کھلاڑی کیلئے ترنگا لہراتا ہوا دیکھنا یاد گار لمحہ :آرزو

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 3 Years ago
آرزو
آرزو

 

آرزو ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے،جو اگر حالات اور قسمت کے رحم وکرم پر رہتی تو اس کی زندگی یوں ہی گزر جاتی۔جس کا تعلق ایک پچھڑے ہوئے خطہ ”جھارکھنڈ‘سے ہے۔لیکن اس کے باوجود آرزو نے تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اپنے خواب کو پورا کیا۔اس نے کھیل کے میدان کا رخ کیا۔حالانکہ بہت سی رکاوٹیں تھیں لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ ٹریک سوٹ پر برقع اوڑھ کر وہ  تربیت کیلئے جاتی تھی۔اس کا خواب تھا  انٹر نیشنل لان باؤل کھلاڑی بننے کا۔خواب حقیقت میں تبدیل ہوا اور اب آرزو میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔میڈیا اس کی کہانی پیش کررہا ہے۔ اس کی جدوجہد کو بیان کررہا ہے۔ خود آرزو کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب اس کے قریبی رشتہ دار اور احباب اس کے لباس پر اعتراض کرتے تھے۔وہ لڑکوں کے ساتھ کھیلنے پر بھی ناراضگی دکھاتے تھے۔
آرزو کی ماں ’جہاں آراء خاتون‘نے اپنے بچوں کیلئے ایک کامیاب زندگی کے خواب دیکھے تھے،ان کا ایک بیٹا زاہد اب انڈین ایر فورس میں ہے۔وہ ایک کمیونی کیشن اسیسٹینٹ کے طورپر کام کررہے ہیں۔وہ  ایک کامیاب نشانہ باز بھی تھا اس نے قومی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔لیکن رائفل اتنی مہنگی تھی کہ اس شوق کو ایک حد کے بعدترک کردینا پڑا۔آرزو کے والد جھارکھنڈ کے گملا ضلع میں اپنے گاؤں بھارنو بلاک میں کاشت کاری کرتے تھے۔آرزو نے آج بھی ان دنوں کو نہیں بھلایا ہے جب وہ کئی کئی دنوں تک بھوکی سوتی تھی۔
لان باؤل سے اس کا تعارف اتفاقی طور پر ہی ہوا تھا۔2008میں وہ اپنی ماں کے ساتھ رانچی کے شوٹنگ رینج گئی تھی،ان کی ماں ’آنگن واڑی‘ سے جڑی ہوئی تھیں۔مگر ان کا مطالعہ بہت اچھا تھا۔اس لئے وہ پہلے سے واقف تھیں کہ فرزانہ خان نے 2007میں نیشنل گیمز میں لان باؤل میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ہم نے فرزانہ خان کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ اس وقت موجود تھیں۔آرزو اور ان کی ماں نے فرزانہ خان سے ملاقات کی اور بہت طویل بات چیت بھی کی۔انہوں نے آرزو کو مشورہ دیا کہ لان باؤل میں قسمت آزمائے۔آرزو نے اس مشورے کو گرہ سے باندھ لیا۔
 
آرزو کا کہنا ہے کہ زندگی نے بڑا سخت امتحان لیا کیونکہ اس نے کالج میں قدم رکھا توبی ایس سی میں کیمسٹری لی۔ جو کہ اس کا پسندیدہ موضوع تھا۔اس کے ساتھ میرا سلیکشن ”کھیلو انڈیا‘ اسکیم میں ہوگیا۔جب میں نے کھیلنا شروع کیا تو میرے پاس نہ تو کوئی ملازمت تھی اور نہ ہی کوئی مالی ذریعہ۔

آرزو کے لئے یہ ایک مشکل سفر تھا کیوں کہ وہ بی ایس سی کورس کے لئے کالج میں داخل ہوئی تھی اور کیمسٹری اور کیمسٹری اس کی پہلی محبت تھی۔ ''اب، کھیلو انڈیا کے ساتھ، اسکیم میں کھیلوں کے کھلاڑیوں کے مستقبل کا وعدہ کیا گیا ہے۔ جب میں نے آغاز کیا تو، نوکری یا مالی تحفظ نہیں تھا۔ لہذا، میرے والدین نے اصرار کیا کہ میں بھی ساتھ ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھوں گا۔'' اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے اپنے پریکٹس گراؤنڈ اور کالج کے درمیان روزانہ چار گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ''کبھی کبھی، میرے پاس سفر کرنے یا کھانا خریدنے کے لئے پیسہ نہیں تھا۔''اس کے ساتھ معاشرے کا بھی سامنا کرنا پرتا تھا۔کچھ لوگ طنز کیا کرتے تھے۔کہتے تھے ”بیٹی کو بیٹا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ایسے لوگوں نے آرزو کی راہ میں صرف اور صرف مشکلات پیدا کی تھیں۔
ریاستی ٹیم میں آسٹریلیائی کوچ رچرڈ گیلمیں آرزو نے اپنے کھیل میں مزید نکھار پیدا کیا۔ 2011 کے قومی کھیلوں میں، اس نے جوڑے کی کیٹیگری میں طلائی تمغہ جیتا اور 2012 کے قومی چیمپئن شپ میں یہ کارنامہ دہرایا۔ اگلے دو سال تک، اس نے لگاتار نیشنلز میں کانسی جیتا۔''ابتدا میں، انعام کی رقم اچھی لگتی تھی۔ نیشنل گیمز کے بعد، میں نے 7 لاکھ روپے جیتا۔ اس رقم نے میری تعلیم اور ہمارے گھریلو اخراجات کی مالی مدد کی۔ آرزو کا کہنا ہے کہ اب مجھے لگتا ہے کہ میں ملک کیلئے کھیل رہی ہوں۔اس کا احساس ہی مختلف ہوتا ہے۔ جب قومی پرچم لہرایا جاتا ہے تو اس کا احساس ہی الگ ہوتا ہے۔ان جذبات کو بیان کرنا ہی مشکل ہوتا ہے۔قومی ترانہ سن کر اور بھی جوش آتا ہے۔
اب اس کے اہل خاندان کو اس کے بھائی کے ساتھ اس پر بھی فخر ہے۔کھیل میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ہم نے اپنی مالی اور سماجی حالت بدل ڈالی ہے۔ جو کہ روحانی خوشی کا احساس دلاتاہے۔مجھے ایک پہچان ملی۔ایک رتبہ ملا۔اب مجھے یوم جمہوریہ کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ۔