ویلنگٹن (نیوزی لینڈ): نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ اور نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی کے سربراہ ونسٹن پیٹرز نے نیوزی لینڈ۔ہندوستان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) سے متعلق امیگریشن پالیسی میں مبینہ تبدیلیوں پر نیشنل پارٹی کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ہندوستانی شہریوں پر دیگر ایف ٹی اے شراکت دار ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں زیادہ سخت امیگریشن شرائط عائد کی جا رہی ہیں۔ ونسٹن پیٹرز نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ حکومت نے اچانک پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ایسے امیگریشن ضوابط متعارف کرائے ہیں جو "صرف ہندوستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں"۔
انہوں نے کہا: "ہم گزشتہ چھ ماہ سے خبردار کر رہے تھے کہ موجودہ پالیسی کے تحت ہندوستان۔نیوزی لینڈ ایف ٹی اے کی صورت میں ہندوستان سے نیوزی لینڈ آنے والوں کی تعداد میں غیر محدود اضافہ ہو سکتا ہے۔" پیٹرز نے دعویٰ کیا کہ سرکاری حکام نے وزرا کو خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں ہندوستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور نیوزی لینڈ کی کاروباری ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں، نیز اس کے خلاف قانونی کارروائی یا ہندوستان کی جانب سے جوابی اقدامات بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: "حکام نے وزرا کو بتایا ہے کہ ان تبدیلیوں سے ہندوستان کے ساتھ ہمارے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، نیوزی لینڈ کی کاروبار دوست ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور یہ قانونی چیلنج یا ہندوستانی ردعمل کا سبب بن سکتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی شواہد ملے ہیں کہ حکام اس بات پر غور کر رہے تھے کہ ہندوستان کے ممکنہ ردعمل کے خوف سے ان تبدیلیوں کا عوامی اعلان نہ کیا جائے۔"
پیٹرز کے مطابق امیگریشن وزیر کی منظور کردہ تبدیلیوں میں ہندوستانی شہریوں کے لیے لیبر مارکیٹ اور معاشی ضرورت کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ دیگر متعلقہ ایف ٹی اے شراکت دار ممالک کے شہریوں پر یہ شرط لاگو نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نئی پالیسی کے تحت ہندوستانی شہری نیوزی لینڈ کے اندر رہتے ہوئے عارضی ملازمت کے ویزے کے لیے درخواست نہیں دے سکیں گے، جبکہ شریک حیات اور بچوں کے حوالے سے بھی ان کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے گا۔
پیٹرز نے مزید کہا کہ ہندوستانی شہری عارضی ملازمتی ویزے پر حاصل کیے گئے کام کے تجربے کو مستقل رہائش (ریذیڈنسی) کی شرائط پوری کرنے کے لیے شمار نہیں کر سکیں گے، جبکہ چین، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا جیسے بعض دیگر ایف ٹی اے شراکت دار ممالک کے شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا: "ہندوستانی حکومت کو یہ جاننے کا حق ہے کہ نیشنل پارٹی کی حکومت دیگر ایف ٹی اے شراکت داروں، جیسے چین، تھائی لینڈ یا جنوبی کوریا کے شہریوں کے مقابلے میں ہندوستانی شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا چاہتی ہے۔"
ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ ان کی جماعت نے ابتدا ہی سے ایف ٹی اے میں امیگریشن سے متعلق رعایتیں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی، لیکن اگر ایسی شرائط طے کی گئی ہیں تو حکومت کو ان کے نفاذ کے بارے میں ہندوستان کو شفاف انداز میں آگاہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: "اگر ایف ٹی اے کے تحت نیوزی لینڈ آنے والے ہندوستانی شہریوں پر اضافی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو اصولی طور پر یہی پابندیاں تمام ایف ٹی اے شراکت دار ممالک کے شہریوں پر بھی لاگو ہونی چاہئیں۔"
پیٹرز نے وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن، وزیر تجارت اور وزیر امیگریشن سے مطالبہ کیا کہ ایف ٹی اے سے متعلق قانون منظور ہونے سے پہلے اس معاملے پر عوامی وضاحت پیش کی جائے، کیونکہ بصورت دیگر تجارتی جوابی اقدامات، قانونی چارہ جوئی اور نیوزی لینڈ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا: "نیوزی لینڈ کے مختلف آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت آنے والے تمام ممالک کے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ امتیازی سلوک نیوزی لینڈ کی روایت نہیں ہے۔" واضح رہے کہ چند ماہ قبل اپریل میں نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہندوستان۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے پر مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل اور نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری ٹاڈ میکلے نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔