واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا کہ آج رات ایک پوری تہذیب کا خاتمہ ہو سکتا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن سے پہلے ایران کے پاس ہتھیار ڈالنے کا موقع اب بھی موجود ہے۔ امریکی صدر نے یہ سخت وارننگ ایران کے لیے مقررہ وقت سے تقریباً 12 گھنٹے پہلے جاری کی۔
اس ڈیڈ لائن کے تحت ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک معاہدے پر رضامند ہو، جس میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے، ورنہ اسے سزا کے طور پر حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے، جسے دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہی ہو جائے۔ تاہم، اپنے بیان میں انہوں نے حل کی گنجائش بھی رکھی اور کہا کہ شاید کوئی انقلابی اور حیرت انگیز بات ہو سکتی ہے۔
دریں اثنا امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو کہا کہ ایران کے خارگ جزیرے پر ہونے والا حملہ امریکی حکمتِ عملی میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایسے بہت سے ہتھیار موجود ہیں جنہیں ابھی تک ایران کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔
واضح ہوکہ امریکہ اور اسرایل کے حملوں سے ایران کے کئی شہروں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو گئی ہے۔ ایران کے شہر کرج میں امریکی حملے کے باعث ٹرانسمیشن لائنز کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں شہر کے کچھ حصوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔ اس سے قبل اسرائیل کی وارننگ کے بعد ایران میں ریلوے سروس بھی متاثر ہوئی تھی۔