عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی
عمیر منظر : شعبہ اردو مانو لکھنؤ کیمپس، لکھنؤ
صحت و تندرستی دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ہرزمانے میں بیماری ایک بڑا آزار رہی ہے۔آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اسپتال کے تصور سے ہی ذہن کانپ جاتاہے۔علاج و معالجہ کی سہولت کے باوجودبیماری تو بیماری ہے۔اس کی مشکلات اور مسائل کو جھیلنا ہر شخص کے بس میں نہیں۔ موجودہ نظام صحت اپنے بعض رویوں کے سبب بھی عوام میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔اسی لیے اچھی صحت اور تندرستی کی مثال دی جاتی ہے۔اور اس پر بجا طورپر فخر بھی کیا جاتاہے۔ یعنی صحت کل بھی نعمت تھی اور آج بھی۔سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی کے باوجود بہت سی بیماریوں سے شفایابی کی مکمل صورت اب تک نہیں مل سکی ہے۔بلکہ دنیا جیسے جیسے ترقی کرتی جارہی ہے صحت کے مسائل اسی حد تک تشویش ناک ہوتے جارہے ہیں۔صحت کے کچھ مسائل تو انسانوں کی اپنی زندگی کے غلط طرز کے سبب بھی پیدا ہوئے ہیں۔زندگی کے انھیں غلط طرز میں سے ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔اس کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھورہے ہیں۔مختلف بیماریوں اور مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔اس کے نتیجے میں دیگر مسائل سے بھی دوچار ہورہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت اور صحت سے متعلق دیگر علاقائی ادارے مختلف مواقع پر بیماریوں اور دیگر وباسے بچنے کے بارے میں مشورہ جاری کرتے رہتے ہیں۔اسی لیے ہر سال 31 مئی کو پوری دنیا میں انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن (World No Tobacco Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کو عالمی ادارہ صحت (WHO) اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر مناتا ہے۔اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے بچایا جائے اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جا سکے۔ (WHO) 7 اپریل 1948ء کو قائم ہوا اور اس کا مرکزی دفتر جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعدمختلف بیماریوں کی روک تھام اور صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عالمی ادارہ صحت کاقیام عمل میں آیا تھا۔یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پرلوگوں کی صحت کے مختلف مسائل کی دیکھ ریکھ کرتا ہے۔دنیابھر میں ہر برس کم و بیش 80لاکھ لوگ تمباکو نوشی کی وجہ سے فوت ہوتے ہیں۔ان میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو خود اس کا استعمال نہیں کرتے بلکہ وہ اس کے دھوئیں کا شکار ہوجاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا بنیادی مقصدلوگوں کو آگاہ کرنا اور صحت کے تئیں نوجوانوں اور عام لوگوں میں اس کا شعور اور بیداری پیدا کرناہے۔
اردو ادبیات کا مطالعہ کرنے والوں کے علم میں یہ بات ہوگی کہ وہ محض تفریح کاسامان فراہم نہیں کرتا بلکہ ادب انسانی،سماجی،ثقافتی،اخلاقی اور جمالیاتی شعور کی تہذیب کرتا ہے۔انسانوں میں ہمدردی اور رواداری کے شعور کو عام کرتا ہے۔ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اعلی اخلاقی اقدار کی پرورش کرتا ہے۔دراصل ادب انسان کو محض زندگی کا شعور ہی نہیں دیتا بلکہ وہ ایک بہتر انسان بننے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔آج کے دن کو اگرنگاہ میں رکھیں اور اس حوالے سے اردو ادب پر نگاہ ڈالیں تو ایک تعمیری اور مثبت قدر سامنے آتی ہے۔کلاسیکی شاعری اور طب میں ایک ناگزیر رشتہ رہا ہے۔قصیدوں اور غزلوں میں شعرا نے صحت و تندرستی کے بہت سے بنیادی مسائل اور اصول پر روشنی ڈالی ہے۔اطبا کا کہنا ہے کہ حالت صحت میں نبض معتدل رہتی ہے۔یعنی نبض کا معتدل ہونا صحت مندی کی علامت ہے۔
غالب کے شاگرد اور مشہور کلاسیکی شاعر قربان علی سالک بیگ کے شعر کا ایک مصرعہ تو ہر شخص کی زبان پر رہتا ہے۔ان کا مشہور مصرعہ ہے۔تندرستی ہزار نعمت ہے۔ان کا مکمل شعر ملاحظہ فرمائیں۔
تنگ دستی اگرنہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے
اس نعمت کے حوالے سے انھوں نے ایک شرط عائد کررکھی ہے۔اور وہ مال و دولت کی فراوانی ہے۔شعرا نے صحت اور بیماری کے حوالے سے بہت سے مضامین نکالے ہیں اور فکر وخیال کی خوب جولانیاں دکھائی ہیں۔فراق گورکھ پوری نے اپنے ایک شعر میں نیا پہلو نکالنے کی کوشش کی ہے۔یعنی زندگی کے لیے ایک روگ ضروری ہے۔ان کا شعر ہے
پال لے اک روگ ناداں زندگی کے واسطے
صرف صحت کے سہارے عمر تو کٹتی نہیں
صحت و تندرستی سے متعلق اردو غزل میں ایک دنیا آباد ہے۔نئے نئے پہلو اور مختلف انداز سے شعر کہے گئے ہیں۔عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ دل کی بیماری کے متعلق کثرت سے اشعار ہیں۔ایک طرف جہاں صحت و تندرستی کی دعا مانگی گئی ہے وہیں دل کی بیماری میں دواکام نہ کرنے کا شکوہ بھی ہے۔میر کا بہت مشہور شعر ہے
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
مومن خاں مومن نے ایک شعر میں عجب نکتہ اس حوالے سے پیدا کیا ہے کہ ایسا مریض جس کا علاج موت ہو اس کو اگر حضرت عیسی اپنے معجزے سے زندہ کردیں تو بھی کچھ اچھا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کا علاج تو موت ہے۔شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسی
اچھا بھی کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے
منور رانا نے غزل کے دو مصرعوں میں زندگی کا ایک عجیب وغریب نقشہ کھینچاہے۔عہد طفلی سے سے لے کر عمر کے آخری پڑاؤ تک کا ایک چلتا پھرتانقشہ سامنے آگیا ہے۔
کل بھی یہ ہتھیلی چھوٹی تھی اب بھی یہ ہتھیلی چھوٹی ہے
کل اس سے شکر گرجاتی تھی اب اس سے دوا گرجاتی ہے
آخری برسوں میں جب مختلف بیماریوں نے انھیں گھیر رکھا تھا تو اس زمانے میں ان کا ایک اور شعر بہت مشہور ہوا تھا۔بظاہر انھوں نے اپنی آپ بیتی بیان کی تھی مگر شعر کا کمال یہ ہے کہ اس میں جگ بیتی کا رنگ پیدا ہوگیا ہے۔کیوں کہ یہ گھر گھر کا قصہ ہے۔
ہمارے کچھ گناہوں کی سزا بھی ساتھ چلتی ہے
اکیلے ہم نہیں چلتے دوا بھی ساتھ چلتی ہے

مضمون سے مضمون نکالنے کی ایک عمدہ مثال معین شاداب کے شعرمیں دیکھی جاسکتی ہے۔شعرکا طنزیہ لہجہ بھی لطف دے رہا ہے۔
ساری عمر گذاری تم نے مستی میں
ساتھ میں اب معجون اٹھائے پھرتے ہو
اس طرح کی بہت سی مثالیں اردو شاعری کی نگار خانے میں موجود ہیں۔اردو کی ایک مشہور نظم "طبی مشورے" ہے۔اس کے لکھنے والے اللہ ذیشان ہیں۔آج کے دن کے حوالے سے یہ نظم اس لیے پیش کی جارہی ہے کہ اس میں صحت مند رہنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے کچھ اصول بتائے گئے ہیں۔پرہیز سب سے بڑا علاج ہے۔نظم کا لطف لیجیے۔
جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہئے بچنا دوا سے
اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی
جو ہو محسوس معدے میں گرانی
تو پی لے سونف یا ادرک کا پانی
جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا
تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فوراً دودھ گرما گرم پی لے
جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی سے غرارے
اگر ہے درد سے دانتوں کے بے کل
تو انگلی سے مسوڑھوں پر نمک مل
جو بد ہضمی میں چاہے تو افاقہ
تو کر لے ایک یا دو دن کا فاقہ
سرنامے کا مصرعہ میر کا ہے۔ان کا مشہور شعر ہے
میر عمداً بھی کوئی مرتا ہے
جان ہے تو جہان ہے پیارے