انگل ووڈ:: امریکی شہر انگل ووڈ کے لاس اینجلس اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی کے اہم مقابلے میں ایران نے شاندار دفاعی کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیلجیم کو 0-0 سے برابر پر روک دیا۔ میچ کے دوران بیلجیم کے ناتھن نگوئے کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے کے بعد ان کی ٹیم کو طویل وقت دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔
بیلجیم نے میچ کا آغاز پُراعتماد انداز میں کیا اور ابتدائی لمحات میں گیند پر زیادہ کنٹرول رکھتے ہوئے کئی خطرناک حملے کیے۔ میکسم ڈی کوئپر نے دور سے ایک زوردار شاٹ لگائی، تاہم ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند نے آسانی سے گیند کو قابو میں کر لیا۔
ایران نے جوابی حملوں پر انحصار کیا اور 24ویں منٹ میں مہدی طارمی نے ایک خوبصورت فری کک موو کے بعد گیند جال میں پہنچا دی، لیکن وی اے آر جائزے کے بعد آف سائیڈ قرار دیتے ہوئے گول مسترد کر دیا گیا۔
پہلے ہاف میں بیلجیم نے متعدد مواقع پیدا کیے، مگر علی رضا بیرانوند نے شاندار گول کیپنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی یقینی گول بچائے اور اپنی ٹیم کو برابر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ 66ویں منٹ میں آیا جب بیلجیم کے ناتھن نگوئے نے گول کی جانب بڑھتے ہوئے مہدی طارمی کو فاؤل کر دیا۔ ریفری نے فوری طور پر انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا، جس کے بعد بیلجیم کو باقی وقت دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔ یہ ورلڈ کپ 2026 کا آٹھواں ریڈ کارڈ بھی تھا۔
عددی برتری حاصل ہونے کے بعد ایران نے فتح کے حصول کے لیے حملوں میں اضافہ کیا اور کوچ نے تازہ دم کھلاڑی میدان میں اتار کر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی۔ تاہم ایرانی فارورڈز اپنے مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور بیلجیم کا دفاع آخری وقت تک مزاحمت کرتا رہا۔
میچ بغیر کسی گول کے ختم ہوا اور دونوں ٹیموں نے ایک، ایک پوائنٹ حاصل کیا۔ گروپ جی کی صورتحال انتہائی دلچسپ ہو گئی ہے جہاں ایران سرفہرست اور بیلجیم دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ نیوزی لینڈ اور مصر بھی ایک، ایک پوائنٹ کے ساتھ اگلے مرحلے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
ڈرا پر بیلجیم کے کوچ ناراض، کہا مواقع ضائع کرنے کی قیمت چکانی پڑی
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی میں ایران کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر رہنے کے بعد بیلجیم کے ہیڈ کوچ روڈی گارشیا نے اپنی ٹیم کی ناقص فنشنگ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھلاڑیوں نے متعدد مواقع پیدا کیے لیکن انہیں گول میں تبدیل نہ کر سکے، جس کی وجہ سے کامیابی ہاتھ سے نکل گئی۔
بیلجیم نے میچ کے آغاز سے ہی گیند پر اپنی گرفت مضبوط رکھی اور مسلسل حملے کیے، تاہم ایرانی گول کیپر علی رضا بیرانوند شاندار فارم میں دکھائی دیے۔ انہوں نے کئی اہم سیو کر کے اپنی ٹیم کو نقصان سے بچائے رکھا۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے روڈی گارشیا نے کہا کہ ان کی ٹیم آسانی سے کئی گول کر سکتی تھی، لیکن حملہ آور کھلاڑی فیصلہ کن لمحات میں مؤثر ثابت نہ ہوئے۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس ایران کے خلاف واضح برتری حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا، مگر ہم اپنے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ جب آپ اتنے مواقع پیدا کریں اور پھر بھی گول نہ کر سکیں تو جیت حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘بیلجیمی کوچ کے مطابق ان کی ٹیم نے حکمتِ عملی کے اعتبار سے منصوبے پر عمدہ عمل کیا اور بیشتر وقت کھیل پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن آخری ضرب لگانے میں ناکامی نے انہیں فتح سے محروم کر دیا۔
روڈی گارشیا نے ناتھن نگوئے کے ریڈ کارڈ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کپ جیسے بڑے مقابلے میں تقریباً آدھا گھنٹہ دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ورلڈ کپ میں ایک کھلاڑی کم ہونے کے بعد اتنی دیر تک مقابلہ جاری رکھنا آسان نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود ہمارے کھلاڑیوں نے بھرپور جدوجہد کی۔‘‘
میچ کا اہم موڑ 66ویں منٹ میں آیا جب ناتھن نگوئے نے گول کی جانب بڑھتے ہوئے مہدی طارمی کو فاؤل کیا، جس پر ریفری نے انہیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا۔ اس کے بعد بیلجیم کو باقی وقت دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔
عددی برتری ملنے کے بعد ایران نے حملوں کی رفتار تیز کی اور کئی نئے کھلاڑی میدان میں اتار کر جیت کے لیے دباؤ بڑھایا، لیکن ایرانی فارورڈز بھی اپنے مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
میچ 0-0 سے ختم ہوا اور دونوں ٹیموں نے ایک، ایک پوائنٹ حاصل کیا۔ گروپ جی میں صورتحال دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں ایران دو پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست جبکہ بیلجیم بھی دو پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ نیوزی لینڈ اور مصر ایک، ایک پوائنٹ کے ساتھ اگلے مرحلے کی دوڑ میں شامل ہیں