واشنگٹن ڈی سی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد اس بات پر بے نیازی ظاہر کی ہے کہ آیا ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آتا ہے یا نہیں۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت “بہت خراب حالت” میں ہے اور “شدید دباؤ” کا شکار ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے میزائل ذخائر اور ان کی تیاری کی صلاحیت بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا، “مجھے نہیں معلوم اور نہ ہی مجھے پروا ہے کہ وہ واپس آتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ نہیں آتے تو بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کی فوج ختم ہو چکی ہے، ان کے میزائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور میزائل و ڈرون بنانے کی صلاحیت بھی تباہ ہو چکی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے نہیں کیے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے۔ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو “جھوٹا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزرگاہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا مگر ایسا نہیں کیا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہر ممکن طریقے سے ایران کو اس مقصد کے حصول سے روکے گا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی اگلے روز صبح 10 بجے سے نافذ کر دی جائے گی، جس کا مقصد ایران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اقدام میں دیگر ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں اور یہ نہایت مؤثر ثابت ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض جہاز متبادل راستوں سے تیل کی نقل و حمل کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اس صورتحال کو جلد درست کر لیا جائے گا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ امریکی بحریہ فوری طور پر آبنائے ہرمز میں داخل اور خارج ہونے والے جہازوں کو روکنے کا عمل شروع کرے گی تاکہ ایران کو اس راستے سے فائدہ اٹھانے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مستقبل میں تمام جہازوں کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ ناکہ بندی ضروری ہے کیونکہ ایران سمندری بارودی سرنگوں سے متعلق خدشات پیدا کر رہا ہے۔
دریں اثنا امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تصدیق کی کہ طویل بات چیت کے باوجود کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا، جس کے بعد وہ واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔