واشنگٹن ڈی سی ::امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے دوران امریکہ ایران کے تیل پر قبضہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی مرضی ہوتی تو وہ سب سے پہلے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر فیصلہ کرتے۔وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران ٹرمپ سے ایران کے تیل کے بارے میں سوال کیا گیا جس پر انہوں نے وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ وہاں سے بھی بڑی مقدار میں تیل حاصل کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان کا اختیار ہوتا تو وہ اس معاملے کو کاروباری نظر سے دیکھتے کیونکہ وہ خود کو سب سے پہلے ایک بزنس مین سمجھتے ہیں۔ٹرمپ نے جنگ کے بعد حاصل ہونے والے وسائل کے بارے میں کہا کہ فاتح کو ہی مال غنیمت حاصل ہوتا ہے اور امریکہ کو بھی اس اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دیگر ممالک کی تعمیر نو میں مدد کی۔
انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جاپان آسٹریلیا جنوبی کوریا اور نیٹو نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ جاپان میں 50000 اور جنوبی کوریا میں 45000 فوجی تعینات کیے ہوئے ہے تاکہ ان ممالک کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔دوسری جانب انہوں نے خلیجی ممالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب قطر متحدہ عرب امارات بحرین اور کویت نے بہترین تعاون کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور یہ کارروائی جلد بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف وسیع فضائی مہم چلائی ہے جس میں 10000 سے زائد پروازیں کی گئیں اور 37 دنوں میں 13000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ نے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ڈیڈ لائن دی ہے جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔