نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کیے۔ تاکائچی بھارت کے سرکاری دورے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنی ’’خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری‘‘ کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ حیدرآباد ہاؤس پہنچنے سے قبل جاپانی وزیراعظم کا راشٹرپتی بھون میں سرکاری استقبال کیا گیا، جہاں انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔
وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہماری خصوصی شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی کا راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبال کیا گیا۔ یہ مستقبل کی ایسی شراکت داری ہے جو باہمی اعتماد اور مشترکہ اقدار پر قائم ہے۔‘‘ استقبالیہ تقریب کے دوران وزیراعظم مودی نے جاپانی وزیراعظم کا اپنی کابینہ کے ارکان اور دیگر معزز شخصیات سے تعارف کرایا۔
اس سے قبل نئی دہلی پہنچنے پر جاپانی حکومت نے بھارت کے دورے پر خوشی کا اظہار کیا۔ جاپانی کابینہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے ایک پوسٹ میں کہا، ’’گرمجوش استقبال پر ہم دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم بھارت کے اس دورے کے لیے بے حد پُرجوش ہیں۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں بتایا گیا کہ رسمی استقبالیہ تقریب کے بعد وزیراعظم سانائے تاکائچی اور وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان سربراہی ملاقات کا آغاز ہو گیا۔
سانائے تاکائچی وزیراعظم مودی کی دعوت پر یکم سے 3 جولائی تک بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ 16ویں بھارت-جاپان سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گی، جہاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلۂ خیال ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ سربراہی اجلاس دونوں رہنماؤں کو اسٹریٹجک، اقتصادی، تکنیکی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس دورے میں سرمایہ کاری، اختراع، اقتصادی تعلقات کے فروغ اور سیمی کنڈکٹرز و اہم معدنیات جیسے شعبوں میں مضبوط سپلائی چین کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بحری سلامتی، دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون اور خلیجِ بنگال کو بھارت کے شمال مشرقی خطے سے جوڑنے والی ’’انڈسٹریل ویلیو چین‘‘ کی ترقی بھی زیرِ غور آئے گی۔ تاکائچی کے بھارت-جاپان بزنس فورم میں شرکت کی بھی توقع ہے، جہاں دونوں ممالک کی حکومتوں اور صنعتوں کے