یروشلم : امریکا اور اسرائیلی افواج کی جانب سے جاری شدید فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور برقرار ہے جہاں آپریشن رونگ لایٔن اور آپریشن ایپک فیوری کے تحت ایران اور لبنان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی مشترکہ کارروائیاں مزید جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل براڈ کوپر نے واضح کیا ہے کہ یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیکڑوں لڑاکا طیاروں اور جنگی جہازوں نے ایران اور لبنان میں بیک وقت سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا۔ آئی ڈی ایف کے مطابق آپریشن کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فضائیہ تقریباً 300 ایرانی میزائل لانچروں کو ناکارہ بنا چکی ہے۔
دفاعی حکمت عملی کے تحت اسرائیلی فضائیہ ایرانی حکومت کے بیلسٹک میزائل نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کے خلاف پے در پے حملے کر رہی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایرانی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے مسلسل جاری رہیں گی۔
جنوبی محاذ پر اسرائیل نے حزب اللہ کے زیر انتظام مقامات کے خلاف بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔ آئی ڈی ایف کے مطابق جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 60 اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں اسلحہ گودام میزائل لانچر کمانڈ سینٹر اور صور اور صیدا کے علاقوں میں حزب اللہ اور حماس سے وابستہ دیگر تنصیبات شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ مقامات ان کے فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
آئی ڈی ایف نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں ایک ایسے مقام پر بھی حملہ کیا گیا جسے اس نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا مرکز قرار دیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق منزادہی نامی خفیہ کمپاؤنڈ میں جوہری سائنس دانوں کا ایک گروپ کام کر رہا تھا جو جوہری ہتھیاروں کے ایک اہم حصے کی تیاری میں مصروف تھا۔ آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس مقام کی سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی اور ایران کی جوہری صلاحیت کے ایک اہم جز کو ختم کر دیا گیا۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل براڈ کوپر نے بریفنگ میں کہا کہ امریکا یہ کارروائیاں بند نہیں کرے گا اور ایران کی جوابی حملے کی صلاحیت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق 100 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں تقریباً 2000 اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور ایران کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ سینکڑوں بیلسٹک میزائل لانچر اور ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 17 ایرانی جہاز تباہ کیے گئے ہیں جن میں ایک فعال آبدوز بھی شامل ہے اور اس وقت خلیج عرب آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں کوئی ایرانی جہاز سرگرم نہیں ہے۔
ایڈمرل کوپر نے کہا کہ امریکی فضائیہ ایران کے اندر بڑے پیمانے پر حملے کر رہی ہے اور دنیا کی دو طاقتور فضائی افواج امریکا اور اسرائیل ایرانی فضائی حدود پر غلبہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن انہیں مکمل یقین ہے کہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر وہ اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیں گے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری یہ تنازع چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔