2026 کا فیفا ورلڈ کپ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جبکہ اس سے پہلے 1998 سے 2022 تک ٹورنامنٹ میں 32 ٹیمیں شریک ہوتی تھیں۔
سوئٹزرلینڈ کے نشریاتی ادارے بلیو اسپورٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انفانٹینو نے کہا کہ 2026 کے ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد متعلقہ فیفا کمیٹیاں 64 ٹیموں والے فارمیٹ پر غور کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ صرف یورپ اور جنوبی امریکہ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہوتا ہے۔ ہر ملک کو یہ امید اور خواب ہونا چاہیے کہ وہ ایک دن ورلڈ کپ میں کھیل سکتا ہے۔
انفانٹینو نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں قومی ٹیموں کا معیار مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔ اگر چھوٹے ممالک کو ورلڈ کپ میں شرکت کا موقع نہ دیا جائے تو ان کے لیے ترقی اور بہتری کی ترغیب بھی کم ہو جائے گی۔
64 ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ کی تجویز پہلی مرتبہ مارچ 2025 میں اس وقت سامنے آئی تھی جب جنوبی امریکی فٹ بال کنفیڈریشن کونمیبول نے 2030 کے ورلڈ کپ کو 64 ٹیموں تک بڑھانے کی تجویز پیش کی تھی۔ 2030 کا ٹورنامنٹ ورلڈ کپ کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر منعقد ہوگا۔
تاہم اس تجویز پر سب متفق نہیں ہیں۔ کونکاکاف کے صدر وکٹر مونٹاگلیانی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان کے خیال میں ورلڈ کپ کو 64 ٹیموں تک بڑھانا نہ صرف ٹورنامنٹ بلکہ مجموعی فٹ بال نظام کے لیے بھی مناسب فیصلہ نہیں ہوگا۔
اگر اس تجویز کی منظوری مل گئی تو 64 ٹیموں والے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 128 میچ کھیلے جائیں گے، جو 32 ٹیموں والے فارمیٹ کے مقابلے میں دوگنا ہوں گے۔ موجودہ 2026 ورلڈ کپ میں 104 میچ شیڈول ہیں۔
دریں اثنا 2026 فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی چار ٹیمیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ فرانس، اسپین، انگلینڈ اور ارجنٹائن سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔ فرانس اور اسپین کے درمیان سیمی فائنل کی فاتح ٹیم 20 جولائی کو ہونے والے فائنل میں انگلینڈ یا ارجنٹائن میں سے کسی ایک کا مقابلہ کرے گی، جبکہ دونوں شکست خوردہ سیمی فائنلسٹ تیسری پوزیشن کے پلے آف میں آمنے سامنے ہوں گے۔