کیف: یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانے نے بدھ کے روز کہا کہ ایم وی امیر 1 (MV AMIR1) پر سوار ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت اور سلامتی اس کی "سب سے بڑی ترجیح" ہے اور وہ اس جہاز سے متعلق صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ تمام متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جہاز پر موجود تمام ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا، "ایم وی امیر 1 پر سوار ہندوستانی ملاحوں سے متعلق صورتحال ہمارے علم میں آئی ہے۔ ہم اسے انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ جہاز پر موجود تمام ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔"
تاہم سفارت خانے نے نہ تو جہاز کو درپیش صورتحال کی نوعیت واضح کی اور نہ ہی اس پر سوار ہندوستانی ملاحوں کی تعداد بتائی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب منگل کے روز وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بلیک سی کے علاقے میں خدمات انجام دینے والے ہندوستانی ملاحوں سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی بحری ملاح برادری رکھتا ہے اور بڑی تعداد میں ہندوستانی ملاح ملکی اور غیر ملکی دونوں طرح کے جہازوں پر خدمات انجام دیتے ہیں۔
A situation regarding MV AMIR1 with Indian seafarers onboard has been brought to our attention. We attach the highest priority to this and are in constant touch with all concerned to ensure safety and security of all Indians onboard. @MEAIndia
— India in Ukraine (@IndiainUkraine) July 29, 2026
انہوں نے کہا، "ہمارے پاس دنیا کی دوسری سب سے بڑی ملاح برادری ہے۔ بہت سے ملاح ہندوستانی جہازوں پر ہیں اور بڑی تعداد غیر ملکی جہازوں پر بھی کام کر رہی ہے۔ بلیک سی کے علاقے میں اس وقت کتنے ہندوستانی ملاح موجود ہیں، اس کا درست اعداد و شمار فی الحال میرے پاس نہیں ہے۔"
بلیک سی میں ہندوستانی ملاحوں کو لے جانے والے تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں اور اس معاملے پر روس و یوکرین سے بات چیت کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ ہندوستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ تجارتی جہازوں، ملاحوں، عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو کسی بھی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا، "ہم نے اپنے شراکت داروں، دوست ممالک اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کے سامنے واضح کیا ہے کہ تجارتی جہازوں، ملاحوں، عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہیں اور حالیہ دنوں میں بلیک سی میں ہونے والے ایسے حملوں کی ہم مذمت کر چکے ہیں۔"
پیر کے روز وزارتِ خارجہ نے ہندوستان میں یوکرین کے سفیر اولیکسینڈر پولیشچک کو طلب کرکے بلیک سی میں تجارتی جہاز ایم وی اومورفی (MV OMORFI) پر حالیہ حملے پر نئی دہلی کی "گہری تشویش" سے آگاہ کیا تھا۔ اس حملے میں ایک ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گیا تھا۔ دریں اثنا، یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانے نے بتایا کہ تجارتی جہاز ایم وی راگنار (MV Ragnar)، جس پر چار ہندوستانی شہری سوار تھے، اوڈیسا کی بندرگاہ پر حملے کی زد میں آ گیا۔ ان میں سے دو ملاح محفوظ ہیں، جبکہ باقی دو کے بارے میں معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔