علم :: ایک 'علیگ' صحافی جوڑے شاہین نظر اور فوزیہ ناہید کا علمی جہاد

Story by  شاہ تاج خان | Posted by  [email protected] | 23 d ago
علم :: ایک 'علیگ' صحافی جوڑے شاہین نظر اور فوزیہ ناہید کا علمی جہاد
علم :: ایک 'علیگ' صحافی جوڑے شاہین نظر اور فوزیہ ناہید کا علمی جہاد

 

شاہ تاج خان ۔  پونے

 صحافت سے فلاحی مشن تک ۔۔۔۔ سننے میں عجیب سا لگتا ہے کیونکہ ابتک  صحافیوں کے سیاست داں بننے کی روایت رہی تھی لیکن کسی صحافی کی سماجی و فلاحی مشن شروع کرنے دور دور تک  کوئی نظیر نہیں۔ بہرحال یہ کہانی کسی ایک صحافی کی نہیں بلکہ صحافی جوڑے شاہین نظراور فوزیہ ناہید کی ہے ،ایک ’علیگ ‘ جوڑا ۔ جن کی رگوں میں یوں تو صحافت دوڑ رہی ہے لیکن ایک حساس دل جوڑے نے کسی پلیٹ فارم سے ملک و قوم کے مفاد کے نام پر چیخ و پکار کرنے کے بجائے عملی طور پر کچھ کردکھانے کا بیڑا اٹھایا۔ بیرون ملک رنگوں اور روشنیوں میں ڈوبی زندگی پر ملک کی مٹی کی خوشبو کو ترجیح دی۔

دراصل  یہ کہانی اسرار الحق مجاز  کے ان الفاظ کی حقیقت کو بیان کرتی ہے  کہ ۔۔۔ 

 جو ابر یہاں سے اٹھے گا وہ سارے جہاں پر برسے گا

ہر جوئے رواں پر برسے گا ہر کوہ گراں پر برسے گا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ترانےکا یہ عزم شاہین نظر اور فوزیہ ناہید نے درست ثابت کردیا ہے،جنہوں نے اپنی زندگی میں اگر سب کچھ حاصل کیا تو ملک اور معاشرے کو  واپس دینے کی بھی کوشش کی۔ عرب میں بسی اپنی زندگی کو تیاگ کر وطن لوٹے اور ایک ایسے طبقے کو تعلیم اور روزگار کی ڈگر پر لانے کی جدوجہد شروع کی  جسے حکومت سے معاشرے کوئی توجہ نہیں دیتا ہے۔

جدہ سے گریٹر نوئڈا مقیم ہوئے تو صحافت کے ساتھ سماجی و فلاحی خدمت کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ بچوں اور خواتین کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ہنر مندی کا مشن ۔۔۔۔ انیشیٹو فار لرننگ اینڈ موٹیویشن (آئی ایل ایم یا علم ) ٹرسٹ کے پرچم تلے شروع کیا ۔ خاص طور پر اقلیتی برادریوں اور ہندوستانی آبادی کے پسماندہ طبقات کے فائدے کے لیے کام شروع کیا۔ پچھڑے طبقات کو ابھارنے کے لیے جدو جہد شروع کی ۔

 ۔’علم‘ کے عالم

اگرقارئین کے لیے شاہین نظر کا مختصر تعارف پیش کیا جائے تو آپ کو بتا دیں کہ شاہین نظر کا صحافتی سفر ٹائمز آف انڈیا سے شروع ہوا تھا ۔اس کے بعد وہ عرب دنیا کی صحافت کی جانب گئے جہاں انہوں نے بیس سال کے دوران عرب نیوز میں سینئر ایڈیٹر رہے، پھر سعودی گزٹ میں ادارتی ذمہ داری سنبھالی،اس کے بعد خلیج ٹائمز سے وابستہ رہے ۔ اخبارات میں 25 سال سے زیادہ کا تجربہ اور صحافتی لیکچررکا 12 سال کا تجربہ ہے تو ان کے افسانوں کے دو مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں ۔ عالم عرب سے واپسی کے بعد وہ شاردا یونیورسٹی میں سابق ایڈجنکٹ فیکلٹی رہے ۔ لیکن اب ایک مقصد ہے کہ کمزور طبقات کو بنیادی تعلیم مہیا کرائی جائے تاکہ آگے کا راستہ کھل سکے ۔ اگر بات کرتے ہیں فوزیہ ناہید کی تو وہ شادی سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف جرنلزم میں لیکچرر تھیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ  ہندوستان واپس آنے سے پہلے ہی دونوں کے ذہن میں‘ علم ’کا خاکہ تیار تھا۔جسے عملی جامہ پہنانے کی پہل فوزیہ ناہید نے کی وہ پہلے وطن واپس آئیں ۔ اس مشن کا آغاز کیا۔ بعد ازاں علم کی مہم میں اپنی اہلیہ فوزیہ ناہید کا ساتھ دینے کے لیے شاہین نظر نے اب اپنی نوکری بھی چھوڑ دی ہے۔حالانکہ ہندوستان واپس آنے کے بعد شاہین نظر نے کچھ وقت کے لیے شاردا یونیورسٹی میں بہ حیثیت فیکلٹی ماس کمیونیکیشن پڑھایا۔لیکن اب وہ نوکری چھوڑ کر پوری طرح علم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔

awazurduشاہین نظر اور فوزیہ ناہید نے معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کو نبھا کر ایک مثال قائم کی 


مہم کا آغاز 

شاہین نظر اور فوزیہ ناہید کا یہ نیا سفر جنوری 2019 میں گریٹر نوئیڈا (اتر پردیش میں واقع اور دہلی این سی آر، یا نیشنل کیپیٹل ریجن کا حصہ) کے علاقے تگل پور میں کچی آبادیوں کے بچوں کے لیے ایک خیراتی اسکول کے ساتھ شروع ہوا تھا۔فی الحال، آئی ایل ایم گریٹر نوئیڈا کے تگل پور، سورج پور اور دیولا علاقوں کی کچی آبادیوں میں تین خیراتی اسکول چلا رہی ہے۔اسکول پیر سے جمعہ تک چار گھنٹے صبح کے وقت چلتے ہیں۔طلباء کو پانچوں دن ہلکی پھلکی ریفریشمنٹ دی جاتی ہے۔ انہیں کتابیں اور اسٹیشنری بھی فراہم کی جاتی ہے۔ تگلپور کے اسکول کے طلباء کو موسم سرما میں یونیفارم اور گرم کپڑے دیے جاتے ہیں۔ آواز دی وائس سے بات کرتے ہوئے شاہین نظر کہتے ہیں کہ دیولامیں تقریباً 150بچے ہمارے اسکول میں پڑھنے آتے ہیں۔یہ بچے ہرصبح سڑکوں سے کچرا چننے کے لیے نکل جاتے تھے۔مگر اب کچھ بچوں کے والدین اپنے بچوں کو کچرا اُٹھانے کے لیے نہ بھیج کر انہیں پڑھنے لکھنے کے لیے اسکول بھیجنے پر راضی ہو گئے ہیں ۔ایسے والدین کی تعداد کم ہے لیکن ابتدا ہوئی ہے۔ جو کہ ہمارے لیے بے حد اطمینان اور سکون کا باعث ہے۔

شاہین نظر صاحب کی یہ بات معمولی نہیں ہے۔یہ ایک تحریک ایک جدوجہد کا نتیجہ ہے۔جنوری 2019 میں جب فوزیہ ناہید صاحبہ نے پہلی مرتبہ تگلپورکی جھگی بستی میں قدم رکھا تب انہوں نے وہاں کے کچھ لوگوں سے بات کی اور پھرہم نے زمین پر دری بچھائی اور اپنا کام کرنا شروع کر دیا ۔فوزیہ ناہید کے گھر پر بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے ایک قاری صاحب آیا کرتے تھے۔انہیں قاری صاحب کی بستی سے فوزیہ ناہید صاحبہ نے’’ علم‘‘ کی مہم کا آغاز کیا تھا۔وہ آواز دی وائس کو بتاتی ہیں کہ جب میں وہاں پہنچی توبستی میں ہر طرف کچرا ہی کچرا تھا۔بستی کے تقریباً سبھی بچے پڑھنے کے لیے آئے مگر بچے اتنے گندے تھے کہ اگلے روز سے ہم نے پانی ،صابن، تولیا وغیرہ کا انتظام کیا ۔تاکہ بچے ہاتھ منہ دھوکر پڑھنے کے لیے بیٹھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ۔۔۔ بچوں کے ہاتھ منہ گندگی سے بھرے ہوئے تھے ،ناک بہہ رہی تھی ۔پانچ سے پندرہ سال تک کے اِن بچوں کو ہم نے سب سے پہلا سبق صاف صفائی کا ہی پڑھایا تھا۔

awazurdu

awazurdu

awazurduعلم کی مہم حساس دلوں کی پیداوار ہے۔ ایک مثال ہے اور قابل تقلید بھی


                فوزیہ ناہید نے ابتدا میں بستی کے بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے راضی کیا تھا۔ اُن کی کوششوں کا ہی نتیجہ تھا کہ بچوں نے دلچسپی دکھائی اور والدین نے بھی اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے بھیجنا شروع کیا۔فوزیہ صاحبہ کہتی ہیں کہ بچے آتے ضرور تھے لیکن ڈراپ آؤٹ کے مسئلے سے تو ہم آج بھی جوجھ رہے ہیں۔واضح رہے کہ اِس بستی میں گھر کا ہر فرد کسی نہ کسی صورت کچرا چننے کے کام سے جڑا ہوا ہے۔ بچے اگر سڑک سے کچرا چُن کر لاتے ہیں تو خواتین گھر میں کچرا الگ الگ کرنے کا ذمّہ سنبھالتی ہیں اور گھر کے مرد حضرات فیکٹریوں، سوسائٹی اور دیگر جگہوں سے کچرا اکٹھا کرتے ہیں۔کچرا ہی ان کا ذریعہ معاش ہے۔شاہین نظر صاحب نے گفتگو کے دوران اسکول کے تعلق سے بتایا کہ پانچ سالوں میں تگلپور کا اسکول اب چوتھی جگہ پرمنتقل ہو چکا ہے ۔جہاں پہلی بار اسکول بنایا وہ جگہ فروخت ہو گئی،پھر دوسری جگہ پر اسکول بنایا تو برسات میں پانی بھر گیا،تیسری جگہ اپنا اسکول لے کر پہنچے تو وہاں کنسٹرکشن شروع ہوگیا۔اب ہمارے اس لوکیشن کاہمارا پہلا اسکول چوتھی جگہ پر ہے۔اسکول کی جگہ بار بار بدل رہی ہے مگر پڑھائی کا سلسلہ جاری ہے۔بچے اب انگریزی بھی پڑھنا لکھنا سیکھ گئے ہیں ۔شاہین نظر صاحب خوش ہوکر بتاتے ہیں کہ بچے اب کمپیوٹر سیکھنا چاہتے ہیں۔

قرآن سے کمپیوٹر تک 

جس کی تیاری علم ٹرسٹ نے شروع کر دی ہے۔اب تک علم ٹرسٹ نے دلی کے قریب اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کے ہی علاقے میں دوسرا اسکول دیولا میں فروری 2022میں شروع کیا جہاں 150سے بھی زیادہ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔تیسرا اسکول سورجپور میں حال ہی میں شروع کیا ہے۔شاہین نظر بتاتے ہیں کہ‘‘ان اسکولوں کے لیے اساتذہ نہیں مل پاتے ہیں ۔اساتذہ کی تلاش ہمارے لیے کسی مسئلہ سے کم نہیں ہے ۔حالانکہ لوگ آتے ضرور ہیں مگر اِن بچوں کو دیکھ کر واپس پلٹ کر ہی نہیں آتے ۔فی الحال ان تینوں اسکولوں میں پڑھانے کے لیے شاہین نظر اور فوزیہ ناہید کے ساتھ دس اساتذہ کی ٹیم اپنی خدمات انجام دے رہی ہے۔واضح رہے کہ یہ بچے عام بچوں سے ذرا مختلف ہیں اِس لیے انہیں توجہ اور پیار کے ساتھ ہی باندھ کر رکھا جا سکتا ہے۔فوزیہ ناہید کہتی ہیں کہ‘‘جب میں وہاں پہنچتی ہوں تو بچے بھاگ کر میرے پاس آتے ہیں۔ جو خوشی اور اطمینان کا احساس مجھے اُن بچوں کے ساتھ محسوس ہوتا ہے اُسے الفاظ میں بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے۔علم ٹرسٹ کی جانب سے ان اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو یونیفارم، ناشتہ اور سردیوں میں گرم کپڑے بھی بالکل مفت فراہم کئے جاتے ہیں۔حالانکہ سرکاری قوانین کی پیچیدگیوں کے سبب ان اسکولوں کو سرکاری منظوری نہیں مل سکی ہے ۔جس کے متعلق شاہین صاحب نے بتایا کہ اسکول جھگی میں ہیں جس کی وجہ سے وہ اصول و ضوابط کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔اب علم کی ٹیم نے این آئی او ایس سے رجوع کیا ہے اور پھروہ اُن کے ساتھ مل کر اپنے طلبا کو امتحان دلا کر آگے بڑھنے کے اُن کے راستوں کو ہموار کرنے کی کوشش کریں گے۔

جہاں پر مفلسوں کے واسطے تعلیم مشکل ہو

                ہر بچہ ہر روز بڑا ہو جاتا ہے۔عمر بڑھتی جاتی ہے اور اسکول جانے کی عمر کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔تب علم ٹرسٹ جیسے ادارے اُن کا ہاتھ تھامتے ہیں ۔علم ادارے نے تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ بچوں کو سلائی سکھانا بھی شروع کیا ہے۔سلائی سیکھنے کے لیے اسکول کے بعد ایک گھنٹے کی کلاس میں تقریباً سبھی بچے شریک ہوتے ہیں۔فوزیہ ناہید بتاتی ہیں کہ لڑکیوں نے تو سلائی کڑھائی سیکھنے میں دلچسپی دکھائی، ساتھ ہی لڑکے بھی سلائی سیکھ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مدرسے کے فارغ قاری اور مولانا حضرات کے لیے بھی علم نے اپنی خدمات پیش کی ہیں ۔لوک ڈاؤن کے دوران جب ہر سوسائٹی نے اپنے دروازے بند کر دیئے تھے تو گھروں میں بچوں کو قرآن پڑھانے والے مولانا بے روزگار ہو گئے ۔تب تقریباً 25 مولانا حضرات کو علم کی جانب سے نقد امداد کا انتظام کیا گیا ۔اس تعلق سے شاہین نظر صاحب کا کہنا ہے کہ ہم نے محسوس کیا کہ یہ مدد آخر کب تک دی جا سکتی ہے۔اس لیے ہم نے سیلف ہیلپ گروپ بنایا اور انہیں اپنی مدد آپ کرنے کے لیے تیار کیا۔آج یہ گروپ اپنے ہی جمع کیے گئے پیسوں سے چھوٹے موٹے کاروبار کر رہا ہے۔اتنا ہی نہیں علم ٹرسٹ لڑکیوں کے لیے اسکولرشپ کا بھی انتظام کرتا ہے ۔اس وقت 20 لڑکیوں کو ان کی فیس اور دوسرے تعلیمی اخراجات کے لیے اسکولر شپ فراہم کی جا رہی ہیں۔اس کے علاوہ میڈیکل ہیلپ اِس علم ٹرسٹ کو دوسرے اداروں سے منفرد بناتی ہے۔علم کی جانب سے غریب لوگوں کی میڈیکل ہیلپ کا بھی انتظام کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس ادارے کا ماننا ہے کہ تعلیم اور صحت کے اخراجات نے مفلسوں کی زندگی کوحد سے زیادہ متاثر کیا ہے۔مہنگی میڈیکل سہولیات کے سبب ،ضرورت کے وقت میڈیکل ہیلپ کا نہ ملنا غریبوں کی زندگی کو اکثر خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

awazurdu

awazurdu

awazurduایک بڑی جدوجہد ۔ایک بڑا مقصد  ہے علم 


مفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا

                ان کچی جھگی بستیوں میں بہار ،آسام ،جھارکنڈ وغیرہ سے آنے والے غریب مزدور رہتے ہیں ۔فوزیہ ناہید بتاتی ہیں کہ لڑکیاں تھوڑی بڑی ہوتی ہیں تو اُن کی شادی کر دی جاتی ہے اور لڑکے بھی کام کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔سڑکوں کو لگتا ہے کہ اب تو ہمیں پڑھنا لکھنا آگیا ہے اب اسکول جانے کی کیا ضرورت ہے۔تگلپور ایک چھوٹی بستی ہے لیکن یہاں بھی 50 بچے اسکول آتے ہیں ۔اُنہوں نے اپنے خواب اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں پر غریب بچوں کے لیے ایک اچھا اسکول تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔جہاں پر ان کے لیے بہتر تعلیم کا بندوبست ہو۔ایک ایسا اسکول جو پکی عمارت میں ہو،سرکار سے منظور شدہ ہو اوراُس میں تمام بنیادی سہولیا ت موجود ہوں۔علم کی شمع فوزیہ ناہید اور شاہین نظر ہر روز روشن کرتے ہیں۔وہ اِن لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بہ خوبی جانتے ہیں کہ ان غریبوں کے لیے تعلیم اور اسکول کا خواب دیکھنا کتنا مشکل ہے ۔علم کو معلوم ہے کہ

بچوں کی فیس ،ان کی کتابیں قلم دوات

میری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیا

                یہ کہنا تو ابھی مشکل ہے کہ علم اپنے خوابوں کے اسکول کو کب حقیقت میں بدل پائے گا لیکن ابھی اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ‘‘کوشش کرنے والوں کی ہار نہیں ہوتی۔

علم کے پرچم تلے بچوں کو سیر و تفریح کرانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے