ملک اصغر ہاشمی: نئی دہلی
ہندوستان کی جدید تعلیم کے بنیاد گزار اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان کی 27مارچ کو برسی تھی ۔ 27 مارچ 1898 کو دنیا کو الوداع کہنے والے سر سید کا نام آتے ہی ذہن میں ایک دور اندیش ماہر تعلیم کی تصویر ابھرتی ہے۔ لیکن ان کی زندگی کے کئی ایسے پہلو بھی ہیں جو کتابوں سے نکل کر سوشل میڈیا کی بحثوں تک محدود ہو گئے ہیں۔ آج ہم ان کے تنازعات پر نہیں بلکہ ان سے جڑی ان یادوں کا ذکر کریں گے جو آج بھی زندہ ہیں۔
شاندار شیروانی اور علی گڑھی تہذیب
سر سید احمد خان کی شخصیت کا ذکر ہو اور ان کی شیروانی کا تذکرہ نہ ہو یہ ممکن نہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سید عبید الرحمٰن نے ان کی ایک تاریخی شیروانی کی تصویر شیئر کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ سر سید ہمیشہ نہایت خوبصورت اور سلیقے سے تیار شیروانی میں نظر آتے تھے۔
یہ محض ایک لباس نہیں تھا۔ یہ علی گڑھ کی اس خاص ثقافت اور تہذیب کا حصہ تھا جسے سر سید نے خود پروان چڑھایا تھا۔ وہ سادگی اور نزاکت کا ایک منفرد امتزاج تھے۔ آج بھی اے ایم یو کے طلبہ اس شیروانی کو صرف ایک لباس نہیں بلکہ ایک وراثت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 19ویں صدی کے برطانوی ہندوستان میں وہ ایک ایسے مصلح تھے جنہوں نے اپنی وضع قطع سے بھی وقار کا مظاہرہ کیا۔
Sir Syed Ahmad Khan's sherwani. He was always impeccably dressed in a beautiful sherwani. It is part of Aligarh culture.
— Syed Ubaidur Rahman (@syedurahman) May 26, 2023
Founder of Aligarh Muslim University, Sayyid Ahmad Khan was an Indian Muslim reformer, philosopher, and educationist in nineteenth-century British India pic.twitter.com/rrb23sAN3m
دلیل اور تنازعہ
سر سید احمد خان کی زندگی صرف تعریفوں تک محدود نہیں رہی۔ ان کے بعض خیالات پر آج بھی مؤرخین کے درمیان شدید بحث ہوتی ہے۔ ٹو نیشن تھیوری کے علاوہ دہلی کی تاریخ پر پیش کیے گئے ان کے دلائل بھی تنازعہ کا سبب بنے رہے ہیں۔ سر سید نے دہلی میں مہابھارت کے دور کے یدھ شٹھر کے وجود کے حوالے سے کچھ آثار قدیمہ کے شواہد کی دلیل پیش کی تھی۔
مؤرخ ڈاکٹر رچیکا شرما جیسے کئی ماہرین ان کی اس رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ڈاکٹر شرما نے سر سید کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے ایک تفصیلی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ تاہم ایک سینئر صحافی کے طور پر ہمارا مقصد تنازعہ کو ہوا دینا نہیں بلکہ یہ بتانا ہے کہ سر سید ایک تحقیقی ذہن رکھنے والے انسان تھے جنہوں نے ہر موضوع کو اپنی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش کی۔
Full video here (https://t.co/dSxH5dIfAh)
— Dr. Ruchika Sharma (@tishasaroyan) October 15, 2025
Watch how Sir Syed Ahmed Khan contributed to the myth of Delhi being a "Mahabharat era" city. According to Khan, there was archaeological proof of Yudhishthir's existence. 😳 Why did he make such a preposterous conclusion? pic.twitter.com/HRUeWOmmsO
سر سید کا آخری پیغام آنکھوں کی روشنی گئی مگر نظریہ نہیں
مشہور مصنفہ رانا صفوی نے سر سید احمد خان کا وہ آخری پیغام شیئر کیا ہے جو آج بھی سننے والوں کو متاثر کرتا ہے۔ اپنے بچوں یعنی طلبہ کے نام دیے گئے اس پیغام میں انہوں نے اپنی جدوجہد کی داستان بیان کی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ جب انہوں نے تعلیم کا مشن شروع کیا تو اپنے ہی لوگوں نے ان پر تنقید کی اور سخت باتیں کہیں۔ ہر طرف سے مخالفت ہوئی۔ حالات ایسے تھے کہ وہ وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو گئے۔ ان کے بال جھڑ گئے اور آنکھوں کی روشنی بھی کم ہو گئی۔ لیکن انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ان کا نظریہ کبھی مدھم نہیں ہوا۔انہوں نے طلبہ سے اپیل کی تھی کہ وہ اس ادارے کی روشنی کو اس وقت تک پھیلاتے رہیں جب تک اندھیرا مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔
The last message of Sir Syed Ahmad Khan #SirSyedDay pic.twitter.com/MjsAnJym5L
— Rana Safvi رعنا राना (@iamrana) October 17, 2019
لندن سے دہلی تک دو گھروں کی کہانی
سر سید احمد خان کی زندگی کے سفر کو سلمان نظامی نے دو تصویروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ پہلی تصویر لندن کے اس گھر کی ہے جہاں سر سید ایک سال تک مقیم رہے تھے۔ دوسری تصویر دہلی کے اس مکان کی ہے جہاں انہوں نے اپنی پوری زندگی گزاری۔
ان تصاویر کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے۔ مغربی ممالک اپنی علمی وراثت اور تاریخ کو محفوظ رکھتے ہیں۔ لندن کا وہ گھر آج بھی ایک تاریخی نشان کے طور پر موجود ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں تاریخ کو نظر انداز کرنے کا رجحان نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔سر سید کا دہلی والا گھر ان کی سادگی اور ان کے اس مضبوط عزم کی گواہی دیتا ہے جس نے ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل بدل دیا۔
Pic 1- The house Sir Syed stayed in London for a year.
— Salman Nizami (@SalmanNizami_) October 17, 2021
Pic 2- The house he stayed in for a lifetime in Delhi.
No wonder the West values intellect and history and we ignore both — much to our own detriment! pic.twitter.com/PctnLUdalX
آسامی زبان میں سر سید کی پہلی سوانح عمری
سر سید احمد خان کا اثر صرف شمالی ہندوستان تک محدود نہیں تھا۔ شمال مشرقی ہندوستان میں بھی ان کی فکر کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ حال ہی میں امان ودود نے اپنے والد کی لکھی ہوئی ایک کتاب کی تصویر شیئر کی ہے۔ یہ کتاب سر سید احمد خان کی سوانح عمری ہے جو آسامی زبان میں لکھی گئی ہے۔
Book Launch of Sir Syed Ahmed Khan's biography, authored by my father.
— Aman Wadud (@AmanWadud) December 12, 2020
This is the first book on Sir Syed in Assamese. pic.twitter.com/fDWcDhWGsm
آسامی زبان میں سر سید پر یہ پہلی مفصل کتاب ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ 17 اکتوبر 1817 کو پیدا ہونے والے اس عظیم شخصیت کی فکر آج بھی مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔