کابل: افغانستان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان فضائیہ نے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں داعش (آئی ایس آئی ایس) کے مبینہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ وزارت نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ہر جگہ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائی منگل کی شب کی گئی، جس میں بلوچستان کے ضلع پشین کے سرانان علاقے میں واقع ایک مبینہ مشترکہ مرکز کے علاوہ خیبر پختونخوا کے چترال کی شاہ سلیم وادی اور کمبر خیل کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
طالبان حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان مقامات کو افغانستان کے اندر تخریبی کارروائیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ افغان حکام کے مطابق سرانان کے ایک اسکول کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں الزام ہے کہ وہاں داعش کے جنگجو اور دیگر مسلح عناصر موجود تھے۔
وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ افغان فضائیہ نے "داعش کے مشترکہ مرکز اور شر و فساد کے عناصر" کے خلاف کامیاب فضائی کارروائی انجام دی، جس میں متعدد جنگجو مارے گئے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان سرحدی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں متعدد عام شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، ہلاک اور زخمی ہوئے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے بھی حالیہ پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم 28 شہریوں کی ہلاکت اور 49 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ادھر بھارت نے بھی پاکستان کے افغان سرزمین پر فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری آبادی پر حملے ناقابل قبول ہیں اور ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان طویل عرصے سے افغانستان پر اپنی سرزمین پر سرگرم عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، تاہم طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
افغان وزارتِ دفاع نے اپنے تازہ بیان میں اسلام آباد کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا:"ہم اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ہر جگہ کو نشانہ بنائیں گے۔"