جی ٹوینٹی(جی20): تعارف، تاریخ اور تجزیہ(ہندوستان کے حوالے سے)

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 18-09-2023
  جی ٹوینٹی(جی20): تعارف، تاریخ اور تجزیہ(ہندوستان کے حوالے سے)
جی ٹوینٹی(جی20): تعارف، تاریخ اور تجزیہ(ہندوستان کے حوالے سے)

 

 تعارف و تبصرہ

 نام کتاب :جی ٹوینٹی(جی20): تعارف، تاریخ اور تجزیہ(ہندوستان کے حوالے سے)
 مصنف: اسعد فیصل فاروقی
سنہ اشاعت: 2023ء
صفحات: 384
قیمت: 800
ناشر: سرسید اکیڈمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،2020-22
 
۔۔9۔-10؍ ستمبر 20۲۳ء کو جی20(جی20) اجلاس کا سربراہی اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس کے لئے حکومتی سطح پر بڑے پیمانے پر تیاری کی۔ یہ ایک بڑی اہم عالمی چوٹی کی سربراہی کی کانفرنس رہی، جس میں ہر سال معاشی طور پر مضبوط ومستحکم ممالک کے علاوہ ترقی پذیر ملکوں کی بھی شرکت  کی۔جی ٹوینٹی کا دہلی میں منعقدہ ہونے والایہ اجلاس ہندوستان کے لئے بہت اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ ہمارے ملک کے لئے بہترین موقع بھی تھا کہ وہ اپنے خیالات، ثقافت، تہذیب اور وراثت کو دنیا کے سامنے بہترین ڈھنگ سے پیش کرے نیز ترقی پذیر ممالک کے کلیدی مسائل کو عالمی قوتوں کے سامنے اٹھائے۔ 
یہاں یہ واضح کرتے چلیں اردو میں جی ٹوینٹی پراب تک کوئی تفصیلی اور علمی کتاب نہیں ہے، اور نہ ہی اس موضوع پر کسی طرح کا مواد دستیاب موجود ہے۔ اس سلسلہ میں جی ٹوینٹی کے بارے میں اردو حلقوں میں معلومات کو پہنچانے اور اس کی اہمیت کو متعارف کروانے کے لئے اردو میں ایک اہم کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یہ جامع کتاب جس کا ٹائٹل ‘‘ جی20: تعارف، تاریخ اور تجزیہ۔ ہندوستان کے حوالے سے’’ ہے، حال ہی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے شائع کی ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی ہیں، جنہوں نے بڑی تحقیق و جستجو اور ژرف نگاری سے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے۔ 
مذکورہ تصنیف ‘‘ جی ٹوینٹی: تعارف، تاریخ اور تجزیہ’’ چھ ابواب پر مشتمل ہے۔اس کتاب کا پہلا باب جی20کا تعارف ہے، جس میں جی ٹوینٹی کے تعارف، اہم مقاصد، اراکین ممالک، تاریخ، جی ٹوینٹی کے قیام کی وجہ، جی ٹوینٹی کے سربراہی اجلاس، اس کے ابتدائی موضوعات کے بارے میں تفصیل سے معلومات پیش کی گئی ہے تاکہ ہمارے اردو قارئین اور طلباء اس اہم عالمی تنظیم جس کی صدارت اس برس ہندوستان کے ذمہ ہے کے بارے میں متعارف ہوسکیں۔
کتاب کے باب اوّل میں ہی جی20 کی تنظیم کی ساخت، ریجنل بکٹس یعنی علاقائی درجہ بندی اور روٹیشنل صدارت، ٹرائیوکا، جی 20کے کام کرنے کا طریقہ کار جس میں ٹریک نظام کے تحت شیرپاٹریک اور مالیاتی ٹریک ورکنگ گروپس کا م کرتے ہیں ، کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چند اہم ا قدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جو کہ جی20 کے کاموں میں معاون ہوسکتے ہیں، نیز جی20 کے ایجنڈے یعنی مقاصدپر بھی تفصیل درج کی گئی ہے۔ 
مذکورہ کتاب کا دوسرا باب ‘‘ جی ٹوینٹی ممالک کا تعارف’’ ہے۔ اس باب میں جی ٹوینٹی ممالک کے جغرافیائی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی، اور معاشرتی پہلوؤں کے بارے میں معلومات اور اس کی اہمیت کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بقول مصنف کتاب اسعد فیصل فاروقی ‘‘اس باب کو شامل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جی ٹوینٹی کا ہر رکن ملک اپنے آپ میں ایک منفرد اور یونک سیاسی و سماجی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ممالک نہ صرف مختلف براعظموں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی تہذیب و ثقافت کے اعتبار سے مختلف اور منفرد ہیں ، بلکہ ان میں سے ہر ایک مسائل بھی مختلف نوعیت کے ہیں۔ اس باب میں جی ٹوینٹی گروپ میں شامل ہر رکن ملک کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے ، جس سے ہمارے طلباء اور اردو قارئین کو جی ٹوینٹی گروپ میں شامل ان ممالک کے بارے میں درست اور اصل صورت سے آگاہی ہوسکے۔
کتاب کا تیسرا باب ‘‘ جی20 اور عالمی گورننس’’ ہے۔ اس باب میں جی20 نے عالمی نظم و نسق کے قیام میں جو رول ادا کیا ہے، اس پر وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ کے بارے میں معلومات اور اس کی اہمیت کو متعارف کروانے کے لئے تحریر کیا گیا ہے۔ جی ٹوینٹی نے کس طرح شمال اور جنوب کے درمیان جو ترقی اور معیشت میں جو خلا ہوگیا تھا اس کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور عالمی سطح پر معاشی بحرانوں کو حل کرنے کی جانب قدم بڑھایا ہے۔ اس باب میں ذیلی عنوان ‘‘جی ٹوینٹی کے گذشتہ چوٹی سربراہی اجلاس ایک جائزہ’’ کے تحتجی ٹوینٹی کی گذشتہ سترہ کانفرنسوں کی کار کردگی کو علیحدہ علیحد ہ گفتگو کا مرکز بنایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسعد فیصل فاروقی اپنی اس کتاب کے مقدمہ میں رقمطراز ہیں:‘‘ اس تفصیل کے بیان کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عام اردو قاری اس اہم معلومات سے نہ صرف اس تنظیم کی اہمیت کو جان سکے نیز ان مسائل اور حالات سے بھی آشنا ہوسکے جو کہ موجودہ وقت میں دنیا کے سیاسی و معاشی حالات پر اثرانداز ہو ئے ہیں۔
اسعد فیصل فاروقی نے مذکورہ کتاب کے چوتھے باب‘‘ ہندوستان اور جی ٹوینٹی’’ کے تحت ہندوستان کی صدارت میں جی ٹوینٹی کی سرگرمیوں پر بات کی گئی ہے۔اس باب میں انہوں نے ہندوستان میں جو تقریبات اور سرگرمیاں جی ٹوینٹی کے سلسلہ میں چل رہی ہیں نہ صرف اس پر گفتگو کی ہے، بلکہ ہندوستان کا جی ٹوینٹی میں کیا کردار رہے گا اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس کے علاوہ اسعد فاروقی نے تفصیل کے ساتھ جی ٹوینٹی کے ہندوستان کے ایجنڈوں اور ترجیحات کو بھی بیا ن کیا ہے۔ ہندوستان میں ہر سطح پر جی ٹوینٹی سے متعلق آج کل اتنی گفتگو کیوں ہورہی ہے ؟ہندوستان کے تناظر میں اس کے اجلاس کے کیا اہمیت ہے اور کیا معنی ہیں؟ اور یہ صدارت ہندوستان پر کیا اثر ڈالے گی، کتاب نے اس باب میں ا ن سوالات کے جوابات کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، نیز ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہونے والی سرگرمیوں کا احاطہ بھی کیا ہے۔
اس کتاب کا پانچواں باب علی گڑھ اور جی ٹوینٹی ممالک کے رشتوں پر روشنی ڈالتا ہے ، جس میں مصنف نے بڑی تحقیق و جستجو سے جی ٹوینٹی کے پس منظر میں علی گڑھ کے عالمی کردار پر بھر پور معلومات فراہم کی ہے۔ جس کے تحت نہ صرف جی ٹوینٹی ممالک کے ساتھ علی گڑھ کے تاریخی تعلقات، علی گڑھ میں عالمی زبانوں کی تعلیم، علی گڑھ میں جی ٹوینٹی ممالک پر تحقیق، علی گڑھ میں جی ٹوینٹی ممالک کی بڑی شخصیات کی آمد اور ان کو مختلف اعزازی ڈگریوں سے نوازنا وغیرہ پر علیحدہ علیحدہ گفتگو کی گئی ہے۔اسعد فیصل فاروقی لکھتے ہیں:
‘‘علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، ہندوستان کا وہ جدید بنیادوں پر قدیم تعلیمی ادارہ ہے، جس کو سرسید احمد خاں نے مدرسۃ العلوم کی شکل میں 1857میں قائم کیا تھا۔ علی گڑھ کی یہ خصوصیت اور اس کا یہ امتیازبھی ہے، کہ اس کے تعلیمی معیار کو اعلیٰ اور ارفع بنانے میں یوروپین ممالک بالخصوص، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور عرب کے اساتذہ کا بھی اہم کردار رہا ہے، وہیں اس کے طلباء میں غیر منقسم ہندوستان کے مختلف خطوں کے علاوہ عرب ، ایران ، اندونیشیائی ، ملیشیائی اور افریقہ کے طلباء بھی رہے ہیں، جو اس کے کردار میں تنوع اور گونا گونی پیدا کرتا ہے۔ یہاں بھی یہ واضح کرتے چلیں کہ بین الاقوامی طلباء کا علی گڑھ آمد اور علمی پیاس بجھانے کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ اس کا رشتہ کالج کے زمانہ سے ہی ہے۔ اس لحاظ سے علی گڑھ کی شناخت امتیازی اہمیت کی حامل ہے۔ 
اسعد فیصل فاروقی اس بارے میں مزید لکھتے ہیں
‘‘مذکورہ تصنیف کے پانچویں باب میں میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے، کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جی ٹوینٹی کے ہر رکن ملک کے ساتھ، علمی ،تہذیبی، ثقافتی، اور سائنسی رشتوں کو ماضی کے پس منظر اور جدید تناظر میں بیان کیا جائے اورعلی گڑھ کس طرح سے ہندوستان اور ان ممالک کے ساتھ روابط کو بہتر بنانے نیز ہندوستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے، اس پر روشنی ڈالی جائے۔ یہاں اس اہمیت کو اجاگر کردینا بھی ضروری ہے کہ ہندوستانی حکومت ماضی اور حال کے ان رشتوں کو استعمال میں لاکر ہندوستان اور ان ممالک کے تعلقات کو بہتر ڈھنگ سے استوار کرسکتی ہے۔ 
کتاب کے چھٹے باب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جی ٹوینٹی کے سلسلہ میں جو تقریبات اور سرگرمیاں مختلف شعبوں کی جانب سے منعقد ہوئیں اس پر گفتگو کی گئی ہے ۔ 
اسعد فیصل فاروقی اردو والوں کی جانب سے اس تصنیف کے لئے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک جدید موضوع پر قلم اٹھایا اور ایک تحقیقی اور معلوماتی کتاب تصنیف کرکے اردو حلقوں پر گراں قدراحسان کیا ہے۔ کتاب پر پیش گفتار ، سرسید اکیڈمی کے ڈائرکٹر اور   ڈپٹی ڈائرکٹر کی جانب سے پیش کئے گئے ہیں۔ جی ٹوینٹی پر یہ اہم کتاب ۳۸۴ صفحات پر مشتمل ہے، کتاب کی قیمت 800 روپے ہے ، جو اردو والوں کے لئے کچھ زیادہ ہے۔ کتاب کا کاغذ عمدہ اور ٹائیٹل دیدہ زیب ہے ۔ یہ کتاب پبلی کیشن ڈویزن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ تصنیف اردو قارئین میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جائے گی۔