جشن جمہوریت کثیر تہذیبی اور عظیم جمہوری روایات کا جشن

Story by  عمیر منظر | Posted by  [email protected] | Date 27-01-2026
جشن جمہوریت کثیر تہذیبی اور عظیم جمہوری روایات کا جشن
جشن جمہوریت کثیر تہذیبی اور عظیم جمہوری روایات کا جشن

 



ڈاکٹر عمیر منظر 
شعبہ اردو ,مانو لکھنؤ کیمپس 
 
ہندستان ایک عظیم جمہوری ملک ہے جس کی شناخت اس کے آئین اور کثیر تہذیبی روایات سے قائم ہے۔ ہر سال 26 جنوری کو پورے ملک میں یومِ جمہوریہ نہایت وقار، جوش و خروش اور قومی اتحاد کے جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک سرکاری تقریب نہیں بلکہ ہندوستانی قوم کی فکری پختگی، سیاسی شعور اور جمہوری اقدار کی علامت ہے۔ اسی لیے 26 جنوری کو بجا طور پر جشنِ جمہوریت کہا جاتا ہے۔
 26 جنوری 1950ء در اصل وہ یادگار دن ہے جب آئینِ ہند نافذ ہوا اور ہندوستان ایک نوآبادیاتی نظام سے نکل کر ایک مکمل خودمختار، جمہوری اور آئینی ریاست بن گیا۔ واضح رہے کہ ہندوستان کو آزادی 15 اگست 1947ء کو حاصل ہوئی، لیکن اس کو عملی شکل آئین کے نفاذ سے ملی۔ آئین نے ملک کے شہریوں کو مساوات، آزادی، انصاف اور اخوت جیسے بنیادی حقوق عطا کیے اور جمہوریت کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ہندستان کاآئین دنیا کے طویل ترین اور جامع آئینوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی تشکیل میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کا کردار نہایت اہم اور تاریخی ہے۔ وہ آئین ساز اسمبلی کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے آئین کو اس طرح ترتیب دیا کہ ملک کے کمزور، پسماندہ اور اقلیتی طبقات کو بھی مکمل تحفظ حاصل ہو سکے۔ سماجی انصاف، قانون کی بالادستی اور شہری حقوق ان کی فکر کا مرکزی نکتہ تھے، جو آج بھی ہندوستانی جمہوریت کی جان ہیں۔
جشنِ جمہوریت ہمیں ان عظیم رہنماؤں کی قربانیوں اور ان کی بے مثال جدوجہد کی یاد بھی دلاتا ہے جنہوں نے آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مہاتما گاندھی نے سچائی اور عدم تشدد کے اصولوں کے ذریعے عوام کو متحد کیا اور آزادی کی جدوجہد کو اخلاقی قوت بخشی۔ ان کی تعلیمات جمہوریت کے اخلاقی پہلو کو مضبوط کرتی ہیں۔ جواہر لعل نہرو نے آزاد ہندوستان کو جدید، سائنسی اور جمہوری خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اور جمہوری اداروں کو فروغ دیا۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ہندوستان کے اتحاد کا معمار کہا جاتا ہے۔ مضبوط قوم کے بغیر مضبوط جمہوریت کا تصور ممکن نہیں، اور اس حوالے سے سردار پٹیل کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ان عظیم رہنماؤں میں مولانا ابوالکلام آزاد کا مقام نہایت بلند ہے۔ وہ ایک عالمِ دین، ممتاز ادیب، مفکر اور مجاہدِ آزادی تھے۔ مولانا آزاد نے قومی تحریک میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کا پیغام دیا۔ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرِ تعلیم تھے۔ان کو معلوم تھاکہ تعلیم ہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔ اسی لیے انہوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں، سائنسی تحقیق اور ثقافتی اداروں کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا آزاد کا تصورِ قومیت ہندوستانی جمہوریت کی روح سے ہم آہنگ تھا، جس میں تنوع کے ساتھ اتحاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
26 جنوری کے موقع پر نئی دہلی کے کرتویہ پتھ پر ہونے والی پرشکوہ پریڈ یومِ جمہوریہ کی سب سے نمایاں تقریب ہوتی ہے۔ اس پریڈ میں ہندوستان کی فوجی طاقت، نظم و ضبط اور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ ہوتا ہے، جبکہ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جھانکیاں ملک کی ثقافتی رنگا رنگی، تاریخی ورثے اور ترقیاتی منصوبوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس سے قبل صدرِ جمہوریہ قوم سے خطاب کرتے ہیں، جو آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تحفظ کا پیغام ہوتا ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جمہوریت صرف حکومت بنانے یا ووٹ دینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک طرزِ فکر اور طرزِ عمل ہے۔ شہریوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے فرائض بھی نہایت اہم ہیں۔ قانون کی پابندی، سماجی ہم آہنگی، اختلافِ رائے کا احترام اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا جمہوریت کے بنیادی تقاضے ہیں۔
اردو شاعری کی روایت ابتدا ہی سے انسان دوستی کے حق میں رہی ہے۔ اقتدارِ مطلق کا اس نے کبھی ساتھ نہیں دیا۔ شعرا کے یہاں انسان کے دکھ درد اور ظلم کے خلاف احتجاج کی توانا آواز ملتی ہے۔یہی روایت آگے چل کر انیسویں اور بیسویں صدی میں زیادہ واضح اور شعوری شکل اختیار کر گئی۔
آزادی کی تحریک کے دوران اردو شاعری ایک طاقتور سیاسی ہتھیار بن کر سامنے آئی۔ علامہ  اقبال نے غلامی کے خلاف حریتِ فکر اور قومی وقار کا تصور پیش کیا۔ ان کی شاعری میں عوام کی بیداری اور خود آگہی پر جو زور ہے، وہ جمہوری شعور ہی کی علامت ہے۔ حسرت موہانی نے ”کامل آزادی“ کا نعرہ دے کر جمہوریت کو عملی سیاست سے جوڑا۔ جوش ملیح آبادی کی انقلابی شاعری نے نوجوان نسل میں جرات، بے باکی اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا۔ فیض احمد فیض کی شاعری اس عہد کی توانا آواز ہے، جس میں آمریت، سیاسی جبر اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف شدید احتجاج ملتا ہے، لیکن ساتھ ہی ایک روشن مستقبل کی امید بھی جھلکتی ہے۔ کیفی اعظمی نے سماجی مساوات، طبقاتی کشمکش اور عورت کے وقار کو موضوع بنا کر جمہوریت کے وصف کو نمایاں کیا۔ ساحر لدھیانوی نے سرمایہ دارانہ نظام اور سماجی عدم مساوات پر سخت تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی آزادی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک معاشی انصاف قائم نہ ہو۔
جشنِ جمہوریت کے تناظر میں اردو شاعری کی ایک بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے اختلافِ رائے کو تہذیبی وقار عطا کیا۔ اردو شعرا نے سچ کہنے کو شاعر کا بنیادی فریضہ سمجھا۔ یہ رویہ جمہوریت کی روح کے عین مطابق ہے۔اردو شاعری نے عوام کو یہ بتایا کہ خاموشی جبر کو مضبوط کرتی ہے، جب کہ آواز اٹھانا جمہوریت کو طاقت بخشتا ہے۔
اردو شاعری کی عوامی زبان اور سادہ اسلوب نے جمہوری قدروں کو خواص سے نکال کر عوام تک پہنچایا۔ مشاعرے اردو تہذیب کا ایسا ادارہ ہیں جہاں شاعر اور سامع آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ یہ روایت جمہوریت کی عملی صورت ہے، جہاں ہر آواز سنی جاتی ہے اور ہر رائے کو جگہ ملتی ہے۔ اسی وجہ سے اردو شاعری نے سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔
شعرا نے کثرت سے آزادی کے تناظر میں اور جمہوریت کی خوشی کو موضوع بنایا۔جوش  ملیح آبادی کا بہت مشہور قطعہ ہے 
سنواے بستگان زلف گیتی
ندا کیا آرہی ہے آسماں سے 
کہ آزادی کا اک لمحہ ہے بہتر 
غلام کی حیات جاوداں سے
فراق گورکھ پوری نے نظم نما غزل آزادی کے عنوان سے لکھی ہے جس کا مقطع ہے۔
ہمارے سینے میں شعلے بھڑک رہے ہیں فراق 
ہماری سانس سے روشن ہے نام آزادی 
شعرا نے وطن سے محبت کے جونغمے گائے اور جس طرح اپنی وطن دوستی کا ثبوت دیا اور لوگوں نے اس جذبے کو بیدا رکیا اس نے تحریک آزادی کو مہمیز کیا۔لال چند فلک نے ”سچے وطن پرست کا گیت“کے نام سے نظم لکھی اس کا ایک شعر ملاحظہ ہو۔
دل سے نکلے گی نہ مرکر بھی وطن کی الفت 
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفاآئے گی
سرور جہان آبادی نے گلزار وطن کے نام سے نظم لکھی اوراس میں وطن سے الفت ومحبت کے گیت گائے۔ایک طرف جہاں اس وحدت کے مختلف نمونے پیش کیے وہیں اس جنت نشاں کے بارے میں کہاکہ سارے جہاں کی فضائیں یہاں جلوہ گر ہیں۔اور آخر میں یہ پیغام دیا  ؎
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں 
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں  
شاعری بنیادی طور پر اعلی اقدار اور تعمیر قدروں کی ترجمان رہی ہے۔اور اس نے ہمیشہ انسانیت کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔آزادی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔غلام بنانا اورانسانوں سے غلاموں جیسا سلوک کرنا کسی بھی مہذب معاشرہ کو زیب نہیں دیتا۔آزادی انسان کو ایک مہذب معاشرہ کی طرف لے جاتی ہے۔جمہوری اقدار بھی یہی سکھاتے ہیں۔انسانیت کے لیے آج کی یہ سب سے بڑی ضرورت ہے۔اردو شاعری نے نہ صرف جمہوریت کے تصور کو مضبوط کیا بلکہ اسے انسانی قدروں سے جوڑ کر ایک زندہ روایت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری آج بھی ہندوستانی جمہوریت کی فکری روح کی ترجمان ہے۔