ملک اصغر ہاشمی
آج کے دور میں سب سے بڑی مشکل بے روزگاری نہیں بلکہ صحیح معلومات کی کمی ہے۔ بہت سے نوجوان اپنا کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس ہنر ہے اور جذبہ بھی۔ لیکن اکثر پیسوں کی کمی ان کے خوابوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کئی بار ہم لاعلمی کی وجہ سے حکومتوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے کوئی اسکیم نہیں ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکومت ہندستان کی وزارتِ اقلیتی امور ایسی کئی اسکیمیں چلا رہی ہے جو آپ کی قسمت بدل سکتی ہیں۔ ان میں سب سے خاص نیشنل مائنارٹی ڈیولپمنٹ اینڈ فائنانس کارپوریشن یعنی NMDFC کا ٹرم لون ہے۔ یہ مضمون خاص طور پر ان نوجوانوں کے لیے ہے جو معاشی تنگی کو پیچھے چھوڑ کر خود اپنا مالک بننا چاہتے ہیں۔
کیا ہے NMDFC اور اس کا مقصد
نیشنل مائنارٹی ڈیولپمنٹ اینڈ فائنانس کارپوریشن حکومت ہندستان کی وزارتِ اقلیتی امور کے تحت کام کرتا ہے۔ اسے کمپنی ایکٹ کے تحت ایک خاص مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مسلم سکھ عیسائی بودھ پارسی اور جین برادریوں کے پسماندہ طبقات کی معاشی ترقی ہے۔ یہ کارپوریشن براہ راست ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو چھوٹا یا بڑا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں خواتین اور روایتی کاریگروں کو خاص ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر آپ اقلیتی برادری سے ہیں اور بے روزگار ہیں تو یہ ادارہ آپ کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
آمدنی کے حساب سے دو زمرے
حکومت نے اس قرض سہولت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس کا فائدہ مل سکے۔ اسے کریڈٹ لائن کہا جاتا ہے۔ پہلی قسم یعنی کریڈٹ لائن 1 ان خاندانوں کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدنی 3 لاکھ روپے تک ہے۔ دوسری قسم یعنی کریڈٹ لائن 2 ان لوگوں کے لیے ہے جن کی سالانہ خاندانی آمدنی 8 لاکھ روپے تک ہے۔ یعنی اگر آپ کی آمدنی کچھ زیادہ بھی ہے تب بھی آپ اس سرکاری مدد کے حق دار ہیں۔ یہ درجہ بندی اس لیے کی گئی ہے تاکہ سماج کے ہر طبقے کو اس کی ضرورت کے مطابق سرمایہ مل سکے۔
ٹرم لون اسکیم کاروبار کے لیے بڑی رقم
ٹرم لون اسکیم اس وزارت کی سب سے مقبول اسکیم ہے۔ اس کے تحت آپ کوئی بھی آمدنی پیدا کرنے والا کام شروع کر سکتے ہیں۔ کریڈٹ لائن 1 کے تحت فائدہ اٹھانے والے کو 20 لاکھ روپے تک کا قرض مل سکتا ہے۔ اس پر سود کی شرح صرف 6 فیصد سالانہ ہوتی ہے۔ جبکہ کریڈٹ لائن 2 کے تحت 30 لاکھ روپے تک کا قرض دیا جاتا ہے۔ اس پر سود کی شرح 8 فیصد سالانہ رہتی ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کریڈٹ لائن 2 میں خواتین کو سود میں 2 فیصد اضافی رعایت دی جاتی ہے۔ بازار کے مہنگے قرضوں کے مقابلے میں یہ شرحیں بہت کم ہیں۔
تعلیم اور ہنر کے لیے بھی راستہ کھلا ہے
اگر آپ کاروبار نہیں بلکہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تعلیمی قرض کی بھی سہولت موجود ہے۔ ملک میں تکنیکی یا پروفیشنل کورس کرنے کے لیے 20 لاکھ روپے تک کا قرض مل سکتا ہے۔ اگر آپ بیرون ملک جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت 30 لاکھ روپے تک کی مدد دیتی ہے۔ کریڈٹ لائن 1 کے تحت اس قرض پر سود صرف 3 فیصد ہے۔ کریڈٹ لائن 2 میں یہ 8 فیصد ہے۔ یہاں بھی خواتین کو 3 فیصد کی رعایت دی جاتی ہے۔ اس قرض کی واپسی کورس مکمل ہونے کے 6 ماہ بعد یا نوکری ملنے کے بعد شروع کرنی ہوتی ہے۔ اس سے طالب علم پر تعلیم کے دوران بوجھ نہیں پڑتا۔

وراثت اسکیم کاریگروں کے لیے نعمت
ہمارے ملک میں روایتی ہنر کی کمی نہیں ہے۔ بہت سے نوجوان اپنے آباؤ اجداد کے کام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے وراثت اسکیم چلائی جا رہی ہے۔ یہ ٹرم لون کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس کے ذریعے آپ مشینری اوزار یا خام مال خریدنے کے لیے 10 لاکھ روپے تک کا قرض لے سکتے ہیں۔ کریڈٹ لائن 1 میں مردوں کے لیے سود 5 فیصد اور خواتین کے لیے 4 فیصد ہے۔ کریڈٹ لائن 2 میں مردوں کے لیے 6 فیصد اور خواتین کے لیے 5 فیصد سود مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم ہنرمندوں اور دستکاروں کو دلالوں کے چنگل سے بچاتی ہے۔
چھوٹے قرض کے لیے مائیکرو فائنانس
اگر آپ کو بہت بڑی رقم نہیں چاہیے تو آپ مائیکرو فائنانس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اسکیم خاص طور پر سیلف ہیلپ گروپس کے لیے ہے۔ اس میں ان خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے جو دیہات یا جھگی بستیوں میں رہتی ہیں۔ کریڈٹ لائن 1 کے تحت ہر رکن کو 1 لاکھ روپے اور کریڈٹ لائن 2 میں 1.5 لاکھ روپے تک کا قرض مل سکتا ہے۔ اس کی سود کی شرح بھی 7 سے 10 فیصد کے درمیان رہتی ہے۔ یہ ان چھوٹے کاموں کے لیے بہترین ہے جنہیں گھر سے شروع کیا جا سکتا ہے۔
درخواست کیسے دیں اور کہاں جائیں
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ اس قرض کے لیے کہاں درخواست دینی ہے۔ NMDFC اپنی ان اسکیموں کو ریاستی چینلائزنگ ایجنسیوں کے ذریعے نافذ کرتا ہے۔ ہر ریاست میں ایک محکمہ ہوتا ہے جو اقلیتی فلاح و بہبود کا کام دیکھتا ہے۔ آپ کو اپنی ریاست کے اقلیتی فائنانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی شاخ میں جانا ہوگا۔ اس کے علاوہ کچھ بینکنگ پارٹنر بھی اس عمل میں شامل ہوتے ہیں۔ آپ NMDFC کی سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اپنی ریاست کی ایجنسی کا پتہ اور فون نمبر دیکھ سکتے ہیں۔ درخواست کا عمل اب کافی آسان بنا دیا گیا ہے۔

ضروری دستاویزات اور شرائط
قرض لینے کے لیے آپ کو کچھ بنیادی کاغذات تیار رکھنے ہوں گے۔ ان میں سب سے اہم آپ کا آدھار کارڈ اور اقلیتی برادری سے تعلق کا سرٹیفکیٹ ہے۔ اس کے علاوہ آمدنی کا سرٹیفکیٹ اور رہائشی ثبوت کی ضرورت ہوگی۔ آپ کو ایک مختصر پروجیکٹ پلان بھی بنانا ہوگا۔ اس میں آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ آپ کون سا کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور اس میں کتنا خرچ آئے گا۔ اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو اپنی ڈگری کے کاغذات بھی ساتھ رکھیں۔ بینک یا ایجنسی یہ دیکھتی ہے کہ آپ کا کاروباری منصوبہ عملی ہے یا نہیں۔
واپسی کی مدت اور سہولت
سرکاری قرض کی سب سے بڑی خوبی اس کی آسان قسطیں اور موراٹوریم پیریڈ ہے۔ ٹرم لون میں آپ کو کام شروع کرنے کے بعد 6 ماہ تک کوئی قسط ادا نہیں کرنی ہوتی۔ اسے گریس پیریڈ یا مہلت کی مدت کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو 5 سال کے اندر پوری رقم واپس کرنی ہوتی ہے۔ تعلیمی قرض میں یہ سہولت اور بھی زیادہ ہے۔ جب تک آپ کی تعلیم مکمل نہیں ہوتی یا نوکری نہیں ملتی تب تک آپ کو رقم واپس کرنے کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔ مائیکرو فائنانس کے لیے یہ مدت 3 سال مقرر کی گئی ہے۔
اب بہانے چھوڑئیے اور آگے بڑھیے
اکثر ہم یہ کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت پیسہ دینے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ بیدار اور باخبر بنیں۔ اقلیتوں کے لیے یہ اسکیمیں کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ چاہے آپ اپنی دکان کھولنا چاہتے ہوں یا کوئی چھوٹا کارخانہ لگانا چاہتے ہوں۔ یہ قرض آپ کی راہ آسان کر دیں گے۔ ملک اصغر ہاشمی کی بات بالکل درست ہے کہ لاعلمی ہی ہماری سب سے بڑی دشمن ہے۔ اس معلومات کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ دوسرے ضرورت مند نوجوانوں تک بھی پہنچائیں۔ آج ہی اپنے قریبی اقلیتی محکمہ کے دفتر جائیں اور اپنے مستقبل کی نئی شروعات کریں۔ یاد رکھیے کہ صحیح وقت پر لیا گیا ایک صحیح فیصلہ آپ کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔