عمیر منظر
شعبہ اردو ، مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ
اس وقت تقریباً ملک کے ایک بڑے حصے میں برسات کی بہاریں ہیں۔کہیں بارش تو کہیں گھٹا کا زور ہے۔بجلی کی چمک اور بادلوں کے گرج سے ایک الگ ہی سماں بندھ جاتا ہے۔بارش نے کچھ علاقوں کو زیر آب بھی کررکھا ہے۔مئی اور جون کی جھلستی ز مین کے لیے برسات تازگی اور زندگی کا پیغام لاتی ہے۔خشک خطوں میں روئیدگی کے آثار ہی نہیں پیدا ہوتے بلکہ ایک نئی فصل لہلہانے لگتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ہندستان کے ایک بڑے حصے میں سخت گرمی کے بعد موسم باراں کا نہ صرف انتظار رہتا ہے بلکہ اس کی آمد پر بھرپور استقبال بھی کیا جاتا ہے۔کالے بادل ایک نئے موسم کی نوید دیتے ہیں ٹھنڈی ہوائیں صرف فضا کو ہی خوش گوار نہیں بناتی ہیں بلکہ گرمی کے بعد راحت کا پیغام لاتی ہیں۔
موسم برسات کو ایک نئی زندگی سے تعبیر کرسکتے ہیں۔قدرت کے حسن کا انمول تحفہ بھی اسے قرار دیا جاسکتا ہے۔بارش کے بعد ہر طرف نہ صرف ہریالی چھاجاتی ہے بلکہ پیڑ،پودے اور کھیتوں میں نکھار آگیا ہے۔ایک الگ ہی جمالیاتی احساس دلوں میں ابھررہا ہے۔ہریالی اور فطرت کا حسن نکھرکر سامنے آجاتا ہے اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم اس کے بہت دنوں سے منتظر تھے۔نظیر اکبر آبادی نے اپنی ایک نظم میں بارش اور اس کے حسن و اثر کا نقشہ خوب کھینچا ہے۔
سبزوں کی لہلہاہٹ کچھ ابر کی سیاہی
اور چھا رہی گھٹائیں سرخ اور سفید کاہی
سب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تا بہ ماہی
یہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الٰہی
کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
اردوشاعری میں برسات پر بے شمار نظمیں لکھیں گئی ہیں۔ غزل گو شعرانے بھی اس حوالے سے نئے نئے مضامین نکال کر اپنے تخلیقی جوہر کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔یہ صرف ایک موسم نہیں بلکہ جذباتی منظرنامہ ہے۔فطرت کی دلکشی سے لے کر دل کی مختلف کیفیتوں کا بیان اردو شاعری میں نظر آتا ہے۔ایک طرف جہاں محبت اور وصال کا اسے موسم کہا جاتا ہے وہیں یہ موسم محبوب کی یاد کو مہمیز کرتا ہے۔کسک اور تنہائی کا احساس بڑھا جاتا ہے اور اسی لیے ہجر کے موسم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں
بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی
جمال احسانی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی
پروین شاکر
برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے
کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے
ندا فاضلی
اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہے
موسلا دھار برس میری جان
منچندا بانی
بارش سیلاب کی شکل میں تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔اسی لیے اس موسم کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔یعنی غفلت تباہی و بربادی کا سبب بنتی ہے۔میر نے اپنے مشہور زمانہ شعر میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناگ
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
یہاں آنسو سیلاب ہوگئے ہیں اور آنکھ بند ہونا دراصل اک نوع کی بے خبری سے جس کی وجہ سے کچھ خبر ہی نہیں ملی کہ تباہی کس قدر پھیل چکی ہے۔
غالب کا ایک مقطع ہے
یونہی گر روتا رہا غالب تو اے اہل جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں
ہجر کے آنسووں نے سیلاب کی کیفیت پیدا کردی ہے۔
بارش کا موسم اک رومانوی کیفیت پیدا کرتا ہے۔جذبات و احساسات کو تازہ کرتا ہے۔گذرے ہوئے دن یاد آتے ہیں۔دراصل برسات کی ابر آلودشام اور رم جھم دل میں جذبات کی ایک نئی ترنگ پیدا کرتے ہیں اور اس نوع کے مناظر شاعری کو نئی پرواز عطا کرتے ہیں۔
برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی
بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی
حسرتؔ موہانی
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ
بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
عبد الحمید عدم
آے کچھ ابر کچھ شراب ائے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
فیض احمد فیض
ہم تو سمجھے تھے کہ برسات میں برسے گی شراب
آئی برسات تو برسات نے دل توڑ دیا
سدرشن فاکر
بچپن اور محبوب کی یادوں کا ایک تصور اس موسم سے بھی وابستہ ہے۔کبھی شدت کے ساتھ اور کبھی یادوں کی کسک لیے۔
فرقت یار میں انسان ہوں میں یا کہ سحاب
ہر برس آ کے رلا جاتی ہے برسات مجھے
امام بخش ناسخ
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
قتیل شفائی
دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میں
بارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں
اظہر فراغ
بارش ہوئی تو گھر کے دریچے سے لگ کے ہم
چپ چاپ سوگوار تمہیں سوچتے رہے
فرحت عباس شاہ
اچانک کی بارش نے گیلا کیا
کسی یاد کا دل نے پیچھا کیا
عبید حارث
آ گئے ہیں عبیرؔ کوچے میں
پہلی برسات اور ہم دونوں
شاہ رخ عبیر
انسانی جذبات و احساسات کی ایک رنگا رنگ زندگی برسات کے حوالے سے اردو شاعری میں جلوہ گر ہے۔یہ صرف ایک موسم نہیں بلکہ جذبات و احساسات کی بوقلمونی ہے جس میں ہر شخص کہیں نہ کہیں دکھا ئی دیتا ہے۔