ریاض: سعودی عرب، اردن اور قطر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کیے گئے جامع امن منصوبے پر پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی افواج مکمل طور پر غزہ سے واپس جائیں اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آئے۔
جمعرات کو جاری کیے گئے مجوزہ منصوبے کے مطابق، تمام فریقوں کی باضابطہ منظوری کے بعد 14 دن کے اندر مرحلہ وار عمل درآمد شروع ہوگا۔ حکام کے مطابق یہ روڈ میپ پہلے سے طے شدہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کو آٹھ ماہ کے مذاکرات کے بعد مرحلہ وار نفاذ کی شکل دیتا ہے۔ یہ مذاکرات یرغمالیوں کی رہائی اور لاشوں کی واپسی کے بعد کیے گئے تھے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے غزہ میں اسلحے کے خاتمے سے متعلق صدر ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی قیادت کو سراہا اور مصر، قطر، ترکیہ، امریکہ اور بورڈ آف پیس سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ معاہدے پر بروقت، قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں عمل درآمد کیا جائے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور فلسطینی عوام تک انسانی امداد اور تعمیرِ نو کی بلا رکاوٹ فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ سعودی عرب نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کی غزہ میں واپسی اور فلسطینی علاقوں کے اتحاد کو برقرار رکھنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے لازمی ہے، اور یہ معاہدہ فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق، خصوصاً حقِ خود ارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب سیاسی عمل کا آغاز ہونا چاہیے۔
اردن کی وزارتِ خارجہ نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلحہ جمع کرانے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور دیگر مراحل پر مبنی منصوبے کی حمایت کی۔ اردن نے معاہدے کے تمام مراحل پر مقررہ مدت میں مکمل اور مؤثر عمل درآمد پر زور دیا۔ اردن نے کہا کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور بلا رکاوٹ اور پائیدار انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے۔ اردن نے ایک بار پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ امن معاہدہ دو ریاستی حل کی بنیاد بننا چاہیے، جس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
ادھر قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔ گفتگو کے دوران قطری وزیر اعظم نے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو مکمل کرنے کے روڈ میپ کو قبول کرنے کے حماس کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے انسانی مشکلات میں کمی آئے گی اور خطے میں استحکام پیدا ہوگا۔ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ وہ معاہدے کی شرائط پر عمل کرے، فلسطینی عوام کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں بند کرے، اور غزہ میں امن منصوبے کی تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔