غزہ :حماس نے حکومتی انتظامی کمیٹی تحلیل کر دی، ٹیکنوکریٹس کے اقتدار کی راہ ہموار

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 07-07-2026
غزہ :حماس نے حکومتی انتظامی کمیٹی تحلیل کر دی، ٹیکنوکریٹس کے اقتدار کی راہ ہموار
غزہ :حماس نے حکومتی انتظامی کمیٹی تحلیل کر دی، ٹیکنوکریٹس کے اقتدار کی راہ ہموار

 



 غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں گزشتہ دو دہائیوں سے قائم اپنی حکومتی انتظامی کمیٹی (گورننگ باڈی) کو تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد غیر سیاسی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیکنوکریٹ انتظامی کمیٹی کے اقتدار سنبھالنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

حماس کے عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتفاقِ رائے اور قومی مفاہمت کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حماس 2007 سے غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے، جب اس نے فلسطینی تنظیم فتح سے علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ سال ہونے والی جنگ بندی کے بعد حماس کئی مرتبہ یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ غزہ کے روزمرہ انتظامی امور سے الگ ہونے کے لیے تیار ہے، تاہم تنظیم کے ہتھیار برقرار رکھنے کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ ہے۔

حماس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی کمیٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور قومی اتفاقِ رائے سے منتخب ایک شخصیت کو عبوری طور پر اس کے امور کی نگرانی سونپی جائے، جب تک کہ فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹ کمیٹی باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل نہ ہو جائے۔

ادھر غزہ میں حماس کے میڈیا آفس نے پیر کو ایک اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے ایجنڈے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

حماس کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ تنظیم نے حالیہ دنوں قاہرہ میں ہونے والے اجلاس کے دوران دیگر فلسطینی دھڑوں کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ ان کے مطابق تمام فلسطینی جماعتوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قومی مفاہمت کی جانب ایک مثبت اور سنجیدہ پیش رفت قرار دیا۔

یاد رہے کہ مصر نے رواں سال جنوری میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے دوران 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تھا، جو ایک بین الاقوامی نگرانی کے نظام کے تحت غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے کی ذمہ دار ہوگی۔

تاہم یہ کمیٹی کئی ماہ سے غزہ سے باہر موجود ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں اس کے ارکان کے داخلے پر اعتراضات اٹھائے تھے، جس کے باعث وہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قاصر رہی۔

قاہرہ میں ثالثوں کی موجودگی میں حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے درمیان متعدد مذاکراتی دور ہوئے ہیں، جن میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے اپنے پاس موجود اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا، جبکہ اس کے بدلے اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو آزادی دی۔ تاہم دوسرے مرحلے، جس میں حماس کے ہتھیاروں، غزہ سے اسرائیلی افواج کے تدریجی انخلا اور مستقل امن کے اقدامات شامل ہیں، پر کئی ماہ سے پیش رفت تعطل کا شکار ہے۔