فلوریڈا : فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مزید 3554 اہداف باقی ہیں جنہیں امریکا نشانہ بنائے گا اور ان کارروائیوں کو بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے جاری سفارتی مذاکرات کے باوجود ممکنہ فوجی کارروائی کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آگے کیا کرنا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران نے 101 میزائل فائر کیے تھے تاہم تمام میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے اور سمندر میں جا گرے۔ انہوں نے اس جہاز کو ایک نہایت قیمتی اثاثہ قرار دیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام شدید کمزور ہو چکا ہے اور اب امریکی افواج کو فضائی برتری حاصل ہے جس کے باعث وہ آسانی سے نگرانی کر سکتی ہیں۔
دوسری جانب انہوں نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر حملوں میں وقفہ مزید دس دن کے لیے بڑھا دیا گیا ہے جو 6 اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ یہ فیصلہ ایرانی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں جاری ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے پیر کے روز امریکی محکمہ جنگ کو ہدایت دی تھی کہ ایران کے توانائی مراکز پر ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کیے جائیں کیونکہ تہران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تفصیلی اور تعمیری بات چیت ہو رہی ہے جس کے باعث حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو کھول دے بصورت دیگر اس کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حملوں میں وقفے کی مدت میں بار بار توسیع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کی صورتحال مسلسل بدل رہی ہے اور اس کے مطابق امریکی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔