ہندستان اور اٹلی کی اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہوگئی: مودی اور میلونی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 20-05-2026
ہندستان اور اٹلی کی اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہوگئی: مودی اور میلونی
ہندستان اور اٹلی کی اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہوگئی: مودی اور میلونی

 



روم:وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ایک مشترکہ مضمون میں ہندستان اور اٹلی کے تعلقات کو ’’خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

’اٹلی اور ہندستان ۔ انڈو میڈیٹرینین کے لیے ایک اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کے عنوان سے شائع اس مشترکہ مضمون میں دونوں رہنماؤں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور یہ تعلقات آزادی اور جمہوریت جیسی مشترکہ اقدار اور مستقبل کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں۔مودی اور میلونی نے کہا کہ انڈو پیسیفک اور بحیرہ روم کے خطوں کو جوڑنے والا ’’انڈو میڈیٹرینین‘‘ تصور عالمی سیاست اور معیشت میں ایک نئے دور کی بنیاد بن رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ راہداری تجارت توانائی ٹیکنالوجی ڈیٹا اور اسٹریٹجک رابطوں کا ایک اہم مرکز بنے گی۔دونوں رہنماؤں نے عالمی نظام میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اقتصادی تعاون اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید بڑھانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ 21 ویں صدی میں خوشحالی اور سلامتی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ممالک کس طرح جدت توانائی کی منتقلی اور اسٹریٹجک خودمختاری کو مضبوط بناتے ہیں۔مضمون میں کہا گیا کہ اٹلی کی صنعتی اور مینوفیکچرنگ مہارت کو ہندستان کی بڑی معیشت جدید اختراعات اور انجینئرنگ صلاحیتوں کے ساتھ جوڑا جائے گا۔ دونوں ملکوں نے 2029 تک دوطرفہ تجارت کو 20 ارب یورو سے زیادہ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دفاع خلائی صنعت صاف توانائی مشینری دواسازی ٹیکسٹائل اور سیاحت جیسے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔رہنماؤں کے مطابق اس وقت 1000 سے زیادہ ہندستانی اور اطالوی کمپنیاں دونوں ملکوں میں سرگرم ہیں جس سے یورپ اور ایشیا کے درمیان سپلائی چین رابطے مضبوط ہورہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بھی مشترکہ وژن کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔مودی اور میلونی نے زور دے کر کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی ذمہ دارانہ اور انسان مرکز ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہندستان کے ’’مانو‘‘ وژن اور اٹلی کے ’’الگور ایتھکس‘‘ فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق یا جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

دونوں رہنماؤں نے خلائی ٹیکنالوجی سائبر سکیورٹی بحری سلامتی اور مضبوط بنیادی ڈھانچے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی دہشت گردی سائبر جرائم منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ کوششوں پر بھی زور دیا گیا۔توانائی کے شعبے میں دونوں ملکوں نے قابل تجدید توانائی گرین ہائیڈروجن اسمارٹ گرڈ اور پائیدار انفراسٹرکچر میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی بات کہی۔

مضمون میں ہندستان مشرق وسطیٰ یورپ اقتصادی راہداری یعنی آئی میک کی بھی حمایت کی گئی جسے ایشیا مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان ٹرانسپورٹ ڈیجیٹل نیٹ ورک توانائی اور سپلائی چین کو جوڑنے والا ایک تاریخی منصوبہ قرار دیا گیا۔مودی اور میلونی نے کہا کہ ہندستان کے ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ اور ’’دھرم‘‘ جیسے نظریات اٹلی کی انسان دوست فکری روایات سے ہم آہنگ ہیں۔دونوں رہنماؤں نے کہا کہ ان کا مشترکہ وژن عوام کو مرکز میں رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور مستقبل پر مبنی ہندستان اٹلی شراکت داری کی بنیاد رکھنا ہے۔