نئی دہلی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کرنے کا امکان نہیں، جمعرات کو خام تیل کے فیوچر کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زیادہ کمی درج کی گئی۔ ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر جولائی ڈیلیوری والے خام تیل کے معاہدے 110 روپے یا 1.56 فیصد گر کر 6,963 روپے فی بیرل پر آ گئے۔
اس دوران 19,121 لاٹس کا کاروبار ہوا۔ اسی طرح اگست ڈیلیوری کے معاہدے بھی 108 روپے یا 1.53 فیصد کی کمی کے ساتھ 6,970 روپے فی بیرل پر بند ہوئے، جن میں 3,860 لاٹس کا کاروبار ریکارڈ کیا گیا۔ تاجروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کے کمزور رجحان کے باعث حالیہ تیز اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع وصولی کی، جس سے قیمتوں پر دباؤ آیا۔
ترکیہ کے شہر انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ واشنگٹن اور تہران دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری رہنے کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر مزید حملے کیے گئے تو وہ آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے اور بھرپور طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ بین الاقوامی منڈی میں آئی سی ای ایکسچینج پر ستمبر ڈیلیوری والا برینٹ خام تیل گر کر 77.62 امریکی ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ اسی طرح نیویارک مرکنٹائل ایکسچینج (نائمیکس) پر اگست ڈیلیوری والا ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی کم ہو کر 73.14 امریکی ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
اس سے قبل خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی آئی تھی جب صدر ٹرمپ نے خلیج فارس میں نئے حملوں کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان قائم نازک جنگ بندی کو "ختم" قرار دیا تھا۔ ایکسس ڈائریکٹ کی سینئر ریسرچ اینالسٹ (کموڈیٹیز) دیویا گاگلانی نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی رفتار اس وقت محدود ہو گئی جب امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) نے بتایا کہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں 30 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ مارکیٹ کو 24 لاکھ بیرل کمی کی توقع تھی۔ ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال، خام تیل کے ذخائر کے اعداد و شمار اور عالمی طلب سے متعلق اشاروں کے باعث آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔