 2026 میں ہندوستان کی سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) اور برازیل کی نیشنل ہیلتھ سرویلنس ایجنسی (ANVISA) کے درمیان طے پانے والے مفاہمت نامے کو بنیاد بنایا گیا۔ ہندوستانی وفد نے کہا کہ یہ فریم ورک مارکیٹ میں داخلے کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے ایک ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزارت نے کہا کہ ’’ہندوستان نے زیادہ قابلِ پیش گوئی ضابطہ جاتی طریقہ کار اور مارکیٹ تک زیادہ رسائی کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘‘ وزارت کے مطابق ہندوستان سستی اور معیاری ادویات کی دستیابی میں تعاون کر سکتا ہے اور زیادہ قابلِ رسائی صحت خدمات کی کوششوں کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں دونوں ملکوں نے ترجیحی نباتاتی و حیوانی صحت سے متعلق درخواستوں کے تکنیکی جائزے میں پیش رفت کی، تاکہ مقررہ مدت کے اندر باہمی رعایتیں دی جا سکیں۔
دونوں فریقوں نے الیکٹرانک سرٹیفکیٹس آف اوریجن کی باہمی منظوری کے سلسلے میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ چھوٹی، انتہائی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں، کاروبار اور دستکاری کے شعبوں میں معاہدوں پر بھی بات ہوئی، جن کا مقصد سرحد پار کاروباری طریقہ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔ کثیر ملکی سطح پر دونوں ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم (WTO)، جی 20 اور برکس کے پلیٹ فارمز پر باہمی تعاون جاری رکھنے کی توثیق کی۔
ہندوستان نے برازیل کی جانب سے ’برکس اکنامک پارٹنرشپ 2030‘ کی حکمت عملی اور ’GVC ایکشن پلان 2026-2030‘ میں شرکت کو سراہا، جبکہ برازیل نے ’برکس اسٹارٹ اپ نالج ہب‘ اور ’برکس بزنس انکیوبیٹر‘ جیسے ہندوستانی اقدامات کو تسلیم کیا۔ سرکاری مذاکرات کے ساتھ برازیلیا میں ہندوستان-برازیل اعلیٰ سطحی بزنس ریسیپشن بھی منعقد ہوا۔ راجیش اگروال نے 25 سے زائد بڑی کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل ہندوستانی کاروباری وفد کی قیادت کی۔
اس میں کرلوسکر گروپ، یو پی ایل اور آدتیہ برلا گروپ سمیت متعدد اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ وفد نے اہم معدنیات، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل خدمات، لاجسٹکس اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لیا۔ دونوں ممالک نے نئی دہلی میں ApexBrasil کے دفتر کے قیام کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے براہ راست سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔
برازیل لاطینی امریکہ کے خطے میں ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت 15.21 ارب امریکی ڈالر رہی۔ ہندوستان کی برازیل کو برآمدات 8.35 ارب ڈالر جبکہ برازیل سے درآمدات 6.86 ارب ڈالر رہیں۔ اس طرح تجارتی توازن ہندوستان کے حق میں 1.49 ارب ڈالر رہا۔