سیوٹا:مراکش اور اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوٹا کی سرحد پر مہاجرین کے غیر معمولی ہجوم کے دوران کم از کم 57 افراد ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق زیادہ تر اموات اس وقت ہوئیں جب ہزاروں افراد نے زمینی اور سمندری راستوں سے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی اور متعدد افراد ڈوب گئے۔رپورٹ کے مطابق جمعرات کی صبح سے تقریباً 50000 سے 60000 مہاجرین نے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس علاقے کی مقامی آبادی تقریباً 84000 ہے۔
اسپینی حکام نے بتایا کہ سرحد عبور کرنے والے بیشتر افراد جمعہ کی شام تک دوبارہ مراکش واپس چلے گئے۔حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کو جلد واپس بھیجنے کا ارادہ ہے لیکن اسپین کی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے باعث قانونی رکاوٹیں موجود ہیں۔ عدالت نے سمندری راستے سے آنے والے مہاجرین کو مراکش واپس بھیجنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز فوری طور پر سیوٹا پہنچے۔پیڈرو سانچیز نے غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے یورپی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے معاہدوں اور سرکاری اعداد و شمار کا احترام لازمی ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہمدردی اور یکجہتی اختیاری ہو سکتی ہے لیکن یورپی معاہدوں اور حقائق کا احترام لازمی ہے۔دوسری جانب اٹلی نے اسپین کے ساتھ اپنی کھلی سرحدی سفری سہولت کو ایک ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔اٹلی کے حکام نے کہا کہ یہ فیصلہ اطالوی شہریوں کے تحفظ اور یورپی سرحدوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے اور یورپی یونین کے قوانین کے تحت اس کی اجازت موجود ہے۔
سیوٹا کے واقعات کے بعد فرانس نے بھی اپنی سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اعلان کیا کہ فرانسیسی ہسپانوی سرحد پر اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانی کے لیے ڈرونز اور فضائی وسائل میں بھی اضافہ کیا جائے گا جبکہ ریل راستوں پر گشت مزید سخت کیا جائے گا۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین میں کسی کو بھی قوانین کی پابندی کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس بحران کو امریکہ کی داخلی سیاست سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اسپین میں جو کچھ ہو رہا ہے ویسا ہی امریکہ میں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے ریپبلکن پارٹی کی حمایت کی اپیل بھی کی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اسپین کی مہاجرین پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بحران کی وجہ غیر قانونی بڑے پیمانے پر ہجرت کو آسان بنانے کی حکومتی پالیسی ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر یورپی اتحادیوں کی مدد کے لیے بھی تیار ہے۔