ہر ایک حرف کو ہم اک کتاب کہتے ہیں

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 11-01-2026
 ہر ایک حرف کو ہم اک کتاب کہتے ہیں
ہر ایک حرف کو ہم اک کتاب کہتے ہیں

 



 

ڈاکٹر عمیر منظر 
شعبہ اردو 
مانو لکھنؤ کیمپس 
 
گزشتہ چند ماہ کے دوران کتابوں کے حوالے سے جو ذوق و شوق اورگرم بازاری دیکھنے کو ملی ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔نئی نسل کتابوں کی طرف نہ صرف ملتفت ہو رہی ہے بلکہ اپنے علمی و ادبی ذوق کی تربیت کا سامان بھی فراہم کر رہی ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران دھیرے دھیرے یہ بات تسلیم کی جانے لگی تھی کہ یہ آن لائن کا زمانہ ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہی سب کچھ ہے۔اس کی وسعت،بے کرانی اور تیز رفتاری نے اس خیال کو مزید ہوا دے رکھی تھی کہ اب سب کچھ ڈیجیٹل فارمیٹ میں ہی قابل قبول ہوگا۔یہاں تک کہ ایک مصرعہ بھی زبان زد خاص و عام ہوگیا تھا ”یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی“ لیکن متعدد کتاب میلوں اور بعض دیگر اقدامات نے اس تصور غلط ثابت کر دیاہے۔ملک کے مختلف گوشوں میں منعقد ہونے والے کتاب میلوں نے ثابت کر دیا کہ کتابوں سے محبت کرنے والے اور کتابوں کو خرید کر پڑھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ان میں نمایاں ترین مثال علی گڑھ کتاب میلے کو حاصل ہے جس کا اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے کیا تھا،جس میں تقریباً 70لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئی تھیں۔اس میلے کے بیشتر اسٹال اردووالوں کے تھے۔اس نوع کے کتاب میلوں میں امنڈنے والی بھیڑ ناشرین کے لیے ہی حوصلہ افزائی کا سبب نہیں ہے بلکہ مصنفین کو بھی یہ بات خوش کر رہی ہے کہ کتابیں پڑھنے والوں کا حلقہ بڑھ رہا ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ دلی کایہ عالمی کتاب میلہ(2026)اس ذوق کو مزید رفتار بخشے گا۔کتاب سے دوستی کا رشتہ مزید استوار ہوگا۔عالمی کتاب میلے کی ایک دیرینہ روایت یہ رہی ہے کہ اس میں کسی ملک کو گیسٹ آف آنر کا درجہ دیا جاتا ہے۔اس سال میلے میں قطر کو گیسٹ آف آنر ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔
 
ہندستان میں عالمی کتاب میلے کی ایک شاندار روایت رہی ہے اور اس روایت کو ہندوستان نے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔یوں تو دنیا کے مختلف ممالک میں کتاب کے میلوں کا اہتمام ہوتا ہے اور اس کی دھوم بھی رہتی ہے لیکن دہلی میں منعقد ہونے والے اس کتاب میلے کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔دلی سیاست اور ادب دونوں کا مرکز ہے اور اس مرکزیت کی وجہ سے کبھی ادب کو غلبہ حاصل ہوتا ہے تو کبھی سیاست کو لیکن آنے والے آٹھ دنوں میں کتابوں کو مرکزیت حاصل رہے گی۔مصنفین کا ذکر ہوگا،کہانی کاروں تلاش کیا جائے گا،ہر طرف شاعروں،ادیبوں اور مصنفین کے افکار و خیالات کی گونج ہوگی۔ دہلی سے باہر ملک کے دیگر علاقوں میں بھی یہ گونج سنائے دے گی۔غور فکر کی ایک نئی فضا قائم ہوگی اور کتابوں سے دوستی کا سبق پھر دہرایا جائے گا۔فنکار اور ادیب کے لیے اس سے بڑا تحفہ کیا ہو سکتا ہے۔
کتابیں سکھاتی بھی ہیں اور بتاتی بھی۔کتابوں سے محبت کرنے والے مختلف طرح کے ہوتے ہیں ایک طبقہ تو وہ ہوتا ہے کہ جنہیں تخلیقی ادب پسند ہوتا ہے۔لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو افکار و خیالات کی دنیا میں جیتے ہیں۔وہ نئے نئے افکار اور خیالات سے مزین کتابیں یا مضامین پڑھنا چاہتے ہیں۔سماجی،سیاسی اور ادب کے نظریاتی مباحث ان کی علمی سیرابی کا سبب بنتے ہیں۔ یہ زمانہ چونکہ ٹکنالوجی اور سائنس کاہے۔ہر طرف اسی کا بول بالاہے اس لیے ان دنوں معلوماتی کتابوں کا چلن زیادہ ہے۔نئی نسل کااس طرف میلان زیادہ ہے۔فنون سے متعلق اگرچہ کتابیں کم لکھی جا رہی ہیں لیکن کتابوں سے محبت کرنے والے اس طرح کی کتابوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ یہ زمانہ نئی ترقیات کا ہے،جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں کمپیوٹر سے اب مصنوعی ذہانت تک پہنچا دیا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مستقبل کا انحصار اسی ذہانت پر ہوگا۔یہ بات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے لیکن اس سے متعلق مضامین اور کتابیں لوگ تلاش کر رہے ہیں۔ اس میلے میں اس طرح کی کتابوں کی بھی کھپت ضرور ہوگی۔
 
کتاب میلے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوتا ہے مختلف طرح کی کتابوں کو پسند کرنے والے لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور اپنی پسند کی کتابیں تلاش کرتے ہیں۔یہ تلاش بھی خوب سے خوب ترکا سفر کرتی ہے یہاں تک کہ سب کی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں۔ شاید اسی وجہ سے نہ صرف دلی ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں کے لوگ بھی اس میلے کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ یہ گرچہ سردیوں کا موسم ہے اور ٹھنڈ بھی شباب پر ہے لیکن کتابوں سے محبت کرنے والے موسم کی پرواہ کیے بغیر پہنچ ہی جاتے ہیں۔
 
نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 53واں کتاب میلہ 18جنوری تک جاری رہے گا۔میلہ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے اس بات پر خاص طورسے زور دیا کہ کتابیں نسلوں کو جوڑتی ہیں اور یہ تہذیبوں کو محفوظ رکھنے کا ایک عمدہ ذریعہ ہیں۔نیز کتاب ہی معاشرہ کی سمت کا پتا دتی ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ علم سے مقدس دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے۔اس بار کتاب میلے کا تھیم ”انڈین ملٹری ہٹسری“رکھا گیا ہے۔آزادی کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی میں فوج کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔فوج کی شجاعت وبہادری کو نمایاں کرنے کے لیے مختلف طرح کی نمائش اس بار میلے میں شامل کی گئی ہے۔1947سے لے کر حالیہ فوجی کارروائیوں تک پر خصوصی سیشن ہوں گے۔ان پروگراموں کا مقصد نئی نسل میں حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت نیشنل بک ٹرسٹ (NBT)کے زیر اہتمام یہ میلہ منعقد ہوتا ہے۔نیشنل بک ٹرسٹ کی کوشش ہے کہ اس کے توسط سے ہندستان میں کتاب کلچر کو فروغ دیا جائے۔اس بار کچھ زیادہ توجہ بھی دی جارہی ہے اور شاید اسی لیے پہلی بار کتاب میلہ میں عوام کے لیے داخلہ بالکل مفت رکھا گیا ہے۔اندازہ لگایا جارہا ہے کہ 20لاکھ سے زیادہ شائقین اس میلے سے استفادہ کریں گے۔واضح رہے کہ عالمی کتاب میلے میں 35سے زیادہ ممالک شرکت کررہے ہیں۔1800کے قریب پبلشرزاور تین ہزار سے زائد اسٹالز ہیں۔اس دوران محتلف ادبی اور ثقافتی پروگرام بھی منعقد ہوں گے جس میں ہزاروں مصنفین کی شرکت ہوگی۔مختلف النوع ادبی پروگراموں کا اہتمام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میلے کے دوران نہایت اہتمام سے کرتی ہے۔اردو کے بعض دوسرے ناشرین کی طرف سے بھی ادبی محفلوں اور رسم رونمائی کے پروگراموں کے انعقاد کا اعلان آچکا ہے۔اس تفصیل سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کتاب میلے کی شکل میں آٹھ روزہ ادبی اور ثقافتی پروگراموں کا بھی بول بالا رہے گا۔
 
میلے کے توسط سے نیشنل بک ٹرسٹ ملکی خواندگی کی پالیسیوں کو فروغ دیتا ہے۔واقعہ بھی یہی ہے کہ آٹھ روز تک ہر طرف کتاب ہی کتاب کا ذکر ہوتا ہے کیا بچے اور کیا بڑے سب اپنے اپنے ذوق کی آبیاری کے لیے پہنچتے ہیں اور عام دنوں کے مقابلے میں کتاب اور کتاب پڑھنے کا کام عروج پر ہوتا ہے۔اور یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔