تل ابیب
اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مل کر "تہذیب اور بربریت کے درمیان جنگ" میں مصروف ہے، جس میں ان کا اشارہ ایران کی طرف تھا۔
ارجنٹینا کے صدر خاویئر میلی کے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل "امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی بڑی آمریت کے خلاف لڑ رہا ہے، جو دنیا کو خوفزدہ کرتی ہے، ہماری تباہی چاہتی ہے اور امریکہ کو گرانا چاہتی ہے، اور مغربی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ کسی بھی وقت نئی صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایک ایسے "مسلح" شخص کو ہلاک کر دیا جو نام نہاد حدِ فاصل کو عبور کر رہا تھا۔ فوج نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
یہ حدِ فاصل ایک فوجی علاقہ ہے جو سرحد سے تقریباً دس کلو میٹر شمال تک جنوبی لبنان میں پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر یہاں حملے بھی کر سکتے ہیں، جس کا مقصد حزب اللہ کی موجودگی کو ختم کرنا بتایا جاتا ہے۔اس تقسیم کا موازنہ غزہ سے کیا جا رہا ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے کو کئی حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے، جن میں ایک مشرقی حصہ بھی شامل ہے جو تقریباً ساٹھ فیصد علاقے پر مشتمل ہے اور اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
ادھر، لبنانی فوج نے بتایا کہ ایک خصوصی دستہ جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک سڑک پر اسرائیلی فوج کی جانب سے بنائی گئی مٹی کی رکاوٹ کو ہٹانے میں مصروف ہے۔ علاقے میں نگرانی کے لیے ایک چوکی بھی قائم کر دی گئی ہے۔لبنانی فوج کے مطابق، طیر فلسیہ سے صور تک پل کی مرمت کے کام کے تسلسل میں گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے ایک عارضی سیمنٹ کا راستہ بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جسے علاقے کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔جمعہ کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد لبنانی حکام بنیادی سہولیات کی بحالی میں مصروف ہیں، جبکہ لاکھوں بے گھر افراد اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ادھر غزہ میں جاری حملوں کے دوران ایک اسرائیلی حملے میں ایک بچی ہلاک ہو گئی۔ فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق، حلا سالم درویش المغازی پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں جاں بحق ہوئیں۔اس سے قبل ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں صلاح الدین سڑک پر، نصیرات کیمپ کے شمال مشرق میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 38 سالہ ایمن خالد ابو حسنا جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہو گئے۔