واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بین الاقوامی قانون کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے نیٹو اور گرین لینڈ پر بات کی اور ملکیت کے تصور پر خاص زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ جب تک وہ صدر ہیں چین تائیوان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
نیو یارک ٹائمز کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ان کی عالمی طاقت کی کوئی حد ہے تو امریکی صدر نے کہا کہ صرف ان کا اپنا ذہن ہی انہیں روک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی چیز ہے جو مجھے روک سکتی ہے اور وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا ذہن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مجھے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں لوگوں کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتا۔
جب ان سے مزید سوال کیا گیا کہ کیا ان کی حکومت کو بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے تو ٹرمپ نے کہا کہ میں خود اس کا فیصلہ کرتا ہوں۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ یہ وہی طے کریں گے کہ کب اور کہاں ایسی پابندیاں امریکہ پر لاگو ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ بین الاقوامی قانون کی تعریف کیا کرتے ہیں۔
چین اور تائیوان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے جب ان سے کہا گیا کہ شی جن پنگ تائیوان کو چین کے لیے علیحدگی پسند خطرہ سمجھتے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو میں بہت ناخوش ہوں گا اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین ایسا قدم نہیں اٹھائے گا۔
چین اور تائیوان کے درمیان حالیہ پیش رفت اور تائیوان کا گلا گھونٹنے کے خدشے پر ٹرمپ نے کہا کہ جب تک وہ صدر ہیں چینی صدر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کسی اور صدر کے آنے کے بعد وہ ایسا کریں لیکن میرے صدر رہتے ہوئے ایسا نہیں ہوگا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی ترجیح نیٹو کا تحفظ ہے یا گرین لینڈ کا حصول تو ٹرمپ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا لیکن یہ تسلیم کیا کہ یہ ایک انتخاب ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکیت بہت اہم ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ انہیں کسی خطے کی ملکیت کیوں چاہیے ٹرمپ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ یہ کامیابی کے لیے نفسیاتی طور پر ضروری محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکیت آپ کو وہ چیزیں دیتی ہے جو محض لیز یا معاہدے سے حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ ان کے مطابق صرف کسی دستاویز پر دستخط کرنے سے وہ عناصر حاصل نہیں ہوتے جو ملکیت سے ملتے ہیں۔
یورپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہیں گے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ یورپ اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ہی وہ شخص ہوں جس نے نیٹو پر یورپی ممالک کو اپنی مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ خرچ کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نیٹو اور روس کو دیکھا جائے تو روس کو امریکہ کے سوا کسی اور ملک سے کوئی خاص تشویش نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں یورپ کے ساتھ بہت وفادار رہا ہوں اور میں نے اچھا کام کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ نہ ہوتے تو روس اس وقت پورے یوکرین پر قابض ہو چکا ہوتا۔
اس سے قبل جمعرات کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ یورپی رہنماؤں کو گرین لینڈ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ خطے میں دشمن طاقتیں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ نہ صرف امریکی میزائل دفاع بلکہ عالمی میزائل دفاع کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ وینس نے کہا کہ یورپ کو اپنی سلامتی کے معاملے میں زیادہ سنجیدہ ہونا ہوگا ورنہ امریکہ کو اس بارے میں کچھ کرنا پڑے گا۔