نورالحسن نیر:لکھنوی زبان وتہذیب کا میر کارواں

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 13-09-2026
 نورالحسن نیر:لکھنوی زبان وتہذیب کا میر کارواں
نورالحسن نیر:لکھنوی زبان وتہذیب کا میر کارواں

 



 عمیر منظر 
شعبہ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی۔لکھنؤ کیمپس
 
نور اللغات کے مولف مولوی نور الحسن نیر کا آج یوم وفات ہے۔وہ 1865میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی وفات /6ستمبر 1936کو ہوئی۔مدفن جھنجھری روضہ کاکوری میں ہے۔وہ ایک باکمال شخصیت کے مالک تھے۔ان کا پیشہ وکالت کا تھا مگر اسے ترک کرکے انھوں نے لغت نویسی کو اختیار کیا۔اور ایک شخص کی محنت اور کوشش ادارہ جاتی حیثیت قرار پائی۔سادات علویہ کے ایک علمی گھرانے سے ان کا تعلق تھا،جو نسب کے ساتھ ساتھ علم وادب کا بھی ممتاز خانوادہ تھا۔ ان کے والد محسن کاکوروی نعتیہ ادب کے حوالے سے اپنے زمانے میں ہی غیر معمولی شہرت رکھتے تھے اور یہ حیثیت آج بھی برقرار ہے۔عربی زبان وادب میں بھی ان کا مرتبہ بہت بلند تھا۔اسی گھرانے کا ایک فرد ایک بڑی لغت کا مولف بھی بنا۔
مولوی نور الحسن نے ابتدائی تعلیم اپنے والد محسن کاکوری سے حاصل کی۔اس کے بعد علامہ فضل حق خیر آبادی کے شاگرد رشید مولوی ہدایت علی بریلوی سے نحو اور منطق کی تعلیم حاصل کی۔اس کے علاوہ مولوی رحم الہی سے مشکوۃ و موطا کا درس لیا۔شاعری میں والد محترم اور امیر مینائی سے تلمذ تھا۔بارہ بنکی،اٹاوہ اور بعض دیگر مقامات سے انگریزی شروع کی۔کیننگ کالج لکھنؤ سے گریجویشن کیا۔اس کے بعد1897میں ایل ایل بی کا امتحان پا س کیا۔اور پھر وکالت میں مصروف ہوگئے۔
 
دوران وکالت ہی شعر گوئی اور مشاعروں میں شرکت کا آغاز ہوا۔آسی لکھنوی،اثر لکھنوی،امین سلونوی اور شوکت تھانوی کے ساتھ مشاعرہ پڑھے۔والد محترم محمد محسن کاکوروی کے نعتیہ دیوان کو مرتب کیا۔خود بھی نعت کہتے تھے اور اسی دوران حج کا فریضہ بھی ادا کیا۔شعر گوئی میں بڑی مہارت پیدا کی یہاں تک کہ ان کے بہت سے شاگرد بھی ہوگئے اور باقاعدہ ان کے کلام پر اصلاح دینے لگے۔شعرو ادب کی یہی مصروفیتیں آگے کاراستہ ہموار کرنے لگیں۔نظم ونثر دونوں میں ان کے جوہر نکھرنے لگے۔ایک تفصیلی مضمون انھوں نے ’اصلاح زبان اور لکھنؤ کی گراں قدر خدمات‘کے عنوان سے لکھا۔زبان ومحاورات کی تبدیلیوں کو پیش کیا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایک ہی لفظ کو دوشہروں کے ایک اور شاعر کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
شعروادب سے اسی دلچسپی کے سبب ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ اردو زبان کا کوئی مستند لغت تیار کیا جائے۔اس کا اظہار انھوں نے نور اللغات کے مقدمے میں بھی کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اختلاف کی صورت میں ہمارے پاس ایسی کوئی دستاویز نہیں ہے۔وہ عوام و خواص دونوں کو غلطیوں سے بچانا چاہتے اور زبان کوایک مستند ذریعہ اظہار کی صورت پیش کرنے کے آرزو مند تھے۔ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس وقت بہت سے لغت ضرور ہیں مگر ان میں استناد کی کمی ہے۔نور الحسن نیر کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کو دیکھ کر ان کے بعض احباب کو اندازہ تھا کہ لغت نویسی کا کام یہ کرسکتے ہیں۔اس کا اظہار انھوں نے خود کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں۔
1914میں میرے بہت سے ذی علم احباب نے طرح طرح سے ہمت بڑھا کر مجبور کیا کہ میں باوجود پیشہ وکالت اور دیگر مشاغل کے اس ذمہ داری کا بار اپنے سر لوں۔اور اپنے اوقات کا زیادہ حصہ اس نہایت ضروری کام کے لیے وقف کردوں۔میں نے عذرات کی لپیٹ میں اپنے حالات کا اظہار بہت کچھ کیا لیکن کچھ سماعت نہ ہوئی اور مجبور ہوکر تعمیل ارشاد کی کوشش کرنے لگا۔اپنے کتب خانہ میں موجود کتب کے علاوہ اس ضرورت کے لیے متعدد بہ کار آمد کتابوں کا ذخیرہ جمع کیا اور ایک خاص دفتر اس کا قائم کیا۔محررملازم رکھے ان کا صرفہ اپنے ذمہ لیا۔اور الفاظ و محاورات کو بہ ترتیب حروف تہجی لکھنا شروع کردیا۔میں نے لغت کی تکمیل کا ارادہ کرلیا۔اس کے ساتھ ہی جب اس کی اشاعت کی دشواریوں پر نظر جاتی ہے تو ہمت پستی کی جانب جھکنے کا ارادہ کرتی ہے۔(مقدمہ نور اللغات)
درج بالا سطور سے واضح ہوتا ہے کہ انھیں ا س راہ کی دشواریوں کا علم تھا اور اسی لیے پوری تیاری کرکے انھوں نے لغت نویسی کی راہ اختیار کی۔حالانکہ اس سے پہلے متعدد لغت موجود تھے۔جب امیر اللغات کی ترتیب کی خبر سنی تو خوش ہوئے مگر جب اس کی پہلی جلد دیکھی تو دو بارہ انھیں لغت نویسی کا خیال آیا۔ نور اللغات کی تیاری کا۔1914میں سلسلہ شروع ہوا۔اس کی تصحیح اور طباعت کے لیے لکھنؤ کے پاٹانالہ محلے میں پریس قائم کیا۔پہلی جلد 1924میں شائع ہوئی۔دوسری جلد 1927تیسری جلد 1929اور چوتھی جلد 1931میں شائع ہوئی۔
نوراللغات کی نمایاں خوبی تو یہی ہے کہ اس میں صرف لفظ کے معنی نہیں دیے ہیں بلکہ لفظ کے استعمال کا ثبوت بھی پیش کیاگیا ہے۔بڑی تعداد میں محاورات دیے گئے ہیں۔نور اللغات میں محاورات کے استعمال کو خاص اہمیت دی گئی ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس لغت کے ذریعے اردو کے ایک بڑے کلاسیکی شعری اور لسانی سرمائے کے ذخیرے سے بھی استفادہ کا موقع ملتا ہے۔ اس طور سے اسے ایک استنادی لغت کا درجہ حاصل ہے کہ جس میں اردو کے معتبر شعراء کے اشعارکسی لفظ کی سند کے طورپر پیش کیے گئے ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ لفظ کی اصل کیا ہے اس کا ماخذ کیا ہے اور اس کی دیگر نوعیتیں کیا ہیں اس کو بھی واضح کیا گیا ہے۔اعراب بھی دیے گئے ہیں تاکہ صحیح تلفظ معلوم ہوسکے۔ اسی طرح سے لکھنوی زبان کے نمائندگی بھی اس میں ملتی ہے بالخصوص محاورات کے استعمال کے سلسلے میں اسی وجہ سے اس لغت کو بعض لوگ لکھنو کے لسانی دبستان کی ایک نمائندہ لغت قرار دیتے ہیں۔
 
اس لغت کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں بعض الفاظ کے تحت بہت زیادہ وسعت ہے۔اسی طرح امالہ کے قواعد کو اصولوں کی روشنی میں باقاعدہ پیش کرنا نور اللغات کی اہم خصو صیات میں سے ہے۔بعض  الفاظ کے کے ضمن میں معنی کی صراحت بھی خوب ہے۔مثلاًتماکو،تمباکو۔اس لفظ کے بارے میں لکھتے ہیں:
مذکر،یہ لفظ امریکہ کی زبان میں ٹوبے کو تھااصل میں ایک قسم کا پودا ہے جس کے پتے حقے میں پیتے اور پان میں کھاتے ہیں۔ہندوستان میں اس کے ساتھ گڑ ملاکر قلیاں میں پیتے ہیں اور تماکو کہتے ہیں۔اس کا رواج جلال الدین اکبر کے وقت میں اول اول دکن میں پھر تمام ہند میں ہوا 
تمباکو بھی ہوا ہے کڑواہم سے 
رک رک کر بولتا ہے حقہ ہم سے (منیر)
لکھنؤ کی بیگمات پینے کا ہوتو تماکو اور پان میں کھانے کا ہو تو تمباکو۔دہلی والے پینے کا ہوتو تمباکواور کھانے کا ہوتو زردہ کہتے ہیں۔ 
اس میں کوئی شک نہیں کہ نور اللغات میں دلی اور لکھنؤ کو زیادہ استناد کا درجہ دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے بعض لوگ معترض بھی ہیں۔لیکن اس کے باوجود نور اللغات میں الفاظ کی تحقیق اور تفصیل زیادہ ملتی ہے بعض دیگر لغات کے مقابلے میں۔اس کو اس وجہ سے بھی سراہا گیا کہ امیر اللغات کے نامکمل رہنے کا جو افسوس تھا اس کی تلافی اس سے ہوگئی۔منشی دیانرائن نگم،جوش ملیح آبادی،مولوی عبدالحق نے نور الحسن نیر کی ستائش کی ہے۔تحقیق کی خوش اسلوبی کی داد گئی ہے۔اثر لکھنوی نے بہت سے اعتراضات اس پر قائم کیے ہیں مگر اس کے بارے میں نیاز فتح پوری نے رائے دی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ فرہنگ اثر نور اللغات کی غلطیاں ظاہر کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔حالانکہ فرہنگ اثر میں ذاتی مشاہدہ الفاظ کے سلسلے میں زیادہ ہے۔اور استناد کم ہے 
نور الحسن نیر کو اس لغت کے لیے سخت مراحل کا بھی سامنا کرناپڑا مگرانھوں نے ہار نہیں مانی۔ان کے سوانح نگار عزیز الرحمن علیم نے اس بارے میں لکھا ہے:
جلد اول کی اشاعت میں کافی سرمایہ لگ گیا یہاں تک کہ دوسری جلد کی اشاعت میں دشواری پیدا ہورہی تھی۔اس لیے انھوں نے ارادہ کیا کہ پہلی جلد کے فروخت ہونے کے بعد دوسری جلد شائع کی جائے۔اسی لیے دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئے۔مگر اس کے باوجود ان کا خیال تھا کہ اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکالے گا۔اور پھر راستہ نکل آیا۔سرولیم میور کو اردو زبان و ادب سے دلچسپی تھی انھوں نے ازراہ نوازش پہلی جلد کی سوکاپیاں خریدیں نیز محکمہ تعلیم سے دوہزار روپے سالانہ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔تین سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ 
نور الحسن نیر کی وفات کو نوے برس ہوگئے۔یوں تو ان کے بہت سے کارنامے ہیں مگر تن تنہا نور اللغات ہی ان کے لیے زندہ جاوید ہے۔ہندستان اور پاکستان سے اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔اس لغت پر نقد بھی کیا گیا مگر اس کی اہمیت آج بھی مسلّم ہے۔