نئی دہلی: ہندوستانی حکومت نے واضح کیا ہے کہ سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے متعلق بدھ کو نئی دہلی میں ہونے والے مجوزہ میڈیا پروگرام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت نے کہا کہ یہ ایک نجی میڈیا ادارے کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے اور اس فورم پر پیش کیے جانے والے خیالات کی وہ تائید نہیں کرتی۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا، "جس پروگرام کا ذکر کیا جا رہا ہے، اسے ایک نجی میڈیا ادارہ منعقد کر رہا ہے۔ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہاں پیش کیے جانے والے خیالات کی حکومت توثیق کرتی ہے۔"
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش نے نئی دہلی میں فارن کوریسپونڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا (FCC) کے زیر اہتمام ہونے والے ایک پروگرام میں شیخ حسینہ کے 5 اگست کو مجوزہ ورچوئل خطاب پر تشویش ظاہر کی ہے۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بہتر ہوتے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ معاملہ پیر کے روز بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر اور ڈھاکہ میں ہندوستان کے نئے ہائی کمشنر دنیش ترویدی کے درمیان ملاقات میں بھی زیر بحث آیا۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں رندھیر جیسوال نے بتایا کہ فروری 2026 میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کو ہندوستان کے سرکاری دوطرفہ دورے کی دعوت دی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس کے سلسلے میں بھی طارق رحمان کو بمسٹیک (BIMSTEC) کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے نئی دہلی میں ہونے والے آؤٹ ریچ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ جیسوال کے مطابق، یہ دعوت برکس کی روایتی پالیسی کے تحت دی گئی ہے اور دیگر علاقائی تنظیموں کے سربراہان کو بھی اسی طرز پر مدعو کیا گیا ہے۔
ادھر بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ برکس اجلاس کی دعوت موصول ہو چکی ہے اور اسے غور و خوض کے لیے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیج دیا گیا ہے۔ حتمی فیصلہ وزیر اعظم ہی کریں گے۔ واضح رہے کہ 18واں برکس سربراہ اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔