نام میں کیا رکھا ہے؟ جب بات سیاست کی ہو تو تاریخ بہت کچھ بیان کرتی ہے

Story by  ثاقب سلیم | Posted by  [email protected] | Date 25-07-2026
نام میں کیا رکھا ہے؟ جب بات سیاست کی ہو تو تاریخ بہت کچھ بیان کرتی ہے
نام میں کیا رکھا ہے؟ جب بات سیاست کی ہو تو تاریخ بہت کچھ بیان کرتی ہے

 



 ثاقب سلیم

1857 میں ہندوستان کی جنگِ آزادی کے پہلے مرحلے کے ریکارڈ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں میں بھی ایسے نام ملتے ہیں جو آج ان برادریوں میں تقریباً ناپید ہو چکے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب 9 مئی 1857 کو انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی نے 85 ہندوستانی سپاہیوں کو قید کی سزائیں سنائیں اور میرٹھ میں انقلاب کا آغاز ہوا تو آرکائیوز کی فائلوں کے مطابق ان کے رہنما کا نام حوالدار ماتا دین تھا۔

یہ نام دلچسپ ہے، کیونکہ 19ویں صدی میں یہ نام مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں میں پایا جاتا تھا۔ اس دور میں ہمیں انگریزی فوج میں خدمات انجام دینے والے ماتادین میر کے ساتھ ساتھ ماتادین پانڈے بھی ملتے ہیں۔ یہ کوئی استثنا نہیں تھا۔ ان 85 سپاہیوں میں ’شیخ نندو‘، ’نادجو خان‘، ’کالا خان‘، ’زبردست خان‘ اور دیگر نام شامل تھے، جو اپنے سابقے یا لاحقے کے علاوہ ان کے مذہبی عقیدے کی شناخت میں کوئی مدد نہیں دیتے تھے۔ دوسری جانب بہار میں شیخ گھاسیتا اور شیخ بھکاری 1857 کے انقلاب کی قیادت کر رہے تھے، جبکہ شیخ گلاب 1907 میں نیل کے کسانوں کی تحریک کی قیادت کرنے والے تھے۔ یہ تمام نام ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں میں عام تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس عربی یا قرآنی نام نہیں ہوتے تھے، لیکن ایک بڑی آبادی ایسے نام بھی رکھتی تھی جن کی جڑیں عربی میں نہیں تھیں یا جنہیں اسلامی نام کے طور پر شناخت نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اور یہ گھاسیتا، نندو، ماتادین وغیرہ نام رکھنے والے لوگ نچلے طبقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے، بلکہ باعزت ملازمتوں اور سماجی حیثیت کے حامل تھے۔ لہٰذا ہم یہ بات اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے نام ذات پات اور طبقاتی حدود سے بالاتر تھے۔یہ رجحان کیا تھا اور بعد میں یہ کیسے ختم ہوگیا، یہ دو ایسے سوالات ہیں جنہوں نے مجھے کئی برسوں سے متجسس کر رکھا ہے۔

 حال ہی میں جب میں پاکستان کے سابق وزیر آعظم، احجاز احسن کو پڑھ رہا تھا تو یہ سوال ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگیا۔

اپنی کتاب ’دی انڈس ساگا‘ میں انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان میں ’’قبل از اسلام نام رکھنے والے مسلمان تقریباً نہیں ہیں۔ یہ بات بہت عجیب ہے۔ اس معاملے میں وادیٔ سندھ ایک منفرد خطہ ہے۔ حتیٰ کہ اسلام کی جائے پیدائش سعودی عرب میں بھی یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی۔ ہم جانتے ہیں کہ عمر، عثمان اور علی قبل از اسلام نام تھے۔ عمر مسلمان ہونے سے پہلے بھی عمر ہی تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام تبدیل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ عثمان اور علی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا، اسی طرح سفیان اور خالد کے ساتھ بھی۔ جب اسلام ایران تک پہنچا اور زرتشتیت اور مختلف اقسام کی بت پرستی پر غالب آیا تو اسے فارسی ناموں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نام بھی نہ عربی تھے اور نہ ہی، جیسا کہ اس دور کے شدت پسند عناصر دعویٰ کرتے، ’اسلامی‘ تھے۔ یہ نام ایک غیر مذہبی تہذیبی نظام سے مخصوص تھے۔ رستم، سہراب، جمشید اور پرویز قبل از اسلام فارسی نام ہیں۔ کسی رستم، سہراب، جمشید یا پرویز نے اسلام قبول کرنے کے بعد ’اسلامی‘ نام اختیار کرنے کے لیے اپنا نام تبدیل کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ سندھ کے سوباش اور موہن لال نے اسلام قبول کرتے ہی اپنا نام ترک کرنا ضروری سمجھا؟‘‘

میں یقینی طور پر جانتا ہوں کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے صدیوں کے دوران بتدریج عربی نام اپنائے ہیں۔ لیکن یہ کیسے ہوا؟

طارق رحمان اپنی کتاب ’Names‘ میں لکھتے ہیں، ’’اسلامی نام رکھنا اسلامی برادری کی شناخت کی ایک اہم علامت ہے۔ اسی لیے تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس (1885-1944) نے 1920 کی دہائی میں میوات (الور، بھرت پور اور ہریانہ کے گڑگاؤں) کے میوؤں کو، جو ظاہری شکل اور ناموں کے اعتبار سے ہندو نظر آتے تھے، اپنی مسلم حساسیت کے لیے ایک تکلیف دہ بات سمجھا، حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے۔‘‘

ان کے ناموں کے بارے میں 1878 کے گزٹ میں کہا گیا ہے: ’’وہ اپنے لیے ہندو نام استعمال کرتے ہیں، سوائے ’رام‘ کے؛ اور ’سنگھ‘ ایک عام لاحقہ ہے، اگرچہ یہ ’خان‘ جتنا عام نہیں۔‘‘ (کیپٹن پاولٹ، 1878: 38۔ اقتباس ابنِ بٹسن 1883: 135 سے)۔ جیسے جیسے میوؤں میں اسلامائزیشن کا عمل آگے بڑھا، ہندوؤں کے ساتھ مشترک ناموں کے اجزا کم ہوتے گئے اور پھر بالکل ختم ہوگئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے درمیان بھی اپنی الگ مذہبی شناخت قائم کرنے کی یہ پُرجوش کوشش 20ویں صدی کے آغاز میں شروع ہوئی۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 نے ایک ایسا عمل شروع کیا جس کے تحت ہر مذہبی گروہ اپنی تعداد زیادہ سے زیادہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تاکہ قانون ساز اداروں اور سرکاری خدمات میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کا دعویٰ کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ 1920 کی دہائی میں مسلمانوں اور ہندوؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے مقابلے میں تبلیغ، تنظیم اور شدھی تحریکیں سامنے آئیں، جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنا تھا۔ ان تحریکوں کا ہدف میوؤں اور گوجروں جیسے لوگ تھے، جو اسلام اور ہندو مذہب دونوں پر نسبتاً ڈھیلے انداز میں عمل کرتے تھے۔

میٹیسن مائنز نے اپنی تحقیق میں جنوبی ہند کے تمل مسلمانوں میں بھی میوؤں جیسا ہی عمل ثابت کیا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’اسلامائزیشن اینڈ مسلم ایتھنِسٹی اِن ساؤتھ انڈیا‘ میں لکھا ہے:

’’تمل ناڈو میں بھی اسلامائزیشن کا ایک ایسا ہی عمل دیکھا جاتا ہے۔ ایدیکوٹائی کے مسلمان اپنے ہندو ماحول سے نکل کر شہر منتقل ہوئے اور انہوں نے اسلامائزیشن اختیار کی۔ میوؤں نے ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم سے پیدا ہونے والی بنیادی سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کے نتیجے میں تقسیم سے پہلے کی اپنی سماجی حیثیت کھو دی۔ لیکن تمل مسلمانوں کو ایسی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ مختلف سماجی ماحول کے مطابق زیادہ لچک کے ساتھ خود کو ڈھالنے کے قابل رہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کے مسلمانوں پر غالب ہندوؤں کی جانب سے اسلامائزیشن اختیار کرنے کا کوئی دباؤ نہیں تھا۔ اس کے برعکس، شہری مسلمانوں نے شعوری طور پر اپنے رسوم و رواج کو اسلامی رنگ دینے کا انتخاب کیا۔ تاہم گاؤں میں مسلم شناخت اجتماعی نوعیت کی ہے، جس میں مذہبی شناخت تو پیدائشی طور پر ملتی ہے، لیکن سماجی حیثیت اور عزت و وقار حاصل کیے جاتے ہیں۔‘‘

نوآبادیاتی دور کے بعد کی دنیا میں نام برادری کی تشکیل اور شناخت کی ایک اہم علامت بن گئے ہیں۔ اس سے یہ اثر پڑتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کو کس نظر سے دیکھتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک شہری خود کو کس طرح دیکھتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی اس عمل سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے۔

 این میری شمل نے اپنی معروف کتاب ’اسلامک نیمز‘ میں لکھا ہے کہ ’’اسلامی اور ہندوستانی ناموں کے اختلاط کے خلاف کئی فتوے جاری کیے گئے، اور خاص طور پر اسلامی رنگ اختیار کرنے والے تمل اور تیلگو ناموں پر تنقید کی گئی۔‘‘ وہ مزید لکھتی ہیں، ’’ایک حالیہ فتویٰ میں ہندوستانی مسلمانوں پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے نام ’امہات المؤمنین‘ یعنی نبی کریم ﷺ کی ازواج کے نام پر رکھیں۔‘‘

شمل جس رجحان کا ذکر کر رہی تھیں، وہ 20ویں صدی میں وجود میں آیا۔ اس سے پہلے کوئی ماتادین یا گھاسیتا بھی اتنا ہی مسلمان ہوسکتا تھا جتنا عبداللہ۔ اسی کتاب میں شمل نشاندہی کرتی ہیں کہ بلال نام ہندوستانی مسلمانوں اور پاکستان میں اقبال کی ان دو اردو نظموں کی وجہ سے مقبول ہوا جن میں نبی کریم ﷺ کے اس وفادار صحابی کا ذکر کیا گیا تھا۔ ایسا بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی خطے میں طارق نام بھی اقبال کی ان نظموں کے بعد عام ہوا جن میں اس ہیرو کی یاد تازہ کی گئی تھی جس نے آبنائے جبرالٹر کو عبور کیا تھا اور جس کا نام آج بھی اس آبنائے سے وابستہ ہے۔مسلم برادری کی شناخت کے لیے ناموں کو استعمال کرنے کا رجحان 20ویں صدی کا مظہر ہے، جو ایک بار پھر جنوبی ایشیا یعنی برصغیر تک محدود ہے۔

اس رجحان نے ایسے خاندانی ناموں کو فروغ دیا جو ہندوستانی مسلمانوں کو ’’اپنی شناخت یا خود کو اہلِ ایمان کی بنیادی جماعت کی اولاد کے طور پر ظاہر کرنے‘‘ میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر انصاری خاندانی نام اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس شخص کا نسب مدینہ کے انصار سے ملتا ہے، جبکہ صدیقی اپنے نسب کو حضرت ابوبکرؓ سے جوڑتا ہے۔ اسی طرح منصوری، سلمانی اور فاروقی اپنے نسب کو نبی کریم ﷺ کے کسی نہ کسی ابتدائی صحابی سے جوڑتے ہیں۔

ہندوستان میں خاندانی ناموں کو اسلامی رنگ دینے کے اس عمل کو بعض گروہوں نے روکا ہوا ہے، جو اپنے ہندوستانی آباؤ اجداد کی ذات یا برادری کے خاندانی ناموں کو برقرار رکھتے ہیں، جیسے تیاگی، گور، تومر، پُنڈیر، چوہان، نائک، راؤ وغیرہ۔اگر آپ انڈونیشیا، ایران، ترکی وغیرہ جیسے دوسرے معاشروں پر نظر ڈالیں تو وہاں بچوں کے نام قرآن سے رکھنا اتنا لازمی معلوم نہیں ہوتا جتنا ہندوستان میں کیا جاتا ہے۔

درحقیقت، یہ شدت پسندی جب لاعلمی کے ساتھ مل جاتی ہے تو بعض اوقات مضحکہ خیز صورت اختیار کرلیتی ہے۔ شمل بتاتی ہیں کہ بہت سے مسلمان ’’اپنے بچے کا نام منتخب کرنے کے لیے قرآن کو کسی بھی جگہ سے اتفاقاً کھولتے ہیں اور ان کی نظر سورۂ 61 کی آیت 13 پر پڑ جاتی ہے۔ یہ رواج برصغیر اور دیگر غیر عرب اکثریتی ممالک میں عام ہے اور بہت سے معاملات میں عجیب و غریب نام وجود میں آتے ہیں، کیونکہ والدین عموماً عربی زبان سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے کہ بعض الفاظ اور جملوں کے مفہوم کو سمجھ سکیں۔‘‘

18ویں صدی کے ہندوستانی شاعر اور عالم آزاد بلگرامی کے سوانح نگار کے مطابق، ایک مرتبہ اورنگ آباد میں آزاد کے دروازے پر کسی نے دستک دی۔ جب اس سے نام پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا: ’’بعدُ بالدین‘‘۔ اس پر عالم نے اس شخص سے بات کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ ان الفاظ کا مفہوم منفی تھا۔ (سورۂ 95، آیت 7: ’’پھر اس کے بعد کون سی چیز تمہیں جزا و سزا کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟‘‘)

---پروفیسر ندیم حسنین ناموں کے بارے میں اس مقابلے کو ایک جاری عمل سمجھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’شاید دور رس اہمیت کی حامل سب سے اہم تبدیلی عربوں کے انداز میں غیر معمولی ناموں کو اپنانا ہے۔ جیسا کہ محمد مسعود (2009) نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے، کسی بھی ثقافت میں نام سماجی، سیاسی، معاشی اور مذہبی اداروں سے تعلق کی عکاسی کرسکتے ہیں۔‘‘جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں نام رکھنے کی رسم مختلف طریقوں سے ادا کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عقیقہ کی رسم سب سے زیادہ عام ہے۔ بچے کے لیے نام منتخب کرنے کا عام طریقہ اللہ تعالیٰ کی صفات، محمد، خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ کے نام اور شیعہ مسلمانوں میں ان کے بارہ اماموں کے ناموں میں سے انتخاب کرنا رہا ہے۔ شیعہ مسلمانوں میں خلفائے راشدین اور ان صحابہ کے نام یا القاب شامل نہیں کیے جاتے جو حضرت علیؓ کے مخالف تھے۔

شیعہ سادات اپنے نسب کو ان ائمہ میں سے کسی ایک سے جوڑتے ہیں اور ان کے مقبول القاب یا خاندانی ناموں میں حسینی، عابدی، تقوی، رضوی، نقوی وغیرہ شامل ہیں۔اب لوگوں کے ایک طبقے میں نام رکھنے کا ایک مخصوص عرب طرز بھی رائج ہو رہا ہے، جیسے یاسین بن زہیر، عناب بنت سراج وغیرہ۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ ایسے انداز اور نام پہلے کبھی موجود نہیں تھے۔ یہ جنوبی ایشیا کے اسلام کو ’’عرب بنانے‘‘ اور اس کے مذہبی و ثقافتی تعلقات کو جنوبی ایشیا سے منقطع کرنے کی ایک اور مثال ہے۔

آج ہندوستان میں کچھ ایسے مسلمان بھی ہیں جن کے ناموں سے ان کے مذہب کی شناخت نہیں کی جا سکتی اور یہی بات ہندوؤں کے بارے میں بھی درست ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔درحقیقت، ہمارے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو، جو 1889 میں پیدا ہوئے، ان کا نام بھی سنسکرت کے بجائے فارسی زبان سے جڑی ہوئی جڑیں رکھتا تھا۔ جواہر کے معنی موتی یا جواہرات اور لال کے معنی سرخ قیمتی پتھر کے ہیں۔لیکن آج نوجوان نسل میں ہندوؤں کے درمیان رام بخش یا مسلمانوں میں للن خان جیسے نام بہت کم رہ گئے ہیں۔ اگرچہ ذات یا برادری سے وابستہ خاندانی نام اب بھی بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔