ڈاکٹر عمیر منظر
شعبہ اردو,مانو لکھنؤ کیمپس
اس وقت موسم سرما کا عرو ج ہے۔ہرطرف ٹھنڈ اور کہرے کا بول بالا ہے۔سردی کے ساتھ ہی فضا پر ایک عجیب خاموشی کا دور دورہ ہے۔دھند کی گہری چادر نے ہر چیز کو اپنے حصار میں لیا ہے۔تمام اشیا ایک غیر واضح خواب کی طرح ہیں۔سب سے زیادہ اثر اس کا عام انسانی زندگی پر ہے۔ بے سہارا اور غریب لوگوں کے لیے اس وقت سردی ایک قہر کی صورت ہے۔سردی اسی شدت پورے انسانی مزاج اور موسم کو یکسر بدل کررکھ دیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کوئی اور زندگی جی رہے ہیں۔ سور ج سہما سہما سا ہے۔ایسا لگتا ہے وہ تپش اور گرمی جو سورج کی شناخت اور پہچان ہے کہیں کھوگئی ہے۔سورج اپنی شدت اور گرمی کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے مگر اس وقت وہ اپنی تمام خوبیوں سے محروم نظر آرہا ہے۔ڈاکٹر شکیل جہانگیری نے کیا خوب کہا ہے۔
کوئی دم میں ہی پھنکا جاتا ہے عالم سارا
ہم نے سورج میں لگا دی ہے ترے نام کی آگ
سورج تو جلانے کے لیے کافی تھا مگر اب اس میں محبوب کے نام کی بھی آگ لگا دی گئی ہے۔اس لیے نتیجے کے طورپر یہ عالم کسی دم میں خاکستر ہوجائے گا۔آتش نے تو بہت پہلے کہا تھا کہ ”گرمی آتش رخسار نے سونے نہ دیا“۔سورج کی گرمی اپنی جگہ لیکن محبوب کی گرمی اور گرم جوشی شعرا کا محبوب مضمون رہا ہے۔حسرت موہانی کا شعر ہے
ہوئی اس میں اک گرمی شوق پیدا
پڑی جو نظر اس کے رخسار پر
اس طرح کے بہت سے اشعار ہمیں ملتے ہیں۔اسی تناظر میں خدائے سخن میر تقی میر کا شعر ملاحظہ فرمائیں۔میر کا شعر ہے -
نہ گرمی جلاتی تھی ایسی نہ سردی
مجھے یار جیسا جلا جانتا ہے
اردوادب میں موسموں کا بیان خوب ملتا ہے۔واضح رہے کہ شاعری میں اس طرح کا بیانیہ نہیں ملتا جیسا کہ نثرنگاروں کے یہاں پایا جاتا ہے۔موسم کی ہوبہو منظر نگاری افسانوی ادب کا خاصہ ہے مگر غزل گو شعرااپنے لیے نئی راہ نکالتے رہے ہیں اور بار بار کے برتے ہوئے مضامین کو بھی نیا کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ موسم سرما کے تناظر میں شعرا کی نو بہ نوع دلچسپیاں اور متنوع مضامین کو باندھنے کی روایت غیر معمولی کہی جاسکتی ہے۔یہاں ادب اطفال کا ذکر کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھا ہے لیکن اردو نظموں میں بھی موسم کی تبدیلی اور اس کی نیرنگیوں کاایک سے بڑھ کر ایک بیان ملتا ہے۔اس نوع کی دلچسپیاں بھی شعرا کا اہم موضوع رہا ہے۔مصور سبز واروی کے جس مصرعے کوآج کے کالم کا سرنامہ بناگیا ہے پہلے وہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
وہ سردیوں کی دھوپ کی طرح غروب ہوگیا
لپٹ رہی ہے یاد جسم سے لحاف کی طرح
.webp)
سردیوں کی دھوپ کی طرح محبوب غروب ہوگیا اور اس کی یاد لحاف کی طرح جسم سے لپٹی ہوئی ہے جو گرمی پیدا کررہی ہے۔موسم سرما میں اس سے بچنے کے لیے آگ کی ضرورت پڑتی ہے۔گرمی کے لیے جہاں ایک طرف ظاہری اشیا کی ضرورت پڑتی ہے وہیں محبوب کی یاد بھی اس گرمی سے راحت کا سامان پیدا کرتی ہے۔واضح رہے کہ یہ یاد محض یاد نہیں رہ پاتی بلکہ عشق کا پہلا ز ینہ بلکہ کبھی کبھی عشق ہی بن جاتی ہے۔معین شاداب نے اسی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک عمدہ شعر کہا ہے ؎
سردی اور گرمی کے عذر نہیں چلتے
موسم دیکھ کے صاحب عشق نہیں ہوتا
غزل میں محبوب کو مرکزیت حاصل ہے۔اسی مرکزیت سے فائدہ اٹھا کر غزل گو شعرا نے مختلف تناظر میں اس کا ذکر کیا ہے۔ٹھنڈ کے موسم کا بھی جیسا کہ اوپر کہا جاچکا ہے شعرانے ایک سے ایک مضمون باندھا ہے۔
جدید شعرا جنھوں نے داخلیت پر زیادہ زور دیا ان کے یہاں بھی اس نوع کے مضامین بیان باندھے گئے ہیں مگر انھوں نے عام روش کے برخلاف الگ انداز واسلوب اختیار کیا ہے۔ پروفیسر شمیم حنفی جدیدشعری روایت کے شارح و مبلغ کے طورپر جانے جاتے ہیں۔مگر اسی کے ساتھ وہ خود بہت باکمال شاعر بھی تھے یہ الگ بات کہ انھوں نے کم کہا۔ٹھنڈ کے حوالے سے ان کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں -
شام نے برف پہن رکھی تھی روشنیاں بھی ٹھنڈی تھیں
میں اس ٹھنڈک سے گھبراکر اپنی آگ میں جلنے لگا
شمیم حنفی
تقریباً اسی مضمون کو نوجوان شاعر نعیم سرمد نے اپنے مخصوص انداز میں باندھا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔
اب کی سردی میں کہاں ہے وہ الاؤسینہ
اب کہ سردی میں مجھے خود کو جلانا ہوگا
نعیم سرمد
سردی ہے کہ اس جسم سے پھر بھی نہیں جاتی
سورج ہے کہ مدت سے مرے پاس کھڑا ہے
فخر ز ماں
یاس مزاری کا یہ شعر بھی ملاحظہ کریں۔شرط چادر خوب ہے۔
ایسی سردی میں شرط چادر ہے
اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی
چند اشعار اور ملاحظہ فرمائیں
ہجر و وصال کی سردی گرمی سہتا ہے
دل درویش ہے پھر بھی راضی رہتا ہے
ظہیر کاشمیری
چاند کی سردی کو آنکھوں میں بساکر گویا
اپنے سینے میں لگی آگ بجھائی جائے
پرشانت مشرامن
.webp)
سردی کے حوالے سے مزاحیہ شعر ا نے بھی خوب گل کھلائے ہیں اور انھوں نے سردی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ اس کا لطف دوچند ہوجائے۔ساغر خیامی کی اس موضوع پر ایک بہت مشہور نظم ہے،جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔
ایسی سردی نہ پڑی ایسے نہ جارے دیکھے
دو بجے دن میں اذاں دیتے ہیں مرغے سارے
دلاورفگار کا ایک مشہور قطعہ ہے۔اس میں سردی کی رعایت کا خوب فائدہ اٹھایا گیا ہے بلکہ اسے حسن تعلیل کی عمدہ مثال کے طور پر بھی دیکھنا چاہے۔
سکتہ تھا ایک شاعر اعظم کے شعر میں
یہ دیکھ کر تو میں بھی تعجب میں پڑگیا
پوچھی جو اس کی وجہ تو کہنے لگے جناب
سردی بہت شدید تھی مصرع سکڑ گیا
شاعری کے علاوہ افسانوی ادب میں بھی اس موسم کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔پوس کی رات پریم چند کا مشہور افسانہ ہے۔غربت اور ٹھنڈ کو جس طرح انھوں نے ہم آمیز کیا ہے اور جس کمال کے ساتھ انھوں نے اس کا نقشہ کھینچا ہے وہ انھیں کو زیب دیتا ہے۔افسانہ کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں:
پوس کی اندھیری رات آسماں پر تارے بھی ٹھٹھرتے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ہلکو اپنے کھیت کے کنارے اونکھ کے پتوں کی ایک چھتری کے نیچے بانس کے کھٹولے پر اپنی پرانی گاڑھے کی چادر اوڑھے ہوئے کانپ رہا تھا۔کھٹولے کے نیچے اس کا ساتھی کتا”جبرا“پیٹ میں منھ ڈالے سردی سے کوں کوں کررہا تھا۔دومیں سے ایک کو بھی نیند آتی تھی۔
پریم چند کے افسانے کا یہ اقتباس موسم کی سختی کا بلا شبہ ایک خوب صورت اظہار ہے۔