تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان جمعہ کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے تہران سے روانہ ہوگئے۔ وہ آج ہی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کریں گے۔روانگی سے قبل ایرانی صدر نے کہا کہ برکس کا مقصد یک طرفہ پسندی کا مقابلہ کرنا ہے اور موجودہ سربراہی کانفرنس کا نعرہ بھی اسی مقصد کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دنیا کو اس مقصد کے مزید قریب لانے کے لیے مسلسل پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مسائل پیچیدہ ہیں اور دنیا میں بالادستی اور یک طرفہ پسندی کو کم کرنے کے لیے نئے طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق ہندوستان روانگی سے قبل صدر پزشکیان نے برکس سربراہی کانفرنس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آزادی خود انحصاری یکجہتی پائیداری مزاحمت اور جدت کانفرنس کے اہم موضوعات ہیں۔ اجلاس میں معاشی مالی صنعتی اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ برکس کے دائرہ کار میں ایک خصوصی بینک قائم کیا گیا ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری کی توقع ہے تاکہ رکن ممالک کے درمیان لین دین ڈالر پر انحصار کے بغیر انجام دیا جاسکے۔ ان کے مطابق اس سے ڈالر کے ذریعے امریکی بالادستی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ایرانی صدر اس سے قبل بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم مودی سے ملاقات کرچکے ہیں۔ جمعہ کو ہونے والی دو طرفہ ملاقات کے دوران دونوں رہنما ایران اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے شعبوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برکس سربراہی کانفرنس میں ایران کی شرکت چین روس برازیل ہندوستان اور دیگر ممالک کے حکام سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کا ایک اچھا موقع ہے۔
اس سے قبل بشکیک میں ملاقات کے دوران وزیر اعظم مودی نے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔ انہوں نے برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیر ملکی تنظیموں میں ایران کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے ہندوستان کی آمادگی ظاہر کی تھی۔
وزیر اعظم مودی نے ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارتی راستوں کو وسعت دینے اور انہیں متنوع بنانے کے ہندوستان کے عزم کا بھی اظہار کیا تھا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش پر زور دیا۔