واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی فوجیوں کو ہلاک کرتا ہے تو یہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی ایک مضبوط وجہ ہوگی۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’اگر انہوں نے امریکی فوجیوں کو قتل کیا تو جنگ دوبارہ شروع کرنے کی اچھی وجہ ہوگی۔ ایران کے پاس نہ بحریہ باقی ہے اور نہ فضائیہ۔ ہم نے ان کی قیادت کو بھی ختم کر دیا ہے۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بحری بیڑے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، ’’ان کے 159 جہاز سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں اور ہمارے پاس اس کے تصویری شواہد بھی موجود ہیں۔‘‘
دریں اثنا، صدر ٹرمپ نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے منظور کی گئی قرارداد پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے اس ووٹنگ کو ’’بے معنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران کیا گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر لکھا کہ چار ریپبلکن اراکین اور تمام ڈیموکریٹس نے ان کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جو ایک غیر محب وطن اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مخالفین ملک کی کامیابی کے بجائے ان کی سیاسی ناکامی دیکھنا چاہتے ہیں۔
بدھ کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان نے 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے ایک قرارداد منظور کی جس کا مقصد ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے لیے صدر کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی۔
یہ قرارداد اب سینیٹ میں پیش کی جائے گی، تاہم مبصرین کے مطابق اسے صدر کے ویٹو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ ووٹنگ اس لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد پہلی مرتبہ کانگریس نے صدر ٹرمپ کے اختیارات کو چیلنج کیا ہے۔