ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسّلم - امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی نعت گوئی

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 14-06-2026
 ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسّلم -  امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی نعت گوئی
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسّلم - امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی نعت گوئی

 



یوم ولادت پر خاص پیشکش

عمیر منظر

،شعبہ اردو مانو لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ

بیسویں صدی کی ممتاز،مذہبی،علمی اور ادبی شخصیات میں امام احمد رضا خاں (1856۔1921) کا نام غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔آج ہی کے دن یعنی 14جون 1856کوبریلی کے ایک علمی اور مذہبی خانوادے میں پیدا ہوئے۔دینی تعلیم اپنے والد محترم مولوی نقی علی خاں سے حاصل کی۔ان کے والد کو مختلف علوم پر دسترس حاصل تھی۔شاید یہی سبب تھاکہ انھو ں نے اپنے والد سے اکیس علوم کی تعلیم حاصل کی۔مذہبیات کے علاوہ فلکیات،سائنسی علوم اور دیگر عقلی و نقلی علوم میں  مہارت رکھتے تھے۔اردو،فارسی اور عربی میں انھوں نے بے شمارکتابیں تصنیف کیں۔ان کی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں۔مترجم،فقیہ اور نعت گو ئی میں وہ آسمان شہرت پر فائزہیں۔کنزالایمان کے نام سے قرآن پاک کا ترجمہ، ”فتاویہ رضویہ“ اور نعتیہ دیوان ”حدائق بخشش“ان کی مشہور ترین کتابیں ہیں۔
 
حکیم عبدالحی حسنی نے نزہۃ الخواطر میں امام صاحب کے علمی مقام کا نہایت اعلی اعتراف کیا ہے۔جلد ہشتم میں وہ لکھتے ہیں۔
وہ ایک متبحر عالم، کثیر المطالعہ، رواں قلم کے حامل تصنیف و تألیف کا بھرپور ذوق رکھتے تھے. ان کے بعض سوانح نگاروں کے مطابق ان کے رسائل و کتب کی تعداد پانچ تک پہنچتی ہے، جن میں سب سے مفصل کتاب فتاویٰ رضویہ ہے.“۔(نزہۃ الخواطر، ج 8، ص 1180 - 1182،)
اردو کے عام ادبی حلقوں میں امام احمد رضا خاں بریلوی نعت و منقبت کے حوالے سے خصوصی شناخت رکھتے ہیں۔اردو نعت گوئی کی روایت کے روشن سلسلے میں جو چندنام زبان زد خاص و عام کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں امام احمد رضا خاں کا نام سر فہرست قرار دیا جاسکتاہے۔ان کی نعتیں عقیدت ومحبت کے مضامین کا مجموعہ ہی نہیں ہیں بلکہ ان میں فکری اور فنی خوبیاں بھی بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ان کی نعتوں کی مقبولیت غیر معمولی ہے۔شاید ہی کوئی اردو والا ایسا ہو جسے ان کی نعت یا سلام کا کوئی مصرعہ یاشعریاد نہ ہو۔ان کی فن کاری کا ایک نمونہ تو یہ ہے کہ انھوں نے بہت آسان اور عام فہم انداز میں شاعری کی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں زبان و بیان کی صفائی اور مضامین کی خوبی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔چونکہ انھیں عربی،فارسی اور اردو اتینوں زبانوں میں قدرت حاصل ہے۔اسی لیے وہ آسانی سے مختلف زبانوں کے الفاظ اپنی نعتوں میں استعمال کرتے ہیں۔ان کی مشہور زمانہ نعت جس میں چار زبانوں کا انھوں نے استعمال کیا ہے۔نعتیہ ادب کے نگار خانے میں شاہ کار کا درجہ رکھتی ہے۔
لم یات نظیرک فی نظر مثل تو نہ شد پیدا جانا 
جگ راج کو تاج تو رے سرسو ہے تجھ کو شہ دوسرا جانا
اس نعت کواعلی تخلیقی ہنرمندی کی ایک روشن مثال کے طورپر بھی پیش کیاجاتا ہے۔یعنی اردو ادب کے نعتیہ ذخائر میں کیسی کیسی عمدہ نعتیں کہی گئی ہیں۔اسی طرح امام احمد رضا خاں کا وہ سلام بھی ہے جسے غیر معمولی شہرت حاصل ہے۔سلام میں بھی حضورسے عقیدت ومحبت کا اظہار ہوتا ہے اس لیے بعض لوگ اسے بھی نعت کہہ دیتے ہیں۔بنیادی طور پر یہ سلام ہے۔اس میں ڈیڑھ سو سے زائد اشعار ہیں۔رسول اکرم ﷺسے بے پناہ عقید ومحبت کے ساتھ ساتھ اس میں بہت سے ایسے مضامین بھی باندھے گئے ہیں جس سے ان کی مضمون آفرینی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔چھوٹی بحر میں بھی انھوں نے مہر چرغ نبوت،شب اسری کے دولہا،فرحت جان مومن،ریش خوش معتدل جیسی  
بہت سی نادر شعری ترکیبیں خلق کی ہیں،جو ان کی خلاقی کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس میں غنائیت اور محبت وعقیدت کا ایک الگ ہی رنگ ہے۔ مگر اس کے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں ایسی ہیں جن پر ہماری نگاہ کم جاتی ہے۔مثلااسی نعت میں ایک شعر ہے۔ 
کعبہ دین و ایماں کے دونوں ستوں 
ساعدین رسالت پہ لاکھوں سلام 
اس شعر کو روحانیت اور طاقت و قوت دونوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے یعنی کعبہ دین و ایمان کا ستون ہے۔اور اس کی بقا اور تحفظ کا کام جن بازوؤں نے انجام دیا وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے، یعنی انہی مبارک بازؤں نے اسلام کا پرچم بلند کیا۔کفر و شرک اور دیگر برائیوں کا خاتمہ کیا۔ سماج میں جو دبے کچلے لوگ تھے ان کو انصاف دلایا تاکہ وہ عزت کی زندگی گذراسکیں۔حضور کی ذات گرامی نے جس طرح سے کفر کے اندھیروں کو ختم کیا اسلام کی روشنی پھیلائی دراصل ان کے بازوؤں کی طاقت ہے جن کی قوت سے حق سربلند ہوا تو ایسے بازوؤں کو لاکھوں سلام پیش کر رہے ہیں۔کہنے کا ایک منفرد اور نادر انداز اس شعر میں پایا جاتا ہے۔
امام احمد رضا خاں کا ایک شعر ملاحظہ کریں کہ حسن تعلیل کی کیسی عمدہ مثال ہے   ؎
ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہ کامل کو 
سلام ابروئے شہ میں کشیدہ ہونا تھا
چاند کا گھٹنا اور بڑھنا ایک فطری عمل ہے مگر شاعریہاں کوئی سبب بیان کررہا ہے کہ وہ گھٹ کر ہلال کیو ں کرنہ بنتا۔ اس لیے کہ اسے بارگاہ رسالت میں جھک کر تعظیم پیش کرنی تھی۔چاند کا ہلال بننا دراصل رسول اللہ ﷺکی خوب صورت ابروؤں کی تعظیم اور سلام پیش کرنے کی وجہ سے ہے۔
امام احمد رضا خان کی نعتوں میں عقیدت ومحبت کے ساتھ ساتھ معنی آفرینی کی متعدد جہتیں پائی جاتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک سے ایک مضمون بنانے میں بڑی مہارت رکھتے ہیں۔اور کبھی کبھی تو بعض انتہائی خشک چیزوں کو اپنے خاص ہنر سے نہایت شگفتگی کے ساتھ شاعری میں استعمال کر لیتے ہیں۔اسی ذیل میں منطق کی بعض اصطلاحیں بھی ہیں۔پہلے یہ شعر ملاحظہ کریں 
ذرے مہر قدس تک تیرے توسط سے گئے 
حد اوسط نے کیا صغری کو کبری نور کا
شعر کے دوسرے مصرعے میں منطق کی تین اصطلاحیں ہیں۔دوسرے مصرعے میں منطق کی اصطلاح حدِ اوسط کو بطورِ استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔یہ دو حدود کے درمیان ربط پیدا کرتی ہے، یہاں شاعر نے رسولِ اکرم ﷺ کو کائنات کے ادنیٰ اور اعلیٰ مراتب کے درمیان واسطہ فیض قرار دیا ہے۔ اس شعر کی خوبی یہی ہے کہ امام احمد رضاؒ خاں نے خشک منطقی اصطلاحات (صغریٰ، کبریٰ، حدِ اوسط) کو خصوصانعتیہ شاعری میں اس طرح برتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کا ذریعہ ایک علمی اصطلاح بن گئی ہے۔یعنی جس طرح منطق میں حدِ اوسط صغریٰ اور کبریٰ کو ملا کر نتیجہ پیدا کرتی ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کائنات کے ادنیٰ ذرات (صغریٰ) اور اعلیٰ ترین انوار (کبریٰ) کے درمیان واسطہ اور رابطہ ہیں۔
امام احمد رضا خاں کی بہت سی نعتیں اور سلام زبان زد خاص و عام ہیں۔سطور بالاکے علاوہ ”یا الہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو“، ”سب سے اولی و اعلی ہمارا نبی“اور ”واہ کیاجود و کرم ہے شہ بطحا تیرا“ وغیرہ۔ان کی نعتوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انھیں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ شعرا نے بھی بہت پسند کیا ہے۔شعرا کی پسندیدگی کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ وہ بھی اس زمین میں نعت کہتے ہیں۔اس ذیل میں ان کی ایک مشہور نعت کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ 
واہ کیا جودو کرم ہے شہ بطحا تیری
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا 
مطلع یقینا لاجواب ہے لیکن اس نعت کا مشہور شعر تو وہ ہے جس میں انھوں نے پھریرا کا قافیہ استعمال کیا ہے۔
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا جانیں 
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا
پھریرا ایک بلیغ استعارہ ہے یعنی حضور اکرم ﷺ کی شان اور عظمت پوری کائنات پر حاوی ہے۔تمام جہانوں پر آپ کی سیادت کا ذکر ہے۔اس زمین میں بے شمار شعرا نے نعتیں کہی ہیں۔تضمین بھی ملتی ہے۔بطور مثال چند اشعار یہاں پیش کیے جارہے ہیں۔
احمد ندیم قاسمی 
ایک بار اور مدینے سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصی تیرا
پیر نصیر الدین نصیر
کوئی دنیائے عطا میں نہیں ہمتا تیرا
ہو جو حاتم کو میسر یہ نظارا تیرا
کہہ اٹھے دیکھ کے بخشش میں یہ رتبہ تیرا
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
سراج اجملی 
انبیا دیتے ہیں وہ شے ہے حوالہ تیرا
اتقیا پڑھتے ہیں ہر وقت وظیفہ تیرا
جس کو دیکھووہ سوالی مرے آقا تیرا
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
احمد محفوظ
کیا بیاں ہوسکے عالم تری محبوبی کا 
جب خدا خود ہی ہوا چاہنے والا تیرا
اجمل فاروق
کیسا پرکیف یہ مصرعہ ہے رضا کااجمل 
خسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا
امام احمد رضا خاں بریلوی کا مقطع انھیں صادق آتاہے ۔
ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلم 
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں