گرمیاں آتے ہی آم کا موسم شروع ہوجاتا ہے۔اس وقت تو یہ موسم اپنے پورے شباب پر ہے، پورا ملک آم کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔گلی محلوں سے بازاروں تک آم ہی آم ہیں۔ ٹھیلے ہوں، سپر مارکیٹیں یامال ہر جگہ دلکش رنگت اور منفرد خوشبو کے ساتھ آم خریداروں کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے۔ یہ کہنادرست قرار پائے گا کہ موسمِ گرما کی اصل پہچان آم ہی ہے۔ سوشل میڈیا کے توسط سے ان دنوں ایک بڑا موضوع آم ہی ہوتاہے۔لکھنؤ میں اس موسم کا ا نتظار یوں بھی رہتا ہے کہ یہاں آم کی متعدد عوامی دعوتوں کی ایک سرگرم روایت رہی ہے،جو اب بھی جاری ہے۔
یہاں آم کی دعوتوں کے دو بڑے میزبان چودھری شرف الدین اور خواجہ یونس اب اللہ کے حضور پہنچ چکے ہیں لیکن دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے۔11جولائی کو چودھری شرف الدین کی یاد میں ”51واں جشن آم اور غالب“کا اہتمام ان کے پوتے(موسی خاں،حمزہ خاں) اور دیگر اہل خانہ کی طرف سے امین آباد میں کیا جارہا ہے۔
لکھنؤ کو اس لحاظ سے بھی ممتاز حیثیت حاصل ہے کہ یہاں صرف آم کی دعوت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس پھل کو مختلف انداز میں ادب کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ ان دعوتوں میں مختلف انداز سے آم کا ذکر ہوتا ہے کوئی منظوم قصیدہ پڑھتا ہے تو کسی کے یہاں انشائیے کی جھلک نمایاں ہوتی ہے کبھی آم کاخاکہ تو کبھی اس کی تاریخ اور دیگر پہلووں پر گفتگو ہوتی ہے۔اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی سہیل کاکوروی کی شخصیت ہے۔سہیل کاکوروی(محی الدین حسن۔ پیدائش 1950) ایک قادرالکلام شاعر ہیں،جنھیں نظم گوئی میں کمال حاصل ہے۔ متعدد شعری مجموعے ان کے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کا ایک مجموعہ”ارضیات غالب“ کے نام سے ہے جس میں غالب کی ز مینوں پر ان کی کہی ہوئی غزلیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے ”سہیل نامہ“کے نام سے اپنی منظوم سوانح حیات بھی لکھی ہے۔ان کی شہرت کا ایک اہم ذریعہ ”آم نامہ“ہے۔”آم نامہ“ غالب کی مشہور مثنوی ”درصفت انبہ“کی ز مین میں ہے۔دراصل مرزا فخرو نے غالب کو آموں کا تحفہ بھیجوا یا تھا جس کے شکریے کے طورپر انھوں نے یہ مثنوی تحریرکی تھی۔سہیل کاکوری لکھتے ہیں۔
کہاغالب نے جو جواب نہیں
آم پر میں لکھوں یہ تاب نہیں
بحر قسمت سے ہے وہی میری
بحر ”انبہ“جو تھی وہ غالب کی
آم غالب یہ دونوں نام وسیع
بس کہ میری ہے کوشش توسیع
آم کی تعریف و توصیف میں بہت سے شعرکہے گئے ہیں مگر باقاعدہ منظوم کتاب کے طور پر ”آم نامہ“کو اولیت حاصل ہے۔آم کس قدر خوش قسمت پھل ہے کہ اسے کیسے کیسے چاہنے والے ملے ہوئے ہیں۔غالب سے سہیل کاکوری تک محبت اور عقیدت رکھنے والے کیسے کیسے نام شامل ہیں۔ پھل سے اس محبت کو تخلیقی رنگ دے کر ادب کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے ثبت کردیا۔سہیل کاکوروی نے آم کو صرف ایک پھل کی صورت میں نہیں دیکھا ہے بلکہ ایک تہذیب اور ثقافت کے تناظر میں اسے برتا بھی ہے۔لکھنؤ کی مختلف النوع روایتوں اور وضع داریوں کی صورت میں بھی اسے دیکھا ہے۔مثنوی کی صورت میں ”آم نامہ“ کا آغاز حمد و نعت سے ہوتا ہے۔
آم کھاتا ہوں لے کے نام خدا
اور محمد کا ہوں میں ادنی گدا
کررہی ہے وہ آم کی خوشبو
سجدہ شکر پیش اللہ ہو
آم کی تعریف وتوصیف کے علاوہ اس کی اقسام،اس سے وابستہ روایت،ادبی حوالے،لطیفے اور دیگر معلومات کو نہایت عمدگی سے پیش کیا گیاہے۔کتاب کا اہم پہلو وہ بھی ہے جہاں وہ مختلف ادبی،سماجی اور علمی شخصیات کا ذکر آم کے تناظر میں کیا گیاہے۔اس طرح کے سیکڑوں نام ہیں جن کو اشعار کی صورت میں انھوں نے پیش کیا ہے۔کتاب کا انتساب بھی خاصا بلیغ ہے۔انھوں نے اس آیت کریمہ سے معنون کیا ہے جس کا ترجمہ ہے ”تم اللہ کی دی ہوئی کن کن نعمتوں کوجھٹلاؤ گے“۔سہیل کاکوروی نے ابتدا میں ”آم نامہ“ کے شان نزول کے بارے میں بھی لکھا ہے۔
جون 2012کے آخر میں جب بازار میں ہر مہک پر آم کی مہک چھاگئی کہ اتفاق سے فیس بک ایک تصویر دیکھی جو کسی نے مجھے ٹیگ کی تھی اور جس میں اردو کے مشہور ناقد پروفیسر شارب ردولوی ایک آم ہاتھ میں لیے نظر آرہے تھے۔سامنے کچھ خالی جگہیں تھیں جن کو اپنے بیٹھنے والوں کا انتظار تھا۔کوئی نشست تھی جو ابھی شروع نہیں ہوئی تھی پیچھے ایک بینر تھا جس پر ”آم اور غالب“لکھا ہوا تھا۔مجھے یقین ہوگیا کہ چودھری شرف الدین صاحب کے مکان پر وہ جلسہ ہونے جارہا تھا جس کا ہر سال یہی عنوان ہوتا تھا اور اس کی بنیاد مالک فروغ اردو لکھنؤ مرحوم شمس علوی نے ڈالی تھی...نئے چہرے نئے نظریوں کے ساتھ ابھر آئے ہیں لیکن پروفیسر شارب ردولوی کا وجود بیتے زمانے کو اس زمانے سے جوڑنے کے لیے ایک مضبوط کڑی ہے۔اس دن فیس بک پر ان کی آم کے ساتھ تصویر دیکھی تو ایک دم شعر ہوا۔
پہلے لکھتے تھے آم اور غالب
اب لکھا جائے آم اور شارب (آم نامہ ص 26)
ابتدا میں انھوں نے بزرگان دین کا ذکر کیا ہے اور بعد میں دیگر ادبی و علمی شخصیات کا۔یہ حصہ اس طور پر بھی اہم ہے کہ آم سے متعلق بے شمار شخصیات کو انھوں نے ایک جگہ جمع کردیا ہے۔
فخر دیں ہے حسن میاں کا نام
وہ جو کھالیں تو اور پاک ہو نام
ابو العرفان شہر کے قاضی
آم کھانے کو ہوگئے راضی
دیکھیں خالد رشید مولانا
آم لائے ہیں ہم کرم فرما
کلب صادق ہیں علم کے جویا
کاش وہ آم پر بھی ہوں گویا
فخر عباس وہ جو ہیں یعسوب
کہتے ہیں آم میں نہیں ہیں عیوب
ذاکر و شاعر آغاروحی ہیں
اور مداح آم کے بھی ہیں
حسن میاں فرنگی محل کے علما کی روایتوں کے وارث، اور ندوۃ العلما میں استاد اور نہایت مرنجامرنج شخصیت کے مالک ہیں۔خالد رشید فرنگی محلی سے کون واقف نہیں۔
لکھنؤ کی دو مشہور آم کی دعوتوں میں بے شمار لوگ شریک ہوتے تھے۔اجازت عام ہوتی تھی۔شہر کی ان تقریبات میں ان دعوتوں کا شمار ہوتا تھا جس کا کہ لوگ سال بھر انتظار کرتے تھے۔اس کے میزبان چودھری شرف الدین اور خواجہ یونس تھے۔ان کے بارے میں لکھتے ہیں ؎
خواجہ یونس ہوں یا ہو ں شرف الدین
ان کے گھر آم کھائیں سارے ذہین
جوش ملیح آبادی،اکبر الہ آبادی کو اس طرح یا دکیا گیا ہے۔
آم کا اور ان کا ایک وطن
جوش ہیں شاعری میں شیریں سخن
شعر اکبر الہ آبادی کے
آم پر تھے جو یادگار بنے
لکھنؤ کے سیکڑوں لوگوں کا ذکر مثنوی کیا گیا ہے۔شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کا ذکر اس مثنوی میں نہ کیا گیا ہو۔اتنے لوگوں کو یاد رکھنا اور مناسب انداز میں شعری قالب عطا کرنا خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔مزید خوبی یہ ہے کہ عام کے حوالے سے یہ ساری کارگزاری ہے
محترم وہ حفیظ نعمانی
آم کوسمجھیں فضل ربانی
وارث علم ہیں وہ کرمانی
آم کی ان کے دل پہ سلطانی
وہ ملک زادہ جو کہ ہیں منظور
آم سے ان کا ذہن ہے معمور
شاہ عبدالسلام کھاتے ہیں
آم ان کا بھی دل لبھاتے ہیں
جو مظفر علی لکھیں گے کبھی
آم پر اسکرپٹ ہوگی بڑی
کھائیں گر عائشہ صبیحہ آم
کچھ تو کہیے گا اس پہ آپ سلام
کوثر عثمان ڈاکٹر اچھے
آم ان کو بھی ہیں پسند بڑے
اب چرن سنگھ بشر جو مل جائیں
ہم انھیں آم خوب کھلوائیں
شمس الرحمن فاروقی کو آم کے حوالے سے اس طرح یاد کرتے ہیں ؎
شمس رحمان ناقد اعلی
آم پر کچھ کہیں بہ طرز جدا
ایک طویل سلسلہ ہے جس میں انھوں نے لکھنؤ اور دیگر ممتاز شخصیات اور بے شمار لوگوں کاذکر کیا ہے۔ اس حوالے سے بھی یہ مثنوی ایک یادگار بن گئی ہے۔بعض مشہور فلمی شخصیات کو بھی شاعری کا جامہ پہنایا ہے۔
جو امیتابھ ہیں مہانایک
آم کی ان کو بھی ہے خوب للک
دیپکا پاڈوکون کھاتی ہیں
آم یورپ سے وہ منگاتی ہیں
آم کی مختلف قسموں کا ذکر بھی انھوں نے کیا ہے ،جس میں معلومات بھی ہے اور طرز بیان کی شگفتگی بھی۔چند اشعار بطور مثال ملاحظہ فرمائیں ۔
آم بھیجے ہیں اس نے با اخلاص
کچھ دسہری ہیں کچھ ہیں خاص الخاص
’حسن آرا‘ جو آم ہوتا ہے
حسن والا ہی اس کو بوتا ہے
روشن آراوہی ہے عشوہ طراز
آم کھاکر ہوا شہیدناز
آم بیگم پسند کھاتا ہوں
ہوکے میں گھر میں بند کھاتا ہوں
آم نیلم تو رشک گوہر ہے
اس کی قیمت تو جوہری پر ہے
آم ہے یا کہ کوئی ہیرا ہے
نام پکھراج خوب رکھا ہے
آم ہوتا ہے ایک ’طوطا پری‘
آپ نے کھایا ہے کبھی ’فجری‘
آم کا نام رکھ دیا لنگڑا
نہیں معلوم کس نے ایسا کیا
فن کار چاہے جس موضوع پر بھی قلم اٹھائے وہ ہندستان کے تکثیری سماج اور یہاں کی رنگا رنگ ثقافت اور تہذیب کو پیش کرنے کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال ہی لیتا ہے۔اس حوالے سے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں،جس میں یکجہتی کی بہار کانکتہ پیش کیا گیا ہے۔
کھائیں ہندو بھی اور مسلم بھی
آم میں ہے بہار یکجہتی
آم کی لذت تو مشہور ہے اور کھاتے بھی سب لوگ ہیں مگر اس سلسلے کا ایک اور نکتہ سہیل کاکوری کے شعر میں ملاحظہ کریں۔
رحمتیں لے کے آم آتے ہیں
لذتیں لے کے آم آتے ہیں
آم سے متعلق اس کے دیگر پہلوؤں کوبھی پیش کیا گیا ہے۔
آم کو سازگار وہ آئے
جو زمیں جتنا پانی پی جائے
فروری میں دکھائی دیتا ہے بور
جوکہ ہے سردیوں کا آخری دور
آم ذائقہ اور غذائیت دونوں کا خزانہ ہے۔ اس میں وٹامن اور دیگر اہم غذائی اجزا ہوتے ہیں جو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ آم مناسب مقدار میں کھایا جائے تو یہ ایک مکمل اور صحت بخش غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔
آم میں بیسیوں وٹامن ہیں
جو ہماری صحت کے ضامن ہیں
آم وہ کھائے احتیاطوں سے
بس سمجھ کر ذیابطیس والے
ہضم ہوتے ہیں آم جامن سے
یہ بتایا ہمیں بزرگوں نے
آدمی کو بنائے فولادی
آم کے ساتھ مرغ کی یخنی
آم کا ایک جلوہ یہ بھی ہے۔
آم کا دیکھیے یہ جلوا بھی
ہے عجب چیز یہ گڑمبا بھی
اس طرح اس کی میری بات بنی
اس کو بھیجی تھی آم کی چٹنی
اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سہیل کاکوروی نے آم سے متعلق اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہایت عمدگی سے کیا ہے۔بلکہ نئے زمانے کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔وہ کہتے ہیں
آم اب فصل کا نہیں محتاج
اب تو ’مازا‘ کا ہرگھڑی ہے راج
آم کا اتنا وہ دیوانہ ہے
مینگو شیک پینے جاتا ہے
آم ہماری تہذیب اور مہمان نوازی کی روایت کا بھی ایک خوبصورت حصہ ہے۔ گرمیوں کی دعوتیں آم کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں۔آم ایک دوسرے کے قریب لانے اور خوشیوں میں شریک ہونے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
عشق جو کرتے تھے کھلاتے تھے
اس کے گھر آم خوب آتے تھے
تیرے گھر آئیں گے بلانے پر
دیں گے ہم زور آم کھانے پر
فصل پر آم ایک تحفہ ہے
جس کو مل جائے خوش وہ ہوتا ہے
آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ اجتماعی خوشیوں کی علامت بن چکا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں جب ہر طرف آم ہی آم دکھائی دیتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے حسن، ذائقے اور مٹھاس کا سب سے خوبصورت تحفہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔