منیلا: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جمعرات کو فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان سے متعلق وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر برونائی اور پاپوا نیو گنی کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ تعاون، جدید ٹیکنالوجی، ترقیاتی شراکت داری اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔برونائی کے وزیر خارجہ شہزادہ عبدالمتین سے ملاقات کی تفصیلات ایکس پر شیئر کرتے ہوئے جے شنکر نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ تعاون، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں اور آسیان کے تحت اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی۔
دونوں رہنماؤں نے مصنوعی ذہانت، ڈرون اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس دوران ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے مطابق دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
جے شنکر نے لکھا۔"برونائی کے وزیر خارجہ شہزادہ عبدالمتین سے خوشگوار ملاقات ہوئی۔ انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد دی۔ میں نے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، بشمول مصنوعی ذہانت، ڈرون اور ڈیجیٹل شعبے، تعاون کے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ہم نے ہندوستان کی ایکٹ ایسٹ پالیسی کے مطابق دو طرفہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور آسیان کے تحت کثیر جہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔"
جے شنکر نے پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ڈبلیو ٹکاچینکو سے بھی ملاقات کی اور فورم فار انڈیا پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن کے ذریعے دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر گفتگو کی۔انہوں نے ایک الگ پوسٹ میں کہا۔"پاپوا نیو گنی کے وزیر خارجہ جسٹن ڈبلیو ٹکاچینکو سے ملاقات خوش آئند رہی۔ ہم نے دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا، جس میں فورم فار انڈیا پیسیفک آئی لینڈز کوآپریشن بھی شامل ہے۔ ہندوستان بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کی ترقی، صلاحیت سازی اور سمندری سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے لیے پوری طرح تیار ہے۔"
جے شنکر دو روزہ دورے پر منیلا میں ہیں جہاں انہوں نے آسیان۔ ہندوستان وزرائے خارجہ اجلاس، مشرقی ایشیا سربراہ اجلاس کے وزرائے خارجہ اجلاس اور آسیان ریجنل فورم کے اجلاسوں میں شرکت کی۔انہوں نے کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی شرکت کی جہاں ہندوستان، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا نے آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطے کے عزم کا اعادہ کیا اور آسیان کے مرکزی کردار کی حمایت کا اظہار کیا۔