عمیر منظر
شعبہ اردو،مانو لکھنؤ کیمپس
آزادی 1947میں ملی مگر اس کی بنیاد 10مئی 1857کو رکھی گئی تھی۔انگریز مورخین اور مصنفین اسے غدر کے نام سے یاد کرتے ہیں مگر غیر جانب دار مورخین اسے ہندستان کی پہلی ناکام جنگ آزادی کہتے ہیں۔اس کی ابتدمیرٹھ سے ہوئی تھی اور پھر دیکھتے دیکھتے آزادی کی یہ تحریک پورے ملک میں پھیل گئی۔بے سروسامانی اور غیر منظم انداز کی یہی تحریک ملک کی آزادی کا سبب بنی۔اور اسی تحریک سے انگریزوں کو یہ اندازہ ہوا کہ عام ہندستانی اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں۔
انگریز مورخین لکھتے ہیں کہ ہندستانیوں کو اپنا انجام معلوم تھا مگر وہ بے خوف ہوکر لڑرہے تھے۔وہ ہنستے کھلتے پھانسی کے پھندوں کو چوم رہے تھے۔میرٹھ اور دلی ہی کیا پورے ملک میں ایک جوش تھا اور ایک لہر تھی اپنے ملک کو آزاد کرانے کی۔غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کی۔10 مئی 1857 کو میرٹھ سے آزادی کے متوالوں نے علم بغاوت بلند کیا اور دیکھتے دیکھتے دہلی سمیت شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں یہ تحریک پھیل گئی۔ اس بغاوت کی وجہ نئی رائفل کے کارتوس تھے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے سیاسی، معاشی، مذہبی، فوجی اوردیگر عوامل کارفرما تھے جو ایک عرصے سے عام ہندوستانیوں کے دلوں میں غصہ اور بے چینی پیدا کر رہے تھے۔ انگریزوں کے تئیں ان کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔یہاں تک کہ 10مئی کو ان کا غصہ پھوٹ پڑا۔
بغاوت کے اسباب وعلل کے جو تجزیے کیے گئےاس میں کوئی ایک سبب نہیں تھا مگر جن اسباب نے عوام میں ناراضی پیدا کی ان میں ایک ایسٹ انڈیا کمپنی کی ہندوستانی ریاستوں پرمسلسل قبضہ کرنے کی مہم بھی تھی۔ گورنر جنرل Lord Dalhousie نے کئی ریاستوں کو انگریز حکومت میں شامل کر لیا۔ جھانسی اور ناگپور جیسی متعدد ریاستوں کے حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔ اودھ پر قبضے نے بھی عوام اور سپاہیوں میں شدید غصہ پیدا کیا۔اور وہ ایسے کسی موقع کی تلاش میں تھے۔
.webp)
معاشی حالات بھی ان اسباب میں شامل تھے۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہل کاروں نے ہندوستانی صنعت و تجارت کوتقریباً تباہ کر دیا تھا۔ روزگار کے جو مقامی ذرائع تھے وہ بھی اس سے محفوظ نہیں تھے بلکہ جو مقامی دستکار تھے وہ بھی بے روزگار ہو گئے۔ کسانوں پر ٹیکس کا بڑا بوجھ ڈال دیا گیا۔اس طرح ہندستانی دولت کو انگلستان بھیجنے کے متعدد ذرائع پیدا کیے گئے اور یہ بات عام ہندستانیوں میں موضوع گفتگو رہتی کہ انگریز ہندوستان کی دولت مسلسل انگلستان منتقل کررہے ہیں۔عام ہندستانیوں کی زندگی جن مشکلات میں تھی اس نے بغاوت کی مزید راہ ہموار کی۔
مذہبی اور سماجی معاملات نے بھی لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ ہندو اور مسلمان دونوں پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ انگریز ان کے مذہبی اور تہذیبی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔ عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں اور مغربی تعلیم کے فروغ کو اس طرح آزادی تھی کہ اس سے یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ انگریز ہندوستانیوں کو اپنے مذہب اور ثقافت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔فوجی میدان میں بھی ہندوستانی سپاہیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا تھا۔ انہیں تنخواہیں کم دی جارہی تھیں اور ان کے لیے ترقی کے ذرائع اور مواقع بھی محدود کردیے گئے تھے۔ہندستانی فوجیوں کے ساتھ انگریز افسران کا عام رویہ بھی توہین آمیز تھا۔ اس صورتِ حال نے سپاہیوں کے اندر بھی ایک بے چینی پیدا کر دی تھی۔
میرٹھ میں بغاوت کی فوری وجہ نئی رائفل کے کارتوس تھے۔ یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کارتوسوں پر گائے اور سور کی چربی لگی ہوئی ہے۔ چونکہ کارتوس کو دانت سے کاٹنا پڑتا تھا، اس لیے ہندو اور مسلمان سپاہیوں نے اسے اپنے اپنے مذہب کے خلاف سمجھا۔ جب میرٹھ میں سپاہیوں نے کارتوس استعمال کرنے سے انکار کیا تو انہیں سخت سزا دی گئی۔ اس واقعے نے سپاہیوں کے غصے کو بھڑکا دیا۔یہاں تک کہ 10 مئی 1857 کو میرٹھ کے سپاہیوں نے بغاوت کی، جیل توڑ کر اپنے ساتھیوں کو آزاد کرایا اور انگریز افسروں پر پوری شدت سے حملہ کیا۔ اس کے بعد باغی سپاہی دلی پہنچے اور بہادر شاہ ظفرکو اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔ یوں یہ بغاوت پورے شمالی ہندوستان میں پھیل گئی۔
.webp)
میرٹھ سے دہلی سپاہی رات بھر گھوڑوں، تانگوں اور پیدل سفر کرتے رہے۔ راستے میں عام لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہوتے گئے۔ ان سپاہیوں میں شدید غصہ اور بے چینی تھی۔ ان کو اندازہ تھا کہ اب یا تو انگریزی حکومت ختم ہوگی یا وہ خود مارے جائیں گے۔ آزادی کے جذبے سے سرشار راستے میں انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ان کا جوش اور جذبہ دیدنی تھا۔اس وقت پورے شمالی ہندوستان میں بے چینی پہلے ہی موجود تھی، اس لیے ان سپاہیوں کے آمد کی خبریں تیزی سے پھیلتی رہیں۔اور اس طرح اس کارواں میں لوگ شامل ہوتے رہے۔
11 مئی 1857 کی صبح یہ سپاہی (جنھیں عرف عام میں باغی کہا جاتا ہے)دہلی پہنچے۔ انہوں نے شہر کے دروازوں اور فوجی مقامات پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ دہلی میں موجود ہندوستانی سپاہی بھی ان کے ساتھ آگئے۔ اس کے بعد ان سپاہیوں نے (باغیوں) نے لال قلعہ کا رخ کیا، جہاں بہادر شاہ ظفر تھے۔ ابتدا میں بہادر شاہ ظفر اس بغاوت میں شامل ہونے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔وہ بہت ضعیف بھی ہوچکے تھے۔انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ انگریز بہت طاقتور ہیں۔ لیکن سپاہیوں کے آگے ان کی ایک نہیں چلی اور وہ ان کی اس درخواست کو کہ وہ اس تحریک کی قیادت کوقبول کرلیں، تاکہ پورے ہندوستان کو ایک مرکز مل سکے بہادر شاہ ظفر انکار نہیں کرسکے۔بادشاہ نے ان کا (باغیوں) ساتھ دینے پر آمادگی ظاہر کی۔اس اعلان کے بعد دہلی بغاوت کا سب سے بڑا مرکز بن گئی۔ شہر میں انگریز افسروں پر حملے ہوئے، لوگ مارے گئے، اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت وقتی طور پر دہلی سے ختم ہوگئی۔دہلی پر قبضے کی خبر پورے ہندوستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس کے بعد لکھنؤ،کان پور، جھانسی، بریلی،اعظم گڑھ اورہندستان کے دیگر شہروں میں بھی بغاوتیں شروع ہوگئیں۔ یوں میرٹھ سے دہلی تک پہنچنے والے ان باغی سپاہیوں نے ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے برطانوی حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔
.webp)
آزادی کی اس پہلی تحریک کو کچلنے میں انگریزوں نے کوئی کسر نہیں باقی رکھی۔بڑے پیمانے پر لوگوں کو پھانسی دی گئی،گولیوں سے بھونا گیا اور طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔اس زمانے میں قلعے سے تعلق رکھنے کی بنا پر بھی لوگوں کو طرح طرح کی اذیتوں سے دوچار ہونا پڑا۔بہادر شاہ ظفر کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسی تحریک کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔لیکن اس کے بعد ملک کو آزاد کرانے کا جذبہ کبھی سرد نہیں پڑا اور یہ سلسلہ مختلف انداز میں جاری رہا۔لوگوں کو گرفتار کیا جاتا رہا۔پھانسی دی جاتی رہی مگر آزادی کے متوالے ہمیشہ جوش و جذبے سے سرشار رہے۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اس موضوع کو عام ہندستانیوں نے زندہ رکھا ہے اور اس پر محتلف انداز سے غور وفکر کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔مجاہدین آزادی اور اس تحریک میں حصہ لینے والوں کی تاریخ اور قربانیوں کو مختلف انداز میں محفوظ کرنے اور عام لوگوں تک پہنچانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے-
۔اس موضوع پر بے شمار کتابیں مختلف زبانوں میں لکھی گئی ہیں اور آج بھ لکھی جارہی ہیں۔امداد صابری کی ایک کتاب 1857کے مجاہد شعرا کے نام سے ہے۔غالب کی مشہور کتاب دستنبواسی زمانے کی یادگار ہے مگر ان کا نقطہ نظر دوسرا تھا۔ظہیر دہلوی،غلام رسول مہر،محمد شفیع،سریندر ناتھ سین،صوفی تبسیم،معصوم مرادآبادی،نصرت مہدی اقبال مسعوداور ان جیسے بے شمار مصنفین اور ادیبوں نے اس موضوع پر مختلف حوالوں سے تحریر کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ موضوع آج بھی زندہ ہے۔
.webp)
مرزا غالب نے اپنے بعض خطوط میں اور کہیں کہیں اشعار میں 1857کی تباہی اور بربادی کی طرف بہت بلیغ اشارے کیے ہیں۔ایک خط میں لکھا ہے کہ ”شہر صحرا ہوگیا ہے“۔انھوں نے یہی یہ بھی کہا تھا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دلی کاذرہ ذرہ خاک
تشنہ خوں ہے ہر مسلماں کا
اسی حادثے سے متاثر ہوکر مفتی صدر الدین آزردہ نے کہا تھا
روز وحشت مجھے صحرا کی طرف لاتی ہے
سر ہے اور جوش جنوں سنگ ہے اور چھاتی ہے
داغ نے ایک شعر میں اس ز مانے میں انگریزوں نے جو کشت وخون کا معرکہ گرم کیا تھا اور باغی کہہ کر جس طرح عام ہندستانیوں،علمااور شعرا کو شہید کیا تھا بہت بلیغ اشارہ کیا ہے۔
متاع امن جو ڈھونڈا تو راہ بھی نہ ملی
یہ قہر تھا کہ خدا کی پناہ بھی نہ ملی
اس عہد کے علم وادب کی ایک نمائندہ شخصیت امام بخش صہبائی جنھیں ان کے پورے خاندان کے ساتھ شہید کردیا تھا صدرالدین آزرہ نے اس حادثے سے متاثر ہوکر کیا خوب کہا تھا
کیوں کر آزردہ نکل جائے نہ سودائی ہو
قتل اس طرح سے بے جرم جو صہبائی ہو
پہلی ناکام جنگ آزادی کے دوران بہت سے شاعروں کو پھانسی دی گئی۔انھیں شہید کیا گیا۔اس پر ایک اہم کتاب امداد امام صابری نے ”1857 کے مجاہد شعرا“کے نام سے تحریر کی ہے۔اس میں کم و بیش پچاس شاعروں کا ذکر کیا گیا ہے۔اس فہرست میں ہر قوم اور مذہب کے لوگ شامل ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس جنگ کو تمام ہندستانیوں نے مل کر لڑا اور اس وقت تو نہیں لیکن بعد میں انھیں کام یابی نصیب ہوئی۔اور ملک آزاد ہوا۔