عمیر منظر
شعبہ اردو
مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
ادب حسن کلام اور تاثیر کلام کے ساتھ ساتھ فہم و بصیرت کے بہت سے پہلو رکھتا ہے۔ادبی تخلیقات لطف و انبساط کے علاوہ بھی جواز رکھتی ہیں۔ایک بھرے پرے معاشرہ کی عکاس ہوتی ہیں،اپنے عہد کو روشن کرتی ہیں۔تہذیبی حوالہ بنتی ہیں۔شاعرو ادیب کی پہچان ایک طرف اس کی تخلیقات ہوتی ہیں تو دوسری طرف اس کی ادبی سرگرمیوں کے دیگر پہلو بھی شخصیت کو روشن کرتے ہیں۔ادیبوں اور شاعروں سے متعلق بہت سے قصے،واقعات اور کہانیاں ان کی ادبی وتہذیبی زندگی کی سرگرم عکاس ہوتی ہیں۔بسااوقات زندگی کے بعض چھوٹے چھوٹے واقعات تخلیقی ادب کے ہم پلہ ہوجاتے ہیں۔اس میں نمایاں مثال مرزا غالب کی ہے کہ جن کے اشعار کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے بہت سے واقعات اور قصے ان کی شاعری کی طرح عوامی حافظے کا حصہ ہیں۔حالی نے انھیں حیوان ظریف اسی لیے کہا تھا۔ان باتوں کو عام لوگوں تک پہنچانے میں حالی کی کتاب یادگار غالب کا نمایاں کردار ہے۔
چھوٹے چھوٹے قصے اور ادیبوں کے واقعات ایک تہذیبی داستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی حیثیت ادبی سرمایے کی ہوتی ہے۔اس کی تخلیقی فکر اور شخصیت کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں۔اور اپنے عہد کی سماجی اور ثقافتی زندگی کے آئینہ دار بن جاتے ہیں۔اردو میں چھوٹے چھوٹے قصوں اور واقعات کے حوالے سے میر و غالب کی طرح مشہور ہونے والوں میں ایک نام ملا نصیرالدین کا ہے۔اگرچہ وہ اپنے دلچسپ اور مزاحیہ انداز کے لیے بہت مشہور تھے مگر ان کے قصے اور واقعات ان کی ذہانت اور دراکی کے آئینہ دار ہیں۔ملا نصیر الدین کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ایک صوفی بزرگ تھے۔ ان کی شہرت اور مقبولیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ افغانستان،ایران،ترکی اور بعض دوسرے ممالک یہ دعوی کرتے ہیں وہ ان کے یہاں کے رہنے والے تھے۔اردو میں ان سے بے شمار واقعات اور قصے منسوب اور مشہور ہیں۔اس سے کبھی کبھی یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اسی معاشرہ اور تہذیب کا حصہ ہیں۔ان کا ایک قصہ ملاحظہ کریں۔
ملاجی کے ایک پڑوسی نے تھوڑی دیر کے لیے ان کا گدھا مانگا۔ ملاجی اپنا گدھا دینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے بہانہ کیا، ”گدھا یہاں نہیں ہے۔“ اسی وقت مکان کے پیچھے سے گدھے کے رینکنے کی آواز سنائی دی۔ پڑوسی نے شکایت کی، ”ملاجی، آپ نے تو کہا تھا کہ گدھا نہیں ہے اور یہاں تو گدھے کی آواز آ رہی ہے۔“ ملاجی نے جواب دیا، ”خدا تمہارے ایمان کی کمزوری کو معاف کرے۔ ایک جانور پر اعتبار کرتے ہوئے اور مجھ جیسے سفید داڑھی والے بوڑھے آدمی پر اعتبار نہیں کرتے“۔
محمد حسین آزاد کی مشہور زمانہ کتاب آب حیات میں ادیبوں اور شاعروں کے بے شمار واقعات ہیں۔ان کے مطالعہ سے اس زمانے کی ادبی سرگرمیوں کا ہی اندازہ نہیں ہوتا بلکہ ادبی نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔شعرا کی خوش مزاجی اور ایک دوسرے کے تئیں کچھ کہنے کے لیے موقع ضائع نہ کرنے کا ہنر بھی سامنے آتا ہے۔محمد حسین آزاد لکھتے ہیں۔
جرأت (شیخ قلندر بخش۔وفات 1810) نابینا تھے۔ ایک روز بیٹھے فکر سخن کررہے تھے کہ انشاءؔ آگئے۔ انہیں محو پایا تو پوچھا، ”حضرت کس سوچ میں ہیں؟“
جرأت نے کہا، ”کچھ نہیں، بس ایک مصرعہ ہوا ہے۔ شعر مکمل کرنے کی فکر میں ہوں۔“ انشاءؔ نے عرض کیا، ”کچھ ہمیں بھی پتہ چلے۔“
جرأت نے کہا، ”نہیں! تم گرہ لگاکر مصرعہ مجھ سے چھین لوگے“ آخر بڑے اصرار کے بعد جرأت نے بتایا مصرعہ تھا۔
”اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی“
انشاءؔ نے فوراً گرہ لگائی، ”اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی“
جرأت لاٹھی اٹھاکر انشاءؔ کی طرف لپکے۔ دیر تک انشاءؔ آگے اور جرأت پیچھے پیچھے انہیں ٹٹولتے ہوئے بھاگتے رہے۔(آب حیات)
الطاف حسین حالی اردو تنقید کے بنیاد گذاروں میں ہیں۔یادگار غالب میں انھوں نے غالب کی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کو ان کی شخصیت کے ایک اہم حصے کے طورپر پیش کیا ہے۔ان کی سخنوری اور سخن فہمی کا ایک زمانہ قائل ہے۔یہاں ان کی جودت طبع ملا حظہ کریں۔
غالباً 1909ء کی بات ہے کہ مولوی محمد یحییٰ تنہا وکیل میرٹھ نے مولانا حالی کو اپنی شادی میں پانی پت بلایا۔ شادی کے بعد مولانا حالیؔ اور مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی اور بعض دوسرے بزرگ بیٹھے آپس میں گفتگو کر رہے تھے کہ مولانا محمد اسماعیل میرٹھی نے مسکراتے ہوئے مولوی محمد یحییٰ تنہاؔ سے کہا، ”اب اپنا تخلص بدل دیں، کیونکہ اب آپ ’تنہا‘ نہیں رہے۔“ اس پر مولانا نے فرمایا، ”نہیں مولوی صاحب یہ بات نہیں۔۔۔ تنہا تو یہ ابھی ہوئے ہیں۔“ اس پرتمام مجلس مولانا حالیؔ کی جودت طبع پر حیران رہ گئی۔
نواب مرزا داغ استاد شاعروں میں تھے۔ان کے بے شمار شاگرد تھے۔پابندی سے شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرتے۔واضح رہے کہ ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔داغ کے یہاں باقاعدہ ایک رجسٹر تھا جس میں شاگروں کے نام لکھے ہوتے تھے۔ان کے مشہور شاگرد احسن مارہروی کے ایک شعر کی اصلاح کا واقعہ ملاحظہ کریں ۔
مرزا داغؔ کے شاگرد احسن مارہروی اپنی غزل پر اصلاح کے لیے ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس وقت مرزا صاحب کے پاس دو تین دوستوں کے علاوہ ان کی ملازمہ صاحب جان بھی موجود تھی۔ جب احسنؔ نے شعر پڑھا۔
کسی دن جا پڑے تھے بیخودی میں ان کے سینے پر
بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلے میرے پتھر سے
اس پر صاحب جان جو صحبت یافتہ اور حاضر جواب طوائف تھی، بولی،
”احسن میاں بیخودی میں بھی آپ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے ہیں؟“
اس پر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور مرزا صاحب نے احسنؔ سے کہا، ”لیجئے صاحب جان نے آپ کے شعر کی اصلاح کردی۔
کسی دن جا پڑا تھا بیخودی میں ان کے سینے پر
بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلا میرا پتھر سے
فراق گور کھ پوری شاعر کے ساتھ ساتھ بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔بیباک اور دلچسپ گفتگو کے لیے بھی مشہور تھے۔حاضر جوابی غضب کی تھی۔ایک شاعر کومشاعرہ میں ان کے بعد دعوت سخن دی گئی تو اس نے بڑی انکساری کے ساتھ عرض کیا کہ فراق صاحب کے بعد مجھے بلایا گیا ہے۔ فوراً فراق صاحب بول پڑے کہ میرے بعد پیدا ہوسکتے ہیں تو پڑھ بھی سکتے ہیں۔بشیر بدر کا پہلا شعری مجموعہ اکائی بہت مشہور ہوا۔انھو ں نے اپنا یہ شعری مجموعہ فراق صاحب کو بھی بھیجا۔انھوں نے جو رسیدبشیر بدر کو بھیجی وہ ملاحظہ کریں۔
بشیر بدرنے اپنا شعری مجموعہ ”اکائی“ اس التماس کے ساتھ فراق صاحب کو بھیجا کہ وہ اپنی گراں قدر رائے سے نوازیں۔ فراق صاحب نے اپنی رائے لکھی،
”اکائی، دہائی، سینکڑہ، ہزار، دس ہزار“
آپ کا
فراق گورکھپوری
مشاعروں میں سامعین کی سرگرم شمولیت رہتی تھی۔سننے والے کبھی کبھی اپنے بلیغ طنز اور جملے سے مشاعروں میں جان ڈالتے تھے۔بشیر بدر اس سرگرم روایت کا حصہ رہے ہیں۔شاعری کے علاوہ وہ نظامت بھی کرتے کرتے تھے۔ان کی ذہانت کے کہا کہنے۔امروہہ کے ایک مشاعرہ کا واقعہ سامع اور ناظم دونوں کی ذہانت کے سبب تاریخ میں محفوظ ہوگیا ہے۔
امروہہ میں مشاعرہ بہت سکون سے چل رہا تھا۔ شاعر بھی مطمئن اور سننے والے بھی خوش کہ بیچ مجمع سے ایک بہت معقول شخصیت والے صاحب اٹھے اور کھڑے ہوکر عادل لکھنوی کی طرف اشارہ کرکے بولے۔
”ڈاکٹر صاحب، وہ شاعر جن کی صورت تارا مسیح(جس جلاد نے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی)کے ہو بہو ہے، انہیں پڑھوا دیجئے۔“
بشیر بدر نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ عادل لکھنوی کو دعوت سخن دیتے ہوئے کہا۔
”میں شاعری کے تارا مسیح سے درخواست کرتا ہوں کہ تشریف لائیں اور امروہہ کے ذوالفقار علی بھٹو کا کام تمام کردیں۔“
شعرو ادب کی دنیا اس طرح کے بے شمار واقعات اور قصوں سے شاد وآباد ہے۔اس طرح کے واقعات زبا ن وبیان سے غیر معمولی شغف اور اپنی تہذینی ثقافت سے لگاؤ کا مظہر ہیں۔ان واقعات کو محفوظ رکھنا بھی ایک فن ہے۔غیر افسانوی ادب کی بہت سی اصناف میں یہ چیزیں محتلف انداز سے لکھی جاتی ہیں۔خاکہ نگاروں نے بے شمار واقعات کو محفوظ کررکھا ہے۔اردوکی نمایاں خود نوشتیں بھی مختلف قصوں اور واقعات کی آئینہ دار ہیں۔بھاگتی دوڑتی زندگی میں چھوٹی چھوٹی دلچسپ باتیں اور قصے ہمارے ذہن و دل کو شگفتہ و شاداب رکھتے ہیں۔یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔بقول احمد مشتاق
پتا اب تک نہیں بدلا ہمارا
وہی گھر ہے وہی قصہ ہمارا