کشور ہندوستاں فخر جہاں کشمیر ہے

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 28-06-2026
 کشور ہندوستاں فخر جہاں کشمیر ہے
کشور ہندوستاں فخر جہاں کشمیر ہے

 



سری نگر،وادی سون مرگ، گل مرگ اورپہلگام کا سفر   

عمیر منظر
شعبہ اردو
مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
 
بھلا ہو غالب کا کہ جنھوں نے میر کے دیوان کو گلشن کشمیر سے تشبیہ دی تھی۔یعنی میر کا کلام خوب صورتی اور تازگی میں کشمیرسے کسی طرح کم نہیں۔ جس طرح کشمیر بے پناہ قدرتی حسن اور تازگی سے مالا مال ہے وہی حال میر کے کلام کا بھی ہے۔ایک عرصہ گذر جانے کے بعد بھی نہ توکشمیر کے حسن پراور نہ میر کے کلام پرکسی طرح کی پژمردگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔غالب کا شعر ہے    ؎
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
حالانکہ اس دوران میں زمانے کے نشیب و فراز کم نہیں رہے۔سیاسی اور سماجی سطح پر کیسی کیسی تبدیلیاں بھی ہوئیں مگر ان پر بہار کی کیفیت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
صاحب مضمون کشمیر میں
کشمیرایک ایسی دلفریب وادی ہے کہ جس کے نادیدہ عاشقوں کی تعداداس کے دیکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔کیا شاہ کیا گدا ہر کوئی اس کوچے کا شیدائی اور عاشق ہے۔اکبر جب پہلی بار 1588(۷۹۹ھ)میں لاہور سے کشمیر کے لیے روانہ ہوا تھا اس وقت کوئی راستہ نہیں تھا۔اس کا پتا لگانا اور اسے اس لائق بنانا کہ اس پر سفر کیا جاسکے اکبر کے جنگ جویانہ مزاج کا اظہار ہے۔راستہ بنانے اور سفر کرنے کا کام ساتھ ساتھ ہوا۔ ایک بار سے طبیعت سیر نہیں ہوئی یہاں تک کہ اکبر بار بار گیا۔تین بار کا ذکر مختلف حوالوں سے ملتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ فارسی شعرا نے کشمیر کے حسن و جمال کی جو تعریف کی تھی اسی سے متاثر ہوکر اکبر نے یہاں کا سفر کیا تھا۔مغل دور کے مشہور شاعر ابو الفیض فیضی جو کہ علامہ ابو الفضل کے بھائی تھے کشمیر کی تعریف میں ان کی ایک نظم کا شعر ہے   ؎
درد بجائے گیا،زعفراں ہمی روید
کہ آب و خاک طرب راچنیں  بود تاثیر
یعنی کشمیر میں کانٹوں کی جگہ زعفران اگتا ہے کیونکہ یہاں کی مٹی اور پانی میں خوشی (طرب)کی ایسی تاثیر پائی جاتی ہے۔شاید اسی شعر کا اثر تھا کہ کشمیر کے ایک سفر کے دوران  اکبر نے گلزار زعفران یعنی پانپور میں سات روزتک قیام کیا۔کشمیر کی دلفریبی اور رعنائی کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ اکبر کے علاوہ جہاں گیر،شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے لیے یہ ایک محبوب جگہ رہی ہے۔یہاں کے سبزہ زاروں، مرغزاروں اور دیگر نظاروں میں وہ کھوجاتے تھے۔چشموں سے سیراب ہوتے تھے۔یہ ایک ہزار سال پہلے کا یہ واقعہ ہے۔اس وقت سے لے کر آج تک جو بھی کشمیر جاتا ہے ایک بار میں طبیعت سیر نہیں ہوسکتی بلکہ بار بار طبیعت جانے کو کہتی ہے۔
گلمرگ کی حسین وادی
کشمیر جون (2026)کے وسط میں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ یہ جگہ محسوس کرنے کی ہے۔ یہاں کے مناظر کو کیمرے میں قید تو کیا جاسکتا ہے لیکن وہ احساس اور کیفیت کیسے اس میں لائی جاسکتی ہے،جو اس سرزمین کو دیکھ کر دل میں پیدا ہوتی ہے۔ہفت روزہ سفر میں جہاں جہاں سیرو تفریح کے لیے بآسانی پہنچ سکتے تھے وہاں کی سیر کی گئی لیکن ہر ہر قدم پر یہی احساس جاگزیں رہا کہ ٹھہر کر اور رک کر دیکھنے اور محسوس کرنے کی یہ جگہ ہے۔تیز رفتار گاڑیوں اور دیگر ذرائع سے سفر کیا جاسکتا ہے اور بتایا جاسکتاہے کہ ہم یہاں یہاں گئے لیکن اس کی کیفیت کے بیان کا یارا نہیں ہوسکتا۔احمد مشتاق کے بقول  ؎
ایک سے بڑھ کر ایک نظارہ دمک رہا ہے عالم سارا
آنکھیں کم اورحسن بہت ہے کہاں کہاں دامن پھیلاؤں
وادیاں،چشمے،پہاڑ،باغات اور برف پوش علاقے کیا کیا دیکھا جائے اور کس طرح دیکھا جائے۔کشمیر کی شادابی اور وہاں کے سبزہ زار موسم آنکھوں کو ایک عجب لذت سے سرشار کردیتے ہیں۔کبھی کبھی اپنی آنکھوں پر ہی یقین نہیں آتا تھا کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔لکھنؤ میں شدت کی دھوپ اور اڑتی ہوئی دھول چھوڑ کر آئے تھے۔اور یہاں ہمارے لیے حسن و شادابی کے باغات کھلے ہوئے تھے۔قدرت نے کس دریا دلی کے ساتھ یہاں فطرت اور اس کے جمال کو یہاں ہم آغوش کردیا ہے۔بقول بانی
وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا
تمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے
کنہیا لال عاشق دہلوی 17،اپریل 1847کو لاہورسے جموں کے لیے بذریعہ ہاتھی روانہ ہوئے تھے۔لیکن اب تو سفر کی اس قدر سہولت پیدا ہوگئی ہے کہ جون2026 میں یہی محسوس ہورہا ہے تھا کہ ہندستان کا ایک بڑا حصہ کشمیر میں ہی موجود ہے۔مسلسل توجہ اور کوشش سے کشمیر تک پہنچنے کے راستے اس قدر بہتر ہوگئے ہیں کہ اب ہوائی سفر سے کہیں زیادہ لوگ اپنی گاڑیوں سے وہاں پہنچ رہے ہیں۔رہی سہی کسر”وندے بھارت“ نے پوری کردی۔سفر کی دوری اور دشواری نام کو نہیں بس عزم سفر چاہیے۔ اس برس کشمیر کے بیشتر سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا ایک ہجوم تھا۔مزید کرم بارش نے کیا کہ دوپہر بعد جو شروع ہوئی تو رکنے کا نام نہیں۔ اسی وجہ سے ہم پہلگام میں صرف ایک ہی مقام ”آرو ویلی“تک ہی پہنچ سکے۔اسی کو دیکھتے اور لوٹتے لوٹتے رات ہوگئی۔اپنی گاڑیوں سے وہاں پہنچنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔چونکہ اس وقت ہندستان کے ایک بڑے حصے میں شدید گرمی پڑرہی ہے بلکہ لوگ گرمی سے جھلس رہے ہیں۔اس لیے کشمیر جیسے سرد مقام پر پہنچ کر جو مسرت اور سکون میسر آتا ہے اس کو بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔دن بھر سیر و تفریح اور گھومنے کے بعد نہ تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے اور کسی طرح کی ماندگی ہی ہوتی ہے۔صبح کی بیداری گراں نہیں گذرتی بلکہ ایک خواب آور لذت سے اسے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہی کیفیت ہر دن ایک نئی مہم کے لیے تیار رکھتی ہے۔
 مغل باغات کا حسن
سری نگر باغوں کا شہر ہے۔جن میں متعدد کو تاریخی حیثیت حاصل ہے۔جہاں گیر نے نور جہاں کے لیے جو باغ بنوایا تھا وہ شالیمار باغ ہے۔بعضے اسے ”محبت باغ“ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ڈل جھیل کے کنارے نشاط باغ ہے۔اس باغ پر جو بورڈ وآویزاں ہے اس پر”ثقافتی مغل باغ نشاط“لکھا ہوا ہے۔ یہ باغ سیڑی نماچھتوں (درجوں) پر مشتمل ہے۔یہاں سے ڈل جھیل کا نظارہ ایک نئے لطف سے ہم کنار کرتا ہے۔چشمہ شاہی کو پہلے دن (16جون)دیکھنے کا موقع ملا تھا اسے دیکھ کر کچھ خاص تاثر نہیں ابھرا تھا کیونکہ یہ باغ بہت چھوٹا ہے لیکن یہاں ایک قدرتی چشمہ ہے جس کی وجہ سے لوگ اسے دیکھنے جاتے ہیں اور متاثر بھی ہوتے ہیں ۔
پری محل تاریخی باغ ہے۔داراشکوہ نے اس کی بنیادی رکھی تھی۔ اس کی ساخت بھی سیڑھی نما ہے۔اس کا ہر درجہ خوب صورتی اور سلیقے مندی کا شاہ کار ہے۔رسالہ ”رموزات“ میں داراشکوہ نے ”پری محل کو تصوف کے ایک رہائشی اسکول سے تعبیر کیا ہے“۔یہاں ایک حمام بھی ہے۔یہاں سے  ڈل جھیل کا نظارہ بھی پری محل کی دلفریبی میں اضافہ کرتا ہے۔یہیں پر ہمدم دیرینہ ڈاکٹر عمر فاروق (اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ) اور ان کی فیملی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان دنوں وہ بھی کشمیر کی سیاحت کررہے تھے۔باغوں میں داخلے کے لیے ٹکٹ خریدنا ضروری ہے۔
ڈل لیک کے نظارے
ڈل جھیل کا نظارہ اور شکارا سے اس کی سیر سری نگر کی سیاحت کا ایک دلچسپ تجربہ تھا۔لکڑی سے  بنی خوب صو رت اور روایتی کشتیوں سے جھیل کی سیر کرائی جاتی ہے،جسے وہاں شکارا کہتے ہیں۔ہم جیسے ہی کشتی پر سوار ہوئے اور ابھی سفر شروع ہوا تھا کہ معلوم ہوا کہ جھیل کے اندر ایک دنیا آباد ہے۔ایسی کون سی شے ہے جو یہاں کھانے کے لیے دستیاب نہ ہو۔چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر خور ونوش کی اشیایعنی کشمیری قہوہ سے لے کر کباب اور دیگر فاسٹ فوڈ تک کیا کچھ  ڈل جھیل کے پانیوں پر دستیاب نہ تھا۔مسافروں کے شانہ بشانہ ایک دوسری کشتی میں اشیائے خور و نوش لے کر وہ ساتھ ہوجاتے جس طرح بازاروں میں دکاندار اپنی چیزیں فروخت کرنے کے لیے آواز لگاتے ہیں اسی طرح یہ بتاتے مگر ان کی آواز زیادہ بلند نہ ہوتی۔
کچھ دیربعد ہماری کشتی ان راستوں سے گذرنے لگی جہاں مختلف قسم کی دکانیں تھیں۔ہم نے ایک دو جگہ رکنے کے لیے کہاں تو اس نے فوراً کشتی روک دی اور ہم نے بہت اطمینان سے ان دکانوں کواور وہاں فروخت ہونے والی مختلف اشیاکو دیکھا۔قالین،لکڑی کے ساز و سامان، شال کے علاوہ ہوٹل اور دیگر آرائشی سامانوں کی بھی دکانیں ڈل جھیل میں موجود ہیں۔یہ تمام دکانیں لکڑی کی ہیں۔کشمیر کی لکڑیاں جن کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ سوبرس تک یہ پانی میں خراب نہیں ہوتیں۔ایک دکان دار سے ہم نے معلوم کیا کہ یہ دوکان کب کی ہے تو اس نے بتایا کہ کئی نسلوں سے اسی پر گذر اوقات ہے۔وقتاً فوقتاً اس کی مرمت ہوتی رہتی ہے۔ڈل جھیل میں پہنچ کر اندازہ ہوتا ہے کہ جیسے اس شہر میں گاڑیوں سے کہیں زیادہ کشتیوں کی تعداد ہے۔جس میں جدید و قدیم سب شامل ہے۔نگین لیک میں ایک رات ہاؤس بوٹ میں بھی گذارنے کا موقع ملا۔ہمارے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔جھیل کے کنارے کشتی نمالکڑی کا ایک گھر، جس میں رہنے کی تمام جدید سہولتیں موجود ہیں۔اسے کشمیر کی سیاحت کا ایک اہم رکن قرار دیا جاسکتا ہے۔ چونکہ یہ ہاؤس بوٹ جھیل کے کنارے کنارے ہوتے ہیں۔دیر رات تک کشتیوں پر سوار مختلف قسم کے تاجر آتے رہتے ہیں۔کشتی بھی سامانوں کی خرید و فروخت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
سون مرگ کی حسین پہاڑیاں
سون مرگ سطح سمندرسے 2730میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ہمارے ہفت روزہ سفر میں یہ سب سے سرد مقام رہا۔جنوری کی سردیا ں یاد آگئیں۔برف پر چلنے کا تجربہ کیا گیا۔اس کے لیے پہلے سے تین جوڑی خاص قسم کے جوتے کرایے پر لے لیے گئے تھے جو اس سفر میں بہت کام آئے۔احمدزہیر نے پہاڑ کی زیادہ بلندی پر جاکر برف کا لطف اٹھایا بقیہ لوگوں نے حسب توفیق یہ مہم سرکی۔ گل مرگ وادی کا ایک حصہ تو ٹہل گھوم کر دیکھا گیا۔ یہ چہل قدمی اس وادی دل فریب میں یادگار رہی۔ کئی مرتبہ بارش میں بھیگنے کا لطف یہیں ملا۔خچروں سے بلندیوں پر لوگ جارہے تھے مگر کہیں بھی خچر سے سفر کے لیے ہم لوگ خود کو آمادہ نہیں کرسکے۔ا س لیے کہ وہ جن راستوں سے گذرتے ہیں وہاں کی گندگی اور بدبوکو برداشت کرنا آسان نہیں۔ وادی سے گذرے ہوئے ایک مقام پر ایک فوجی سے راستہ کی رہنمائی چاہی تو اس نے فوراً بتایا۔ جواباً میں نے تھینک یو کہہ دیا تو اس نے کہا کہ شکریہ کہنے پر مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ پھر کیا تھا شکریہ سے لے کر جزاک اللہ تک بات پہنچ گئی۔
سری نگر کی شاندار تاریخی جامع مسجد
جمعہ کے دن ہمارے لیے یادگار رہا۔ہر طرف اذانوں کی آواز گونج رہی تھی۔بعض مساجد سے مقامی زبان میں تقریر تو کہیں نعت و منقبت کے اشعار پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔محرم کا مہینہ شروع ہوچکا تھا تو کہیں کہیں سے کربلااور شہادت کے الفاظ بھی سنائی دے رہے تھے۔ہم جب جامع مسجد (سری نگر)پہنچے تو خطبہ سے پہلے تو نہایت پرجوش تقریر جاری تھی۔چونکہ تقریر مقامی زبان میں تھی اس لیے مکمل سمجھنا تو مشکل تھا مگر مرکزی موضوع واقعات کربلا لگ رہا تھا۔تقریر کے بعد درود و سلام اور دیگر دعائیں بلند آواز میں پڑھی گئیں۔بیماروں کی شفایابی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔جامع مسجد میں عورت اور مرد  دونوں کے نماز جمعہ ادکرنے کی گنجائش ہے۔ مسجد کے اندر بھی وضوخانہ ہے لیکن مسجد سے متصل اس کے احاطے میں وضواور طہارت کے لیے الگ سے نہایت عمدہ انتظام ہے۔اس کے لیے دس روپے بھی وصول کیے جاتے ہیں۔مسجد کے احاطے میں مختلف طرح کی دکانیں نہایت سلیقہ سے آراستہ ہیں۔کچھ خریداری ہم لوگوں نے بھی یہاں سے کی۔یہاں کی قدیم اور بڑی مساجد میں جامع مسجد کا شمار ہوتا ہے۔سلطان سکندر نے اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 1394میں کیا تھا۔ پرانے شہر کے وسط میں قائم اس مسجد کی تعمیر میں کشمیر کی لکڑی کا روایتی کام شامل ہے۔ کشمیر کی سیاست،تاریخ اور ثقافت کے گواہ کے طورپر بھی اس مسجد کوجانا جاتاہے۔کشمیر میں بے شمار مساجد ہیں اور سب ایک خاص طرز کی ہیں۔یہاں ہماری طرح بلند و بالا منارے نہیں ہوتے بلکہ منارچے ہوتے ہیں۔دیواریں پتھر اور اینٹ کی ضرور ہوتی ہیں مگر چھت کا کام بالعموم لکڑی کا ہوتا ہے۔ایک اہتمام اور دیکھنے کو ملا کہ تمام مساجد کے دروازے پر اگلی نماز کا وقت الیکٹرانک گھڑی میں دکھائی دیتا ہے۔عشا اور فجر میں وادیاں اذان کی آواز سے گونج اٹھتی ہیں۔یہ موقع بہت سحر انگیز ہوتا ہے۔
سڑکوں پر اردو میں سائن بورڈ
کشمیر میں جگہ جگہ اردو بورڈ دیکھ کر جو خوشی ہوئی اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔اپنی مادری زبان سے اگرچہ ان کا بہت گہرا تعلق ہے مگر ایسا کوئی نہیں ملا جو اردو نہ جانتا ہو یا اس ز بان میں اسے بات کرنے میں کسی قسم کی دشواری ہورہی ہو۔حالانکہ کشمیری آپس میں اپنی مادری زبان میں ہی بات کرتے ہیں۔ایک مشاہدہ اس سفر میں یہ بھی رہا کہ جیسے ہی ہم کسی سیاحتی مقام کے لیے نکلتے،ہماری گاڑی کا ڈرائیور سجاد لون کسی سے فون پر مقامی زبان میں بات کرنے لگتا۔خیال ہوتا کہ شاید اس کا کوئی خاص معاملہ ہوا لیکن ایک دو بار دوسروں کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا تو وہاں بھی یہیں صورت رہی معلوم ہوا کہ سیاحتی مقام کے لیے جو لوگ گاڑیاں چلاتے ہیں وہ ایک دوسرے نہایت سرگرم رابطے میں رہتے ہیں۔انھیں معلوم ہوتاتھا کہ جس طرف ہم آج جارہے ہیں اس طرف دوسری کون گاڑیاں جارہی ہیں۔ان سے ٹریفک کا حال معلوم کرتے۔حیرت یہ ہوتی تھی کہ سون مرگ اور گل مرگ کے خطرناک پہاڑی راستوں پر بھی ڈرائیو کرتے وقت وہ بات کرتے رہتے تھے۔ہمارے لیے ایک خطرناک راستہ تھا مگر ان کے لیے معمول کی بات تھی۔
ایک حیرت انگیز چیز ان تمام جگہوں پر دیکھنے کو ملی جہاں جہاں ہم گھومنے گئے کہ پان مسالہ کھانے والے کہیں نہیں ملے۔کسی بھی راستے پر یا اجتماعی جگہوں پر اس کی پیک یا وہ رنگ جو ہم لکھنؤ اور دلی میں دیکھنے کے عادی نہیں ملا۔کشمیر ی عام طورپر سگریٹ پیتے ہیں جس کا مشاہدہ بھی کیا۔سری نگر میں ہمیں ایسی کوئی دکان نہیں ملی جہاں اس طرح کی چیزیں دستیاب ہوں۔حالانکہ ہم لوگ چاہے پان مسالہ کا استعمال کریں یا نہ کریں مگر اس کو دیکھنے بعض اوقات پان / مسالہ  کی پیک کا شکار بھی ہوجاتے ہیں۔اب تو یہ معمول کی بات ہے۔
ایک بات یہ بھی مشاہدہ میں آئی کہ جس طرح شعرا اپنا شعر سنا کر داد طلب نظروں سے سامعین کی طرف دیکھتے ہیں اسی طرح سیاجوں سے بھی مختلف سطح پر جو کشمیری رابطے میں آتے،ڈرائیوں سے لے کر ہوٹل مالکان بلکہ کبھی کبھی تو عام دکان داربھی وہ یہ ضرور پوچھتے کہ ہمارا کشمیر کیسا لگا۔ہماری داد پر وہ بے حد خوش ہوتے بلکہ ان کے چہرے کھل جاتے تھے۔انھیں کیا پتا کہ نظامت میں ہم کتنے خراب شعروں پر بھی مجبوراً داد دے چکے ہیں۔یہاں تو معاملہ حقیقی داد کا تھا۔اسی داد کی اگلی منزل بخشش یعنی Tip ہے۔جس کا اچھا خاصا رواج یہاں پایا جاتا ہے۔
مئی اور جون سیب کا موسم نہیں ہے۔سیب کے بہت سے باغات دیکھنے کے بعد ہم کشمیر سے سیب کھائے بغیر ہی لوٹ آئے۔البتہ دیگر فواکہات سے تمتع کاموقع ملا۔پہلگام جاتے وقت پانپور دیکھنے کا موقع ملا مگر ابھی زعفران کی کھیتی شروع نہیں ہوئی تھی اس لیے ہم لوگ اس نظارے سے محروم رہے،جس کا ذکر بہت سے سیاحوں نے کیا ہے۔خریدو فروخت میں یہاں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ مول تول کی گنجائش زیادہ ہے البتہ لال چوک پر کچھ ایسی دکانیں ملیں جو کشمیر ٹورزم محکمے کے تحت تھیں اس لیے وہاں اس کی گنجائش نہیں تھی۔کہا جاتاہے کہ کشمیر کے موسم اور یہاں کی زبان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔قسمیں کھانے والے یہاں بہت ہیں۔اور موسم کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب بارش ہوجائے۔صبح نکلتے تو اچھا خاصا موسم ہوتا اور شام تک نہ جانے کہاں کہاں بارش ہوجاتی۔ ہفت روزہ سفر(16تا22جون 2026)میں شاید سری نگر کا ایک دن تھا جب بارش نہیں ہوئی۔
ہمارے دوست اور مانو لکھنؤ کیمپس میں شعبہ سیاسات کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد گنائی کے صلاح و مشورہ سے یہ سفر ترتیب دیاگیا تھا۔سفر کی خوش گوار یادوں میں ان کے حسن انتظام کا خاص دخل ہے۔وہ سری نگر ایک دن وقت نکال بطور خاص تشریف لائے،جس نے سفر کو مزید خوش گوار بنادیا۔کشمیر یونی وسٹی کا وسیع اور کشادہ کیمپس،علامہ اقبال لائبریری،چنار کے درختوں کاباغ انھیں کے توسط سے دیکھنے کو ملے۔ لال چوک کی سیر اور دریائے جہلم پر بنے لکڑی کے پل کی خوشگوار یادیں انھیں کا عطیہ ہیں۔ڈاکٹر نسیم گل جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ساتھیوں میں ہیں۔ایس آر کے ہوسٹل کے کمرہ نمبر 302کی بہت سی یادیں ان سے وابستہ ہیں۔جب انھیں معلوم ہوا کہ میں کشمیر آیا ہوا ہوں تو طویل سفر طے کرکے مجھے سے ملنے بطور خاص تشریف لائے۔اس وقت باباغلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی (راجوری)کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جناب منظور احمد وانی بھی جا معہ ملیہ اسلامیہ کے دوستوں میں ہیں۔اپنے وطن کشمیر میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔آخری روز ان کے گھر پر نہایت خوشگوار ملاقات رہی۔کشمیری ضیافت سے ہم لوگ فیض یاب ہوئے۔کشمیر کے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر مبارک لون بھی ایک روز ملاقات کے لیے تشریف لائے۔کشمیر یونی ورسٹی کے شعبہ اردو سے انھوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔شاعری کرتے ہیں ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔جامعۃ الفلاح میں ہمارے جونئیر ساتھی اظہار مجید فلاحی بھی ملاقات کے لیے آئے۔تقریباً تین دہائیوں کے بعد ہم مل رہے تھے۔اردو صحافت سے ان کا تعلق ہے۔سری نگر میں تعمیل ارشاد اخبار سے وابستہ ہیں۔ شفق سوپوری سے اگرچہ ملاقات نہیں ہوسکی لیکن ان کی محبتیں اس سفر میں مجھے حاصل رہیں۔فون سے وہ برابر رابطے میں رہے۔
کشمیر ہمیشہ سے لوگوں کے لیے مرکز نگاہ رہا ہے اور یہ صورت آج بھی برقرار ہے۔مغل سلاطین سے لے کر آج تک جو بھی اسے دیکھتا ہے وہ دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔یہاں کی یادیں اس کی زندگی کا ایک حسین سرمایہ بن جاتی ہیں۔ سیاحت کے فروغ پانے سے یہاں کے لوگوں کی خوشی دیدنی تھی۔